پاکستانی حملوں سے صرف عام شہری متاثر ہوئے، افغانستان میں کوئی مسلح گروہ موجود نہیں: طالبان وزیرِ خارجہ

6

افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کا ایکس پر جاری ایک بیان میں کہنا ہے کہ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کی معاون سیکریٹری جنرل برائے سیاسی امور روزمیری ڈیکارلو کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔

حمد اللہ فطرت کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو میں طالبان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

نائب ترجمان کی ایکس پوسٹ میں کہا گیا: ’افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایسے تمام حملوں میں صرف عام شہری ہی متاثر ہوئے ہیں اور ان حملوں میں کبھی بھی وہ مسلح افراد نہیں مارے گئے جن کو نشانہ بنائے کا پاکستان دعویٰ کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے افغانستان پر الزامات بے بنیاد ہیں۔

حمد اللہ فطرت کے مطابق امیر خان متقی نے مزید کہا کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کے مسلح گروہ موجود نہیں ہیں اور انھوں نے یہ پیش کش بھی کی کہ سفارتی حلقوں سمیت تمام فریق حالیہ فضائی حملے کے مقام کا دورہ کر کے صورتحال کا قریب سے جائزہ لے سکتے ہیں۔