طاقت اور تہذیب کا تعلق، حالیہ جنگوں کے تناظر میں
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
امریکی محقق سیموئل ہنٹنگٹن نے آج سے تین دہائی پہلے اپنی کتاب The Clash of Civilizations میں لکھا تھا کہ آنے والے دنوں میں جنگیں نظریاتی اور معاشی مفادات کے بجائے تہذیب اور ثقافتی بنیادوں پر ہوں گے جبکہ طاقت کا مرکزی نقطہ اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا پر حاوی رکھنے کے لیے ہوگا۔ گوکہ نظریہ اور معاشی مفادات آج بھی کسی بھی جنگ یا طاقت کے اتار چھڑاؤ میں ایک مرکزی نقطے کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن تہذیب کو لیکر ہٹنگٹن نے جو کچھ کہا تھا وہ کسی حد تک حقیقی شکل میں ہمارے سامنے آ رہا ہے لیکن جہاں تک تہذیب کی بات ہے اس کے قیام کے تعلق میں طاقت کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور حالیہ جنگوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی تہذیب کے قیام اور اس کے برقرار رہنے میں طاقت ہی بنیادی پہلو ہے۔ جو بھی تہذیب طاقت سے محروم ہے وہ دنیا میں اپنی بقاء کو یقینی نہیں بنا سکتا اور جو طاقت ور ہے وہی فیصلہ کرتا ہے کہ عالمی نظام میں کیا ہونا چاہیے۔
انسانی تہذیب کو لے کر دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں نے لکھا، پڑھا اور اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ آج بھی دنیا میں بیشتر ممالک یا نظریہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا کی حقیقی تہذیب کا وارث ہیں یا جو نظریہ اور طریقہ کار تہذیب کو لے کر وہ پیش کرتے ہیں وہ حقیقی ہیں، لیکن طاقت نے انسانی تاریخ میں ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ دنیا کی کوئی حقیقی اور لاحاصل انسانی تہذیب نہیں بلکہ یہ طاقت کا پیدا کردہ ایک معیار ہے، اور جو طاقت ور نے چاہا، وہ تہذیب بدل سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج یورپ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
یورپ سمجھتی ہے کہ انسانی تہذیب کو لے کر جو نظریہ، عقائد، فکر اور طرز زندگی وہ پیش کرتی ہے وہ انسانی تہذیب کی حقیقی شکل ہے، لیکن امریکہ نے جب یورپی طاقت سے بڑھ کر طاقت قائم کی تو وہی امریکی نظریات و افکار کو یورپ نے مکمل طور پر اپنا لیا۔ آج امریکی نظریہ و عقائد صرف یورپ میں نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ آج دنیا کے تعلیمی نظام میں ریئلزم اور لبرلزم کو لے کر جو بنیادی فکر سمجھائی جاتی ہے، اس میں یہی سوچ کارفرما ہے جسے آج امریکی حکمران استعمال کر رہے ہیں یا جو کسی نہ کسی طور طاقتور ریاست نے بنایا ہے۔
آج امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ کو دیکھا جائے تو بنیادی طور پر دو تہذیبیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس کے درمیان موجود جتنے بھی قوانین، انسانی تعلقات یا اقوام متحدہ کے چارٹر میں لکھے گئے قوانین موجود ہیں، وہ سب اس وقت غیر مؤثر اور بے بنیاد ہو چکے ہیں۔ اس وقت طاقت ہی اس بات کا فیصلہ کر رہی ہے کہ بہترین تہذیب کیا ہونا چاہیے، لیکن اگر دیکھا جائے تو طاقت اپنے اندر ایک تہذیب کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ دنیا میں تمام ریاستیں یا قومیں ریاستی مفادات کے نام پر اس طاقت کو حاصل کرنا چاہتی ہیں جو آج مغربی ممالک یا بالخصوص امریکہ کے پاس موجود ہے۔ اسی طاقت کا ایک اہم مرکز جوہری ہتھیار ہیں، جسے امریکہ اور مغربی طاقتیں کسی بھی طور پر اسلامی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں دینے کو تیار نہیں، اور یہی ایٹمی ہتھیاروں نے آج پنجابی جیسے غیر تہذیب یافتہ، غیر انسانی سماج کو قائم رکھا ہے، جس کی کوئی فکری، نظریاتی، مذہبی، اخلاقی اور تہذیبی بنیاد نہیں، لیکن جس کے پاس ایک فوج ہے اور اس فوج کے پاس جدید ہتھیاروں سمیت جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں۔ جبکہ فلسطین جیسی تہذیبی ریاست، جس کی ہزاروں سالوں پر مبنی تاریخ ہے، جس کی قومی شناخت اور اپنے کلچرل ویلیوز ہیں، تاریخی طور پر اس خطے میں ایک ریاست کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن آج وہ بے اثر اور انسانی تہذیب میں ایک گمنام کہانی بنتی جا رہی ہے کیونکہ اس کے سامنے اسرائیل جیسا ایک طاقتور ریاست موجود ہے، جو فلسطین کو صحفہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے، کیونکہ وہ اس کو اپنے وجود کے لیے خطرہ ہے۔
دنیا میں جو بھی نظریہ ہو، چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی، سب نے اپنا نظریہ طاقت کے طور پر مسلط کیا ہے۔ مغربی نظریات دنیا میں اس وقت پھیلے جب یورپی کالونائزیشن کے دور میں برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک نے دنیا بھر کے خطوں پر اپنا قبضہ جمایا اور وہاں جا کر وہی سوچ، نظریہ، خیالات اور طرز زندگی اپنائی جسے دیکھ کر کمزور لوگ اسے حقیقی زندگی اور تہذیب سمجھ کر اپنانے کی کوشش کرنے لگے۔ آج بھی تھرڈ ورلڈ ممالک میں یورپی کلچر کو اپنانے والے لوگ خود کو پڑھا لکھا اور تہذیب یافتہ سمجھتے ہیں، جبکہ گاؤں کے وہ لوگ جو یہی طرزِ زندگی اپنانے سے انکار کرتے ہیں، جاہل سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی بنیادی وجہ یورپی طاقت ہے۔ اب طاقت صرف فوجی شکل میں نہیں بلکہ معاشی، تعلیمی، اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ سب سے طاقتور چیز تہذیب کا پھیلاؤ ہے، اور تہذیب وہی ہے جو طاقتور کا طرز زندگی ہے۔ آج اگر مغربی تعلیم، طرز زندگی، علم، ایڈمنسٹریشن اور ریاستی نظام دنیا میں قائم ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ مغرب کا طاقتور ہونا ہے۔ اگر یہی طاقت، جو آج مغرب کے پاس ہے، کل کو شمالی کوریا، چین یا ایران کے پاس چلی جائے، تو دنیا بھر میں انہی ممالک اور ان کی تہذیب کو بیشتر مقامات پر اپنایا جائے گا، کیونکہ انسانی تہذیب کی علم، قوانین اور سوچ کی بنیاد طاقتور ہی رکھ رہا ہے۔
جس اقوام متحدہ کو ہم دنیا میں انسانی حقوق کا چیمپین یا بنیادی طاقتور ادارہ سمجھتے ہیں، دراصل وہ امریکہ اور مغربی ممالک نے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کی تھی تاکہ ان کے مفادات اور نظریات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ اس کی بنیاد افریقہ یا کسی کمزور قوم کو مدنظر رکھ کر نہیں رکھی گئی۔ آج بھی غلام قومیں یا کمزور لوگ اسی ادارے سے امید لگائے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ میں ویٹو طاقت بھی موجود ہے، جو پانچ طاقتور ممالک کے پاس ہے، اور یہ ممالک دنیا کے کسی بھی فیصلے کو اکیلے ٹال سکتے ہیں یا اپنے خلاف کسی بھی فیصلے کو اقوامِ متحدہ میں رد کر سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر دیکھا جائے تو اقوامِ متحدہ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جو ان پانچ ممالک کے مفادات یا نظریات کو تحفظ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور اس کے اصولوں کا اطلاق ان طاقتور ممالک پر ہوتا ہی نہیں۔
ہنٹنگٹن نے کتاب میں لکھا تھا کہ یورپ اپنی تہذیب کھو رہا ہے اور یورپی رویے کی وجہ سے دنیا بھر کے مختلف خطوں میں قومیں اپنی تہذیب کو لے کر مزاحمت کر رہی ہیں، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مغربی تہذیب صرف طاقت کی بنیاد پر قائم ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ امریکہ آنے والے سالوں میں اپنی طاقت کو کسی بھی طرح غیر مؤثر ہونے نہیں دے گا، اور بالخصوص اسرائیل کی طاقت اور مغربی تہذیب میں موجودگی اور کردار کی وجہ سے یہ دن بدن طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یورپ کسی حد تک اپنا اثر و رسوخ کھو چکی ہے، لیکن اسرائیل کے ابھرنے اور مغربی بلاک میں شمولیت اور بدترین طاقت کی ایجاد نے یورپی سوچ کو انتہائی طاقتور بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ اب عرب ممالک، جو تاریخی طور پر بڑے تہذیب یافتہ اور اپنا کلچر و ثقافت رکھنے کا دعویٰ دار ریاستیں ہونے کے باوجود، وہی تمام طریقہ زندگی، کلچر اور ایڈمنسٹریٹو پالیسیز اپنا رہی ہیں جو مغرب کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ مغربی طرز کی انفراسٹرکچر کی ترقی ہو یا انسانی آزادیوں اور کھیل کو لے کر جو طریقہ کار یا شہروں کو ترقی کا ماڈل بنایا جا رہا ہے، یہ سب کچھ امریکی اور مغربی تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔
بدترین طاقت کا استعمال اور طاقت پیدا کرنا مغربی تہذیب کا سب سے اہم اور مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ریئلزم کی تعلیمی نظریات کا جائزہ لے کر دیکھا جائے یا امریکی و مغربی ممالک کے کمزور ریاستوں کے ساتھ برتاؤ اور رویے کو دیکھا جائے، اس میں جو بنیادی نقطہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے وہ طاقت کا بنیادی پہلو ہے۔ مغربی تہذیب کی بنیاد طاقت پر قائم ہے، اور جب تک مغرب کے پاس یہ طاقت رہے گی اور دنیا کی کوئی الگ ریاست، قوم یا ملک خود ایسی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی جو دنیا بھر میں اپنے فیصلے مسلط کرنے کی صلاحیت رکھے، ایسے میں دنیا بھر میں تہذیب بھی اسی کا پیدا کردہ ہوگی جو طاقتور ہوگا۔
آج جن قوانین کو توڑنے کا رونا رویا جاتا ہے، جن قوانین کی پاسداری کا رٹا لگایا جاتا ہے یا اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کا حوالہ دے کر بات کی جاتی ہے، لیکن حقیقت سے ناآشنا لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ تمام مغرب کے اپنے پیدا کردہ تعلیمات اور ادارے ہیں، اور ایسے کیسے ممکن ہے کہ جن تعلیمات اور نظریات کی بنیاد خود یورپ نے اپنی تہذیب کو لے کر رکھی ہے، وہ مغرب کے خلاف استعمال ہوں۔ انسانی تہذیب کے بارے میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ صرف طاقتور کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں، اور کوئی بھی نظریہ یا تہذیب خود سے دنیا میں نہیں پھیلا ہے یا اپنی سچائی یا حقیقت کی وجہ سے نہیں پھیلا، بلکہ اس کے پیچھے ایک طاقت کی بنیاد موجود رہی ہے۔
کمیونزم بنیادی طور پر ایک یورپی تہذیب کا حصہ تھا، جسے بعدازاں روس کی شکل میں ایک طاقتور قوم ملا، تو وہ دنیا بھر میں روسی تہذیب کی شکل میں پھیل گیا، اور کمیونزم بھی طاقت اور جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں پھیلنے میں کامیاب ہوا۔ دنیا میں جس بھی نظریے، عقیدے، مذہب اور فکر نے جنگ لڑنے اور طاقت حاصل کرنے کی بنیادی فلسفہ کو رد کیا ہے، دنیا بھر میں اس کا خاتمہ ہوا ہے۔ آج یہودی نظریہ اس لیے قائم ہے کیونکہ اسرائیلی طاقت اس نظریے کو زندہ رکھنے کے پیچھے موجود ہے۔ آج اگر ہندوستان آزاد نہ ہوتا اور اپنی ایک الگ ریاست بنانے میں کامیاب نہ ہوتا، تو ہندو مذہب کسی حد تک ختم ہو چکا ہوتا۔ یا اسلام کا تاریخی جائزہ لیا جائے، تو یہ طاقت اور جنگوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔ یہ ایک خطے سے دوسرے خطے تک اسی طرح پھیلا ہے، بلکہ بدترین انداز میں، جس طرح یورپی یا مغربی قبضہ پہنچ چکا تھا۔
طاقت کا تہذیب کے ساتھ رشتہ ایسے ہے جیسے انسانی جسم کا روح کے ساتھ۔ دنیا میں ایسی کوئی بھی تہذیب غیر معنیٰ اور بے مقصد ہے جو طاقت حاصل کرنے سے محروم ہو، اور بدترین تہذیب وہی ہے جو محرومی پر قائم ہو۔ ایسی تہذیب، جو قوموں کی بنیاد ہوتی ہے، ان کے زندہ رہنے کے لیے طاقت کا اصول اور طاقت کا قائم رہنا ضروری ہے۔ آج مغرب یا امریکہ ایران پر صرف جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے لیے حملہ آور نہیں ہیں، بلکہ وہ مغربی تہذیب کو بچائے رکھنا اور اس کا غلبہ قائم رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں، کیونکہ ایران کی ناکامی صرف ایک ریاستی ناکامی نہیں بلکہ پارسی تہذیب کی ناکامی ہوگی اور شعیہ نظریے کی دنیا بھر میں غیر مؤثر ہونے کی بنیاد بنے گی، جو امریکہ اور مغرب کی تہذیب کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس خطے میں مغربی تہذیب کے سامنے رکاوٹ طاقت کا خاتمہ ہوگی، کیونکہ طاقت ایک تہذیب کا سب سے عملی اور حقیقی شکل ہے۔ موجودہ عالمی آرڈر اور تعلیم جس کی بنیاد یورپ ہے، اس کے اندر طاقت ہی تہذیب کا عملی نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں سیاہ چہرے والے لوگوں کو خوبصورتی کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا، اور جب کوئی انسان سیاہ رنگ میں جنم لیتا ہے اور وہ وائٹ لوگوں کے اندر رہتا ہے، تو وہ مسلسل تذلیل اور کم انسانیت محسوس کرتا ہے۔ اگر آج دنیا پر افریقہ کا قبضہ ہوتا اور یہی طاقت افریقی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی جو آج مغربی طاقتوں کے پاس ہے، تو یقیناً سیاہ انسان ہونا کسی کے لیے بھی خوشی کا سبب ہوتا، اور سفید ہونے سے انسان کو نفرت ہوتی۔
آج طاقت تہذیب کی حقیقی شکل ہے، اور یہ طاقت اب کیسے حاصل کی جاتی ہے، اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ بحث کی ضرورت ہے، جو اس مضمون میں کرنے کی گنجائش نہیں۔ البتہ طاقت کو ہمیں صرف فوجی نقطہ نظر سے دیکھنا نہیں چاہیے، بلکہ طاقت سے مراد ایک نظریہ اور فلسفہ ہے۔ یعنی اگر ہم نیشنلزم کے نظریے کا پرچار کرتے ہیں یا اس کے اخلاقیات کو دنیا کے سامنے بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا مہذب ہونے کی باتیں کرتے ہیں، لیکن موجودہ انسانی تہذیب کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ طاقت کو حاصل کرنے کے جو بھی طریقہ کار ہوں، جو بھی قربانی درکار ہو، اور جس حد تک بھی قربانی دینی پڑے، وہ دی جائے، کیونکہ طاقت تہذیب کی بنیاد ہے، اور طاقت کے بغیر آپ کے نظریے، سوچ اور تہذیب کی کوئی حقیقت موجود نہیں رہے گی۔ آج ہم مغربی اور پنجابی تہذیب کے سائے میں جی رہے ہیں۔ چند لمحے سوچیں، اس تہذیب کا ہم سے یا ہماری تہذیبی فکر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قوم سے غداری ہو، یا اخلاقی و مالی کرپشن، سماجی گندگی ہو، یا خواتین کو چادر و چاردیواریوں میں بند کرنا، یا خود کو کمزور سمجھنا اور دشمن کو طاقتور سمجھنا، یا اس خیال میں رہنا کہ “میں کچھ نہیں کر سکتا” یا “دشمن طاقتور ہے”، حقیقت میں ایک قبضہ گیر فوجی جیسا خوفزدہ انسان دنیا میں کوئی بھی انسان نہیں ہو سکتا۔ اس کی دلیری اور طاقت کا معیار صرف اس بات پر منحصر رہتا ہے کہ غلام اس کے فلسفے کا حامی ہے اور اس کو برداشت کر رہا ہے۔ غلام سمجھ رہا ہے کہ وہ کمزور ہے، اور یہی سوچ اور خیال قبضہ گیر کی طاقت کی بنیاد ہے۔
جب ہم جنگ یا طاقت کی بات کرتے ہیں، یا طاقت حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں، تو اس کا تعلق صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ ہم ایک قیادت، ایک لیڈر، یا ایک قوم یا چند انسانوں کو نوازنے کی بات کر رہے ہیں۔ بلکہ جب ہم طاقت حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں، یا جنگ میں بدترین طاقت کے اصول و استعمال کی بات کرتے ہیں، تو اس کا بنیادی فکر یہی ہے کہ طاقت کے بغیر انسان شناخت سے محروم ہے، اور جب کوئی انسان شناخت سے محروم رہتا ہے تو وہ انسانی تہذیب کے دائرے میں نہیں آتا۔ پھر اس کے جذبات اور احساسات کی انسانیت کے اندر کوئی حیثیت یا معنی نہیں رہتی، اور انسانی تہذیب اور قوانین میں وہ شامل نہیں ہوتا۔ جب ہم طاقت کے اصول کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف ایک ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ہم انسانیت کو حاصل کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں، یا آپ سے جینے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ کیونکہ طاقت سے محروم انسان کو انسانیت کے اندر شمار نہیں کیا جاتا؛ وہ کیڑے مکوڑے بن جاتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ یہ ہمیشہ اسی طرح رہے۔ اگر کل کو بلوچ ایک طاقت بن جاتا ہے، ایک عظیم طاقت کی تشکیل کرتا ہے اور موجودہ آرڈر کو متاثر کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، تو وہ ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھے گا جو یقینا موجودہ آرڈر اور مغربی انسانی تہذیب سے مختلف ہوگی، جو اخلاقی طور پر ناکارہ ہے، یا اس مذہبی تہذیب سے یقینا مختلف ہوگی، جس میں خواتین کو انسان تصور نہیں کیا جاتا۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ طاقت کو تہذیب اور انسانی زندگی کے بنیادی فلسفے کے طور پر دیکھا اور پڑھا جائے۔ دنیا کی کوئی بھی تہذیب اس وقت تک ایک حقیقی تہذیب نہیں بنتی جب تک اس کے پاس طاقت نہ ہو۔
موجودہ جنگیں یقینا آنے والے دنوں میں ہمارے خطے میں صرف سیاسی تبدیلیوں کا سبب نہیں بنیں گی بلکہ ہمارے انسانیت اور تہذیب کے لیے بھی اہم ہوں گی، کیونکہ طاقتور قوتیں ہی انسانی تہذیب کی بنیاد رکھتی ہیں۔ اگر ہم نہیں چاہتے کہ کل ہم بھی بچوں کو ریپ کرنے جیسی انتہائی غلیظ تہذیب تک نہ پہنچیں، یا ہم نہیں چاہتے کہ اخلاقیات کا معیار اس حد تک نہ گریں کہ بچوں کو قتل کرنے یا معصوم لوگوں کو قتل کرنے کو فوجی حکمت عملی سمجھا جائے، تو اس کے لیے طاقت کا اصول یقینی اور اہم ہے۔ ہم ایک بہترین تہذیب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن جب تک ہم وہ طاقت نہیں بنیں گے جو اثرانداز ہو اور جو دنیا میں اثرانداز ہونے کی صلاحیت پیدا کر سکے، اس وقت تک ہم صرف تاریخ کے تماشائی رہیں گے اور ان تمام غیر انسانی تہذیبوں کو اپناتے رہیں گے جو مختلف طاقتوں کی صورت میں ہمیں ملتی رہیں گی۔
بلوچ نوجوان یاد رکھیں، آج تنظیم موجود ہے، طاقت کی بنیاد رکھنے والی سوچ موجود ہے، قیادت موجود ہے۔ یقینا یہ مکمل نہیں، لیکن ایک بنیاد قائم ہے، اور یہ ہماری تہذیب اور انسانیت کے لیے ایک اہم جنگ ہے، جو اس وقت ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم ناقابل شکست طور پر طاقتور ہوں گے، جہاں ہمارے مقابلے میں دنیا کا کوئی بھی انسان پہنچنے سے محروم رہے گا۔ ایسے میں ہی ہم اپنی شناخت یا ایک ریاست قائم نہیں کریں گے، بلکہ ہم اس خطے کو اور عالمی دنیا کو ایک متبادل تہذیب دیں گے، جو یقینا موجودہ انسانی تہذیب سے کئی گنا زیادہ بہتر ہو سکتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































