کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6131ویں روز بھی جاری، جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ

8

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ اپنے 6131ویں روز میں بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کو مسلسل ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بلوچ افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں، جو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں ویران علاقوں میں پھینک دینا نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلام میں بھی اس طرح کے انسانیت سوز عمل کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسے ماورائے قانون اقدامات ریاست کی خدمت یا ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہیں تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے بلوچستان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اہلِ بلوچستان، بالخصوص بلوچ قوم کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور فوری طور پر جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے سلسلے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور جن افراد پر الزامات ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کر کے قانونی کارروائی کا حق دیا جائے۔ اگر کوئی فرد قصوروار ہے تو اسے عدالتوں کے ذریعے سزا دی جائے، جبکہ ریاستی اداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے تمام اقدامات آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیں۔