اسرائیل کی جانب سے حملوں میں شدت کی دھمکی، ایران کے میزائلوں کی پہنچ میں ریکارڈ اضافہ

1

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی سنیچر کو اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے ایران کے خلاف حملوں میں اضافے کی دھمکی دی ہے جبکہ برطانیہ نے بحرِ ہند میں برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) ایران سے قریباً 2500 میل (چار ہزار کلومیٹر) دور واقع ڈیاگو گارشیا ایئر بیس پر ایرانی حملے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران کے پاس اب ایسے میزائل موجود ہیں جو اس کی سابقہ دعوؤں سے کہیں زیادہ دور تک مار کر سکتے ہیں۔

سنیچر کو ہی ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ نطنز میں ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیب پر فضائی حملہ کیا گیا تاہم رپورٹ کے مطابق وہاں سے کسی قسم کی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اگلے ہفتے ایران کی حکمران تھیوکریسی کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی ’شدت میں نمایاں اضافہ‘ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب ایک ایرانی میزائل کے ٹکڑے تل ابیب کے قریب ایک خالی کنڈرگارٹن (بچوں کے سکول) پر گرے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نادیو شوشانی نے ایکس پر اس سکول کی ویڈیو شیئر کی۔ سکول خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تہران کے رہائشیوں کے مطابق رات بھر اور صبح تک ایران کے دارالحکومت پر شدید فضائی حملے جاری رہے۔

دوسری جانب عراق کے شہر بغداد میں ایک ڈرون نے انٹیلی جنس سروس کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا جس میں ایک افسر ہلاک ہو گیا۔ تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سعودی عرب نے بتایا کہ اس نے محض چند گھنٹوں میں ملک کے مشرقی علاقے میں 20 ڈرونز مار گرائے جہاں تیل کی اہم تنصیبات واقع ہیں۔ وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حملوں اور مزید دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے تھمنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو جاپان کی کیوڈو نیوز سروس کو بتایا کہ ایران ’جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کا مکمل، جامع اور پائیدار خاتمہ‘ چاہتا ہے۔

تضاد پر مبنی پیغامات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی آپریشنز کو ’کم کرنے‘ پر غور کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ خطے میں تین مزید بحری جنگی جہاز اور قریباً اڑھائی ہزار اضافی میرینز بھیج رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پیغام ایران کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں دنیا بھر میں تفریحی اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنانے کا کہا گیا تھا۔

یہ پیش رفت تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی سٹاک مارکیٹ میں مندی کے بعد ہوئی جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے بحری جہازوں پر لدے ایرانی تیل پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو کیا جا سکے۔

بحرِ ہند میں ڈیاگو گارشیا بیس پر حملے کی کوشش

برطانوی حکام نے جمعے کو اس فضائی اڈے پر ہونے والے ناکام حملے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے سنیچر کو کہا کہ ایران کی جانب سے ’پورے خطے میں جارحیت اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنانا برطانوی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ ہے۔‘

برطانیہ نے اب تک ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں براہِ راست حصہ نہیں لیا لیکن اس نے امریکی بمبار طیاروں کو ایران کے میزائل ٹھکانوں پر حملے کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

نطنز جوہری تنصیب پر حملہ

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’میزان‘ کے مطابق تہران سے 220 کلومیٹر دور نطنز کی جوہری تنصیب پر ہفتے کے حملے کے بعد کوئی تابکاری اخراج نہیں ہوا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ تنصیب جو ایران میں یورینیم کی افزودگی کا اہم مرکز ہے، جنگ کے پہلے ہفتے میں بھی نشانہ بنی تھی جس سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے (آئی اے ای اے) نے تب کہا تھا کہ اس حملے سے تابکاری کے خطرات متوقع نہیں ہیں۔

مقاصد کی تکمیل کے قریب: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کے لیے بدلتے ہوئے جواز پیش کر رہے ہیں جن میں ایران کی قیادت کا تختہ الٹنے سے لے کر اس کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے خاتمے تک کے عزائم شامل ہیں۔ تاہم ابھی تک عوامی سطح پر ایسی کسی بغاوت کے آثار نہیں ملے اور نہ ہی جنگ ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ’ہم اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔‘

یہ بیان ان کے انتظامی اقدامات سے متصادم لگتا ہے کیونکہ ایک طرف خطے میں عسکری طاقت بڑھائی جا رہی ہے اور دوسری طرف کانگریس سے جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر مانگے گئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ مزید 2500 میرینز اور جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے جو پہلے سے موجود 50 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم انہوں نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔