دو سال بعد پشتون رہنما علی وزیر سکھر جیل سے رہا

0

پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ رہنما علی وزیر کو تقریباً دو سال قید میں رہنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، وہ گزشتہ دو برس سے سندھ کے شہر سکھر کی جیل میں قید تھے۔

علی وزیر کو 3 اگست 2024 کو اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے کے بعد اسلام آباد پولیس نے پمز اسپتال سے گرفتار کیا تھا، گرفتاری کے بعد انہیں مختلف جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا اور وہ تقریباً 21 ماہ تک زیر حراست رہے۔

اس دوران ان کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے جبکہ بعض مواقع پر انہیں تھری ایم پی او (3MPO) کے تحت بھی نظر بند رکھا گیا۔

آج ایڈیشنل رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد کی جانب سے علی وزیر کی رہائی کا رِٹ جاری کیا گیا، جس کے بعد انہیں سکھر جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

پشتون تحفظ مومنٹ اور پشتون سیاسی کارکنان نے انکی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ریاست نے دو سال تک پشتون آوازوں کو دبانے کی کوشش کی، تاہم علی وزیر ریاست کے سامنے زیر نہیں ہوئے اور تمام قید او بند کے باوجود وہ ثابت قدم رہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ علی وزیر اب بھی پہلے جیسے پشتونوں کے آواز بنیں رہینگے اور مزید شدت سے پشتونوں کے خلاف جاری ریاستی و غیر ریاستی مظالم کے خلاف مزاحمت کرینگے۔