کابل: بحالی مرکز پر فضائی حملہ، 400 افراد جاں بحق، 250 زخمی

1

افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا ہے کہ کابل میں ایک منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے پاکستان کی فضائی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 400 ہو گئی ہے جبکہ 250 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق حملے میں بڑی تعداد میں عام شہری نشانہ بنے۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق رچرڈ بینیٹ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، خصوصاً شہریوں اور عوامی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ادھر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں اور عوامی مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس واقعے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

دریں اثنا افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی راستہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس حملے کا جواب دیا جائے گا۔