بلوچستان: تین جبری افراد لاپتہ، دو بازیاب

14

ضلع کیچ سے جبری گمشدگی کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پیش آیا۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت امداد ولد ابراہیم کے نام سے ہوئی ہے، جو تربت کے علاقے کولوائی بازار کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق امداد پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں اور فدا چوک میں “بلال اسٹیشنری” کے نام سے کتابوں اور اسٹیشنری کا کاروبار کرتے ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات تقریباً دو بجے فورسز اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے۔

دوسری جانب حب چوکی اور دالبندین سے بھی دو افراد کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دالبندین میں پاکستانی فورسز نے عامر ولد احمد کو حراست میں لیا، جبکہ حب چوکی سے غلام سرور ولد عیدو کو بھی گرفتار کیے جانے کی اطلاع ہے۔

ادھر نوشکی سے لاپتہ ہونے والے محسن بلوچ اور خاران سے شاہ زیب بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔