زیرِ حراست خاتون کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ بی ایل اے

4

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ 18 مارچ 2026 کو کوئٹہ میں قابض کے تنخواہ دار کارندے، ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ اور بلوچ نسل کشی کے مرکزی سہولت کار سرفراز مسوری کی پریس کانفرنس اسی فرسودہ اور ناکام ریاستی اسکرپٹ کا اعادہ ہے، جس کے ذریعے یہ جنگی منافع خور قابض فوج سے شاباشی بٹور کر اپنی نوکریاں پکی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے کہ جس خاتون کو فدائی بنا کر پیش کیا گیا، اس کا ہماری تنظیم یا کسی بھی عسکری مشن سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی فعال شرکت اب ایک ایسی ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے جس نے ریاستی ڈھانچے کی بنیادیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ قابض ریاست اس شعوری بیداری سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ اب بلوچ خواتین کی آواز کو دبانے کے لیئے ایسی اوچھی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ سرفراز مسوری جیسا شخص، جو تاحیات دشمن کا وفادار کارندہ رہا ہے، آج بلوچ چادر و چار دیواری کو پامال کر کے ایک نہتی بلوچ بہن کو میڈیا کے سامنے بٹھا کر اپنے آقا جرنیلوں کو خوش کرنے کی تگ و دو کررہا ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک ایسا شخص، جس کے ہاتھ بلوچوں کے خون سے رنگے ہیں، آج اسی منہ سے بلوچی غیرت و اقدار کا راگ الاپ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہے کہ ریاستی ادارے بارہا معصوم شہریوں کو جبری لاپتہ کرنے کے بعد انہیں پریس کانفرنسوں میں مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کا جھوٹ ہر بار بے نقاب ہوتا رہا ہے۔ ان کے پاس اب کوئی نیا بیانیہ یا موثر حکمت عملی نہیں بچی۔ ماضی میں ماہل بلوچ کا کیس اس کی واضح مثال ہے، جنہیں ۱۷ فروری ۲۰۲۳ کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد “خودکش بمبار” قرار دے کر بھرپور میڈیا ٹرائل کیا گیا، تاہم تمام تر ریاستی دباؤ کے باوجود دشمن کی اپنی ہی عدالتوں کو بالآخر انہیں رہا کرنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قابض کو بلوچستان میں سرمچاروں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے، وہ انتقامی طور پر عام شہریوں اور خواتین کو نشانہ بنا کر اسے “انٹیلی جنس کامیابی” کا نام دے دیتی ہے۔ موجودہ ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ عوامی توجہ کو آپریشن ہیروف کی حالیہ تاریخی کامیابیوں اور قابض ریاست کی مکمل عسکری شکست خوردگی سے ہٹایا جاسکے۔

آخر میں کہاکہ بی ایل اے یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ بلوچ قومی تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں دشمن کے یہ بھونڈے پروپیگنڈے اپنا اثر کھو چکے ہیں۔ ہم اپنی سرزمین کے دفاع اور مکمل آزادی تک اپنی ضربیں پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔ قابض کے آلہ کار یاد رکھیں کہ بلوچ لبریشن آرمی اور تاریخ کی عدالت ان کا کڑا محاسبہ ضرور کرے گی۔