کابل: بحالی مرکز پر فضائی حملہ، 400 افراد جاں بحق، 250 زخمی

158

افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا ہے کہ کابل میں ایک منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے پاکستان کی فضائی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 400 ہو گئی ہے جبکہ 250 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق حملے میں بڑی تعداد میں عام شہری نشانہ بنے۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق رچرڈ بینیٹ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، خصوصاً شہریوں اور عوامی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ادھر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں اور عوامی مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس واقعے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

دریں اثنا افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی راستہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔