قومی تحریک اور ریاستی زوراکی
تحریر: آھوگ حمید بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ قوم جو اس دھرتی بلوچستان کا وارث ہے۔ اس دھرتی کے زرخیز زمین ہو یا معدنی وسائل سے بھرپور خزانہ، اس قوم کا ہی ہے مگر نوآبادیاتی نظام نے اپنے ہوس، لالچ اور معیشت کی بڑھوتری کے لیے اس زمین کو قید خانہ بنارکھا۔ ایک ایسا قید خانہ جہاں عالمی اور اقوام متحدہ کے اصولوں کو روند کر اس قید خانہ کی شکل دے دی گئی اور اسے ہمیشہ کے لیے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا گیا اور رکھا جارہا ہے۔
جہاں عملی طور پر نوآبادیاتی نظام اپنی کالونی رکھنے میں ناکام تو ہوا، وہ بیانوں کے ذریعے خریدے ہوئے صحافیوں (صحافی کہنا بھی ان کا صحافت کے نام پر دھبہ ہے) کو استعمال کر رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام اپنے گزارے ہوئے دنوں کو دیکھ کر اپنے گھس پیٹ بیانوں کو پھیلانے والوں کو قائم رکھ کر اپنے قبضہ گیریت کو دوام پہنچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ دنیا جہاں اس مقولے پر گواہ ہے کہ قابض ملک کا ایک دن میں اس مقبوضہ علاقے سے جانا طے ہے۔ مگر قابض بھی اپنے لوٹ مار کو مکمل کرنے کے لیے کوئی حد سے پار کرسکتا ہے۔
بلوچستان جو 9 ہزار سال پرانی مہرگڑھ تہذیب کا وارث ہے، دھرتی بلوچ قوم کا جو اپنے منفرد رواج و ثقافت، جداگانہ کلچر، زبان اور جغرافیے کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ جو عظیم سلطنتوں کے صورت میں اپنے علاقوں میں حکومت رہا، اسے قابض کی نظر لگ گئی۔ پہلے انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا مگر بلوچ مزاحموں اور سرمچاروں کی مزاحمت اور سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کی وجہ سے انہیں یہاں سے نکلنا پڑا جو بلوچ مزاحمت کی کڑی ہے۔
بلوچ مزاحمت مختلف ادوار میں مختلف قابضوں، لیڈروں اور غداروں کے خلاف جاری رہی اور تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے کہ کوئی قابض گیر یہاں ٹک نہ سکا۔ ہر قابض گیر بھاگ گیا کیونکہ بلوچ دھرتی قلم، بندوق، شعور اور جد و جہد مسلسل کی وہ داستان رکھتی ہے جو شاید کوئی دوسری قوم میں پائی جائے۔ مگر انگریز جاتے جاتے بلوچوں کو 3 مختلف حصوں میں تقسیم کردیا تاکہ “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کامیاب ہو مگر وہ پالیسی کامیاب تو نہ ہوئی بلکہ انگریزوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ مگر بلوچوں کے لیے یہ تقسیم ایک سر درد بن گئی۔
قابض پاکستان نے مستقل مقبوضہ بلوچستان کو نو ماہ کے لیے آزاد ہونے دیا مگر اس کے بعد انگریزوں کے وارث اور غلام نے دھوکے سے اور طاقت کے زور پر بلوچستان پر قبضہ کرکے اس دھرتی کو قید خانہ بنا دیا۔
قابض پاکستان کی ظلم و جبر جس میں جبری گمشدگیاں، اغوا برائے تاوان، گاؤں، شہر، علاقوں سے زبردستی ہجرت کروائی جانا، گاؤں کے گاؤں، شہروں، علاقوں میں اناج، میوہ جات، فصلوں کو آگ لگاکر تباہ کرنا اور گھروں سے مرد، بچوں، عورتوں، بوڑھوں کو جبری طور پر اٹھانا، کاروبار جو ڈیزل کی صورت میں ہو یا ماہی گیری کو اپنے قبضے میں لے کر بلوچ قوم کو بھوک و پیاس کرکے مرنے کے لیے چھوڑ دینا۔ لیکن بلوچ قوم نے ریاستی ظلم اور قبضہ گیریت کے خلاف قلم، شعور اور بندوق کو اپنے ساتھی بناکر آزادی کی راہ ہموار کرنا شروع کی۔
بلوچ قوم کی حالیہ مزاحمت بی ایل اے کی مسلح مزاحمت کا آغاز ہے، چھوٹے وقت میں ایک بڑے سطح پر منظم، انٹیلی جنس، ایک باقاعدہ فوج کی صورت میں اور مضبوط، سب سے زیادہ عوامی حمایت پر مبنی تنظیم جو بلوچستان کی آزادی کے لیے کوشاں ہے، کی حالیہ آپریشن ہیروف 2 کے حملوں کے بعد قابض پاکستان کا بلوچ عوام پر ظلم و زوراکی کا نیا سلسلہ جس میں اپنے جبری لاپتہ گمشدہ، اولاد سے لاتعلقی کا اعلان اور ساتھ ہی ریاست کا فیک انکاؤنٹر جو حالیہ دنوں کراچی بلوچستان بھر میں بڑے سطح پر ہو رہے، ریاستی ناکامی کا کھلا اظہار ہے۔ بلوچ نسل کشی میں ایک بڑی حد تک کرنے کی کوشش اور بلوچ قوم کو خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش ہے جو حقیقی طور پر ناکام ہوگی۔ قابض گیر کے ایسے اقدامات بلوچ قوم کے لیے ہمیشہ نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ بلوچ قوم کے نوجوانوں کا قتل افسوسناک اور ناقابل تلافی ہے مگر قابض گیر کی اس شکل نے بلوچ قوم کے لیے ایک پیغام واضح کردیا کہ بلوچ قوم کا خاتمہ کرنے کی کوشش اور پنجابی فوج اور پاکستانی لوٹ مار کو برقرار رکھ دنیا کو پاگل بنانا۔ بلوچ مسلح جدوجہد کے خلاف ناکامی کا ایسا اظہار جو سادہ لوگوں، عام بلوچ کا قتل، ریاست کے قابض گیرت کے ختم ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔
دنیا کو بیانوں کے ذریعے پاگل بنانے کی ناکام کوشش ہو رہی ہے مگر تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا جو بنگلہ دیش میں پتلونوں کے ساتھ اور ناکامی تاریخ کا اٹل حصہ بن چکا ہے جو پاکستان کے منہ اور جسم پر ناکامی کا کلنگ اور دھبہ ہے جو بلوچستان میں بھی نظر آرہا ہے اور پاکستان کا اس خطے سے جانا طے ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































