بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے والے اپنے تین سرمچاروں کے تفصیلات جاری کردئے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے میڈیا چینل ہکل پر جاری کردہ تفصیلات میں کہا ہے قلات گزگ کے رہائشی ظفر نیچاری عرف مسلم ولد علی نواز 14 اپریل 2025 میں بی ایل اے میں شامل ہوئے۔
تنظیم کے مطابق قلات کے سنگلاخ پہاڑوں اور گزگ کی غیرت مند سرزمین سے تعلق رکھنے والے ظفر نیچاری عرف مسلم اُن جرات مند سرمچاروں میں شامل تھے، جنہوں نے دشمن کی غلامی پر موت کو ترجیح دی۔
بی ایل اے کے مطابق انہوں نے نہایت کم عمری میں شعور کی منزلیں طے کیں اور 14 اپریل 2025 کو باقاعدہ طور پر مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، ظفر نیچاری اپنے بلند کردار، جفاکشی اور تنظیمی نظم و ضبط کی بدولت جلد ہی اپنے دستے کے ایک معتبر سرمچار بن کر ابھرے، ان کا پختہ ایمان تھا کہ قومی آزادی کی منزل صرف اور صرف قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران، جب دشمن کے خلاف ملک گیر ضربیں لگائی جارہی تھیں، ظفر نیچاری نوشکی کے محاذ پر ہراول دستے کا حصہ بنے۔
بی ایل اے نے کہا نوشکی کے تزویراتی مقام پر قابض فوج کے خلاف ہونے والی خونریز جھڑپوں کے دوران انہوں نے کمالِ بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا، اسی شدید معرکے کے دوران وہ بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے اور ہمیشہ کے لیئے تاریخِ بلوچستان میں امر ہوگئے، ان کی یہ عظیم قربانی بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے ماتھے کا جھومر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
بی ایل اے میڈیا ونگ نے اپنے ایک اور ساتھی شعیب شاہ عرف میرک ولد محمد عمر شاہ سکنہ پیر شار، زہری کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ 16 اگست 2025 میں تنظیم کا حصہ بنے اور ایس ٹی او ایس میں اپنی زمہ داریاں سرانجام دئے۔
بی ایل اے نے کہا ہے زہری کی تاریخی و غیرت مند سرزمین سے تعلق رکھنے والے شعیب شاہ عرف میرک اس نظریاتی قافلے کے مسافر تھے، جنہوں نے غلامی کی تاریکی کو مٹانے کے لیئے اپنی جوانی کا چراغ روشن کیا، 16 اگست 2025 کو جب انہوں نے بی ایل اے کے پرچم تلے مسلح مزاحمت کا حلف اٹھایا، تو ان کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ ایک باوقار قومی وجود کی بحالی تھی۔
انہوں نے کہا ان کی غیر معمولی ذہانت، عسکری نظم و ضبط اور سخت کوشی نے انہیں تنظیم کے سب سے مستعد اور خصوصی دستے “اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ” (ایس ٹی او ایس) کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔
ہکل میڈیا نے انکے حوالے بتایا شعیب شاہ نے ناگاہو اور قلات کے کٹھن پہاڑی سلسلوں میں دشمن کے خلاف کئی معرکوں کی قیادت کی آپریشن ہیروف فیز 2 کے دوران، نوشکی کے فیصلہ کن محاذ پر، جہاں قابض فوج کے خلاف زمین تنگ کردی گئی تھی، میرک نے ایس ٹی او ایس کے ایک ماہر جنگجو کے طور پر اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔
تنظیم نے کہا اس خونریز معرکے میں جب دشمن نے اپنی پوری قوت جھونک دی، تب بھی شعیب شاہ کے قدموں میں لرزش نہ آئی، انہوں نے آخری گولی تک مادرِ وطن کا دفاع کیا اور ثابت قدمی کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک بلوچ سرمچاروں کے لیئے مینارِ نور بنی رہے گی۔ ان کی شہادت اس عہد کی تجدید ہے کہ آزادی کی قیمت صرف لہو سے ہی چکائی جاسکتی ہے۔
ہکل میڈیا نے تیسرے سرمچار کی شناخت مستونگ سورگز کے رہائشی اسد بلوچ عرف شیرجان ولد حاجی شیر محمد حوالے کہا ہے کہ تنظیم کے ایس ٹی او ایس کے رکن اپریل 2025 میں تنظیم کا حصہ بنیں۔
انہوں نے کہا شہید اسد آزادی کی جدوجہد کے اُن سپاہیوں میں سے تھے جن کے دلمیں اپنی دھرتی اور اپنی قوم کی آزادی کے لیئے گہرا یقین اور غیرمتزلزل عزم موجود تھا، انہوں نے صرف غلامی سے نجات کا خواب نہیںدیکھا بلکہ قبضہ گیریت کے اس نظام کے خلاف عملی مزاحمت کا راستہاختیار کرتے ہوئے بلوچستان کے پہاڑوں میں مسلح جدوجہد کا حصہ بنگئے۔
بی ایل اے نے انکے حوالے بتایا شہید اسد کی زندگی اور قربانی اس حقیقت کی روشن مثال بنگئی کہ آزادی کسی کی عطا نہیں بلکہ ایک ایسا حق ہے جسے عزم،قربانی اور مسلسل مزاحمت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، ایسے کرداراپنی جرات اور ثابت قدمی سے آنے والی نسلوں کے لیے امید اور حوصلےکی ایک زندہ علامت بن جاتے ہیں۔
ہکل میڈیا کے مطابق شہید اسد نے قلات کے محاذ پر اپنے فرائض پوری ذمہ داری کے ساتھانجام دیے اور بعد ازاں اپنی جنگی صلاحیت اور قابلیت کے باعث تنظیمکے خصوصی یونٹ ایس ٹی او ایس کا حصہ بنے، آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران نوشکی کے محاذ پر اسد نے دشمن کے خلاف معرکے میںبھرپور حصہ لیا، اس تاریخی لڑائی میں وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنےساتھیوں کے شانہ بشانہ ڈٹے رہے اور آزادی کے مقصد کے لیے اپنیجان کا نذرانہ پیش کیا۔



















































