بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شائع شدہ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست نے بلوچستان میں ایک منظم اجتماعی سزا کا نظام نافذ کر رکھا ہے، جس کے تحت پورے خطے کو عملاً ایک زندان میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور معمول کی شہری زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے۔
پمفلٹ کے مطابق نیکرو پالیٹکس پر مبنی اس طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں جبری گمشدگیاں، ٹارگٹ کلنگ، فوجی آپریشنز اور دیہات کا عسکری مراکز میں تبدیل ہو جانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جس نے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں فورسز نے اپنے غیر اعلانیہ قوانین نافذ کر رکھے ہیں، جن کے تحت شام کے بعد نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ طبی ہنگامی صورتحال میں بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پمفلٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کر کے انہیں “شدت پسند” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ لواحقین کو سرکاری بیانیے کے مطابق بیانات دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ریاستی بیانیے کے تحت ہر بلوچ شہری کو مشکوک بنا دیا گیا ہے اور پورے معاشرے کو اجتماعی طور پر سزا دی جا رہی ہے۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ بی وائی سی کی قیادت کی گرفتاری بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور اختلافِ رائے کو دبانا ہے۔
پمفلٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ جب ایک ریاست بلا تفریق بچے، بوڑھے اور عورت کو نشانہ بنائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی سزا کا نظام ہے، اور ایسے حالات میں اجتماعی شعور، یکجہتی اور مزاحمت ہی انصاف اور وقار کی جدوجہد کو زندہ رکھ سکتی ہے۔


















































