پنجگور سے والد کی طرح بیٹا جبری لاپتہ و لاش برآمد

59

ضلع پنجگور میں ایک دن کے اندر دوسری لاش برآمد ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ مقامی ذرائع اور پولیس کے مطابق پنجگور کے علاقے وشاپ پل کے قریب ایک نوجوان کی لاش ملی ہے جس کی شناخت ضمیر ولد ناصر ڈگار زئی کے نام سے کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ضمیر کو 3 مارچ کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ تاہم کئی دن گزرنے کے بعد اب اس کی لاش برآمد ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے خاندان سے جڑا ہے جس کی داستان پہلے ہی ایک المناک تاریخ رکھتی ہے۔ ضمیر کے والد ناصر ڈگار زئی کو 2011 میں پاکستانی فورسز نے اغوا کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت انہیں گولیاں مار کر لاش سمجھ کر پھینک دیا گیا تھا تاہم وہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے تھے۔

لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ جولائی 2011 میں ناصر ڈگار زئی کو دوبارہ اغواء کیا گیا اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔

اب برسوں بعد ان کے بیٹے ضمیر کی ہلاکت نے اس خاندان کے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔ ضمیر کو بھی چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے۔

واضح رہے کہ پنجگور میں اسی روز اس سے قبل بھی ایک اور شخص کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کا تعلق ضلع قلات سے بتایا جا رہا ہے۔