بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ڈی ریڈیکلائزیشن ایکٹ 2025 بلوچ نسل کشی کی ایک نئی شکل ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

38

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان پریوینشن آف حراست اور انسدادِ شدت پسندی ایکٹ 2025 دراصل بلوچ نسل کشی کی ایک نئی اور خطرناک شکل ہے، جس کے ذریعے جبری گمشدگیوں کو قانونی جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔

اپنے بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں کئی دہائیوں سے ایک سنگین مسئلہ رہی ہیں اور اس وقت تقریباً ہر بلوچ گھرانہ اس اذیت سے متاثر ہے۔ بیان کے مطابق ریاستِ پاکستان کے مختلف ادارے اس عمل میں کسی نہ کسی سطح پر ملوث رہے ہیں، جبکہ عدالتیں اور کمیشن اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اکثر متنازع بنانے یا کمزور کرنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ موجودہ نام نہاد حکومت نے جبری گمشدگیوں میں مزید اضافہ کیا ہے جو فسطائیت کی بدترین مثال ہے، جبکہ صوبائی قیادت بھی اس مسئلے کو متنازع بنانے میں پیش پیش رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاستی نمائندے جبری گمشدگیوں کو خود روپوشی، انسدادِ بغاوت اور دہشت گردی جیسے بیانیوں سے جوڑ کر اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بیان کے مطابق 5 جون 2025 کو منظور کیے گئے اس ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو محض شبہ کی بنیاد پر بغیر ایف آئی آر تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جبکہ زیرِ حراست افراد کو عدالت میں پیش کیے بغیر حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جہاں مکمل ثبوت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ یہ قانون نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اسے جبری گمشدگیوں کو قانونی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اس ایکٹ کے ذریعے ریاستی اداروں کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں، جن کے تحت وہ کسی بھی فرد کو بغیر ثبوت اور عدالتی نگرانی کے حراست میں رکھ سکتے ہیں، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ قانون میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی، تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا۔ کمیٹی کے مطابق قانون کے نفاذ کے بعد صرف دو ماہ کے اندر سینکڑوں بلوچ افراد کو لاپتہ کیا گیا، جن میں سے اکثر تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے خاندانوں کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ متعدد افراد کو ماورائے عدالت قتل بھی کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس ایکٹ میں چینی طرز کے ماڈل کی نقل کی جا رہی ہے، جہاں ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھ کر ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ان کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اسی طرز کو بلوچستان میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کے مطابق انسدادِ شدت پسندی کے نام پر قائم کیے گئے حراستی مراکز میں افراد کو شدید تشدد اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور انہیں سیاسی و سماجی سرگرمیوں سے دور رہنے اور ریاستی بیانیہ قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ رہائی کے بعد بھی متاثرہ افراد شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے گرد ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کے تحت لواحقین کو دباؤ میں لا کر اپنے پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کروائی جاتی ہے، اور بعد ازاں انہی افراد کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔

بیان کے آخر میں بلوچ قوم سے اپیل کی گئی کہ وہ اس نئی شکل میں جاری بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز بلند کریں اور جبری گمشدگیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس قانون اور اس کے تحت ہونے والی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے کر آزادانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔