بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 26 فروری 2026 کو قیمتی پتھر اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر وڈھ کے علاقے وہیر میں حملہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق حملے کے دوران ان گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کیے گئے اور ایک گاڑی کو مکمل طور پر نذرِ آتش کر دیا گیا۔
میجر گہرام بلوچ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ یہ کارروائی اس سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت ہم بلوچستان کے وسائل کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے کہا ہم نے اس سے قبل بھی متعدد بار قیمتی معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کے صرف ٹائروں کو برسٹ کر کے ٹرک مالکان اور ڈرائیوروں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ بلوچستان میں جاری لوٹ کھوسٹ میں پاکستانی فوج کی سہولت کاری سے باز رہیں مگر افسوس کہ کچھ عناصر مسلسل اس تنبیہ کو نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔
ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو کوئی بھی قابض فوج کی سرپرستی میں چلنے والے ان استحصالی منصوبوں کا حصہ بنے گا، اسے بلوچ قوم کا دشمن تصور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ترجمان نے مزید کہا ہے بلوچستان کے کسی بھی حصے میں قیمتی معدنیات اور پتھر نکالنے کے منصوبے بلوچ قوم کے معاشی قتل اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا عمل ہے، اب ان عناصر کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع اور سخت کر دیا جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہمارا مشن اپنے قومی وسائل کا تحفظ ہے اور اس راہ میں رکاوٹ بننے والے دشمن کے ہر شریک کار کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ وڈھ کے علاقہ وہیر میں معدنیات لے جانے والے ٹرکوں پر حملہ کر کے نذر آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔















































