حب سے جبری لاپتہ نوجوان کی گرفتاری کراچی میں ظاہر: بی ایل اے سے تعلق کا الزام

45

سی ٹی ڈی نے کراچی سے مبینہ طور پر بی ایل اے کے ایک رکن کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کراچی کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لیاری سے بلوچ لبریشن آرمی کے رکن عصمت اللہ کو گرفتار کیا ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص کے قبضے سے خودکش جیکٹ سمیت بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

تاہم سی ٹی ڈی کے اس دعوے کے برعکس بلوچ میڈیا اور مقامی سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، ان کے مطابق مذکورہ نوجوان کو آٹھ ماہ قبل بلوچستان کے کراچی سے متصل صنعتی شہر حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا۔

تنظیموں کے مطابق عصمت اللہ کو فورسز نے گزشتہ سال 24 جون کو حب کی مرکزی شاہراہ پر واقع برشنا ہوٹل کے قریب عوام کے سامنے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ جبری لاپتہ رہا، اب اسے منظرِ عام پر لاکر گرفتاری کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان اور کراچی میں سی ٹی ڈی پر متعدد مرتبہ ایسے الزامات لگتے رہے ہیں جن میں پہلے سے حراست میں موجود افراد کو مسلح تنظیموں کا رکن ظاہر کرکے ان کی گرفتاری یا جعلی مقابلوں میں ہلاکتیں ظاہر کی گئی ہیں۔

رواں ماہ 17 فروری کو بھی سی ٹی ڈی نے کراچی میں ایک مبینہ مقابلے میں چار بلوچ نوجوانوں کو قتل کردیا تھا، جن کی اگلے روز عدالت میں پیشی تھی، واقعے کی تحقیقات کے لیے لواحقین نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کراچی زون، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) میں درخواستیں جمع کرادی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کیے جانے کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس، رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ گھروں میں سرچ آپریشنز خصوصاً بلوچ آبادیوں میں جاری ہیں جن میں لیاری، ملیر اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے مطابق گھروں پر چھاپوں کے دوران بدسلوکی، خواتین سے نامناسب رویے، نازیبا الفاظ کے استعمال اور گھریلو سامان کی تلاشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔