پنجگور: ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے 10 سال، بازیاب کیجائے ۔ لواحقین

52

پنجگور پریس کلب لاپتہ ظھیر بلوچ کے اہلخانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی ایک غیر آئینی غیر قانونی عمل ہے جس میں حکومتی ادارے بناء کسی قانونی جواز کے راتوں کے پہر گھروں میں گھس کر چادر و چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے پورے خاندان کو اذیت سے دوچار کرتے ہیں اور پھر قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی سالوں تک ہمارے پیاروں کو جبری گمشدہ کرتے ہیں جو خود پاکستان کے آئین کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

لاپتہ ظھیر کی بیٹی نے کہا میرے والد جن کو 13 اپریل 2015 کو ریاستی اداروں نے حب چوکی سے جبراً لاپتہ کیا تھا اور ان کی جبری گمشدگی کو آج دس سال کا طویل عرصہ مکمل ہو چکا ہے اور وہ کہاں اور کس حال میں ہیں ہمیں نہیں معلوم، ان دس سالوں میں ہم سے بطور لواحقین جو قانونی عوامل ہو سکتے تھے ہم نے کیے جہاں ہم نے حب میں احتجاج کیا، پنجگور میں احتجاج کیا، کوئٹہ میں گئے اپنا کیس درج کرایا اور اسلام آباد تک اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کی لیکن ان دس سال کے گزرنے کے باوجود میرے والد کی کوئی خیر خبر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا ہم نے ان دس سالوں میں اپنی زندگی نہایت کَرب میں گزاری ہے جس کے لئے ہمارے پاس اس معیار کے الفاظ نہیں کہ ہم اپنے درد اور تکلیف کو بیان کر سکیں۔ جبری گمشدگی ایک ایسا غیر انسانی اور تکلیف دہ عمل ہے کہ اس میں فقط ایک انسان لاپتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ وہ خوشیاں، وہ اپنا پن، اپنوں کے ساتھ گذارے ہوئے وہ خوشی کے لمحات سب دھندلا جاتے ہیں، لاپتہ ہوتے ہیں اور فقط ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا غم و تکلیف کا رشتہ اور ایک رنج کا احساس باقی رہ جاتا ہے اور شاید ریاست یا اس کے اداروں کو اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے اس غیر انسانی عمل سے وہ کتنے لوگوں کی آہوں اور کتنے لوگوں کے غم کو اپنے نام کر چکے ہیں۔ ہماری عیدیں اب عیدیں نہیں رہیں بلکہ یہ خوشیوں بھرے دن ہمارے لئے مزید غموں کا باعث بنتے ہیں، جہاں ہم باقی لوگوں کو ان کی خوشیوں میں دیکھ کر رشک محسوس کرتے ہیں کہ کاش یہ خوشی ہم بھی ساتھ نبھاتے لیکن جس گھر کا چراغ بجھ جائے وہاں روشنی کیسے ممکن ہو سکتی ہے میرے والد ہمارے خوشیوں کے چراغ ہیں جن کو ریاست نے بجھا دیا ہے اور ہمیں ایک ایسے کیفیت میں رکھا ہے جہاں ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ہم زندہ ہیں یا مردہ۔

انہوں نے مزید کہا چونکہ میرے والد کی جبری گمشدگی کو 13 اپریل 2025 کو 10 سال کا طویل عرصہ مکمل ہونے والا ہے ان کی جبری گمشدگی پر آپ کی توسط سے اس پریس کانفرنس کے ذریعے ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنے والد کی جبری گمشدگی پر 13 اپریل 2025 کو ایک سیمینار منعقد کریں گے اور اس سیمینار کی جگہ، اور وقت کا اعلان ہم آئندہ آنے والے دنوں میں کریں گے۔