عاشقِ زمین ۔ شئے مرید

426

عاشقِ زمین

تحریر: شئے مرید
دی بلوچستان پوسٹ

‏اس جنگ کے جوانوں کو ہی اپنا قوم سمجھ لینا چاہیئے کیونکہ انھوں نے ہمیں قوم سمجھ کر ہی آشوبی راہ اپنایا ہے۔ میں یہاں عیش و آرام میں رہ کر ان کی کس طرح سوچ کو اپنا سکتا ہوں کہ یہ بے بس عوام میری قوم ہے۔ میرے وجود کے زمہ دار جنگجو ہیں تو میری قومی فرد بھی وہی ہیں اور وہی میرے سب کچھ ہیں۔ وہ قربانی تو بہت انمول قربانی ہے مجھے یقین ہے ان سورماؤں سے کبھی زمین کوئی گلہ نہیں کرے گا۔ ماں،بہن،بھائی ،رشتہ دار اور دوست ہر کسی کے ہوتے ہیں جو کافی قیمتی ہوتے ہیں مگر ان سب کو پہلے میں کچھ نہیں سمجھتا تھا کیونکہ جنگ کی حقیقت اب جاکر بلوچ پر واضح ہو چکی ہے کہ جنگ میں سب قربان ہیں۔اس سے پہلے میرے لئے جان کی قربانی سب سے مشکل قربانی تھی مگر اب جاکر رشتوں کی قدر ہوئی تو نظام اُلٹ گیا ہے ۔ وقت حالات کو بدل دیتے ہیں تو شاید انھیں بدلتے ہوے حالات میں میں بھی شامل ہوں جو اب جاکر اس جہد سے بخوبی واقفیت حاصل کر چکا ہوں۔

میں اُن لوگوں کو تاریخ کے اُن پنوں میں لکھنا چاہتا ہوں جہاں اور کوئی صف بند نہ ہو انکا بس کیونکہ یہ قربانی ذات کیلئے نہیں ہے اور نہ ہی اپنی خاندان کیلئے بلکہ یہ نسلی قربانی ہے اور یقین اور ایمان کی جنگ میں قربانی ہے۔ آپ کہیں یہ پاگل پن ہے میں سو فیصد راضی ہوں اور متفق ہوں اس بات پر کہ یہ تمام جوان جو اس راہ میں گامزن ہیں سب کے سب پاگل ہیں کیونکہ عشق ہمیشہ انسان کو پاگل بنا دیتا ہے اور یہ انکی زمین سے عشق ہے اور یقین سے یہ عشق برحق ہے اور بہت گہرا عشق ہے ۔ کبھی واسطہ پڑ گیا اس عشق سے جب آپکا معشوق سامراج کے ہاتھ میں ہو تو مجھے یقین ہے آپ فنا ہو جائیں گے اپنے معشوق کی آزادی کیلئے ۔ اگر آزادی کی قدر پوچھنی ہے تو غلام سے پوچھ لو ان سے بہتر اور کوئی اس عظیم چیز کو بیان نہیں کر سکتا۔ کتنے ناز سے ماؤں نے پالے اپنے جوان بیٹوں کو مگر جب ہوش سمبھال لیا بیٹوں نے تو زمین کے مِہر نے انھیں اپنا لیا اور ماؤں نے خوشی خوشی یہ تحفہ زمین کو پیش کیا۔ مجھے عزم ہے کہ لوگ اپنی نسلی بقاء کی خاطر مر مٹ گئے ہیں۔ اس راہ کیلئے جو ایک قطرہ خون بہا دیتا ہے مجھے یقیںن ہے کبھی اُسے ملال نہیں محسوس ہوگی ۔ اور ھانل کے مرید اب پہاڑوں کے باشندے بنے ہیں اور میں کیوں نہ لکھوں اس زمین پر جس نے میری قوم کو اپنی آغوش میں پناہ دیا ہے ،جنگی ماحول مہیا کیا ہے دشمن کی نظروں سے اُوجھل رکھا ہے یہ سب اس زمین کی مہربانی ہے کہ سب کچھ دیا ہے بس ہم سے ایک چیز مانگتی ہے ہماری جان کی قربانی اور اپنی آزادی اور وہی آزادی یہ زمین ہماری آنے والی نسل کیلئے مانگ رہی ہے. اس زمین کی خاطر لوگ فنا ہو رہے ہیں جو باشعور ہیں جو عیش وآرام کی زندگی سے سر شار ہیں مگر پھر وہ کیا چیز ہے کونسی محبت ہے کوئی بتا سکتا ہے ؟ یہ محبت ہے اُس نظریہ سے جس کی بنیاد خان محراب نے رکھی تھی ان سے ہوتے ہوئے بابو نوروز سے لیکر بابا مری پھر ان سے ہوکر استاد اسلم کے لال جیسے بیٹے اور انکی ذات سے منسلک ہے جس پر اب ہر باشعور بلوچ فدا ہے ۔ آج ہر زی باشعور بلوچ اس بات سے قتعیً انکار نہیں کر سکتا کہ آزادی ہماری اب اس جنگ پر انحصار ہے جب اس بات کو ماننے پر ہر بلوچ آمدہ ہوا تو وہ وقت آزادی کے پھول لیکر اس جنگی بلوچوں کیلئے تیار ہے جو اس زمین کے لئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کئے ہوئے ہیں .ان تمام تر باتوں کو ایک طرف رکھ دیں اب اس بات آئیں کہ کس لئے ہم اتنے مجبور ہوئے ہیں وہ کونسی کمزوری ہے ہماری کہ ہم اس مصیبت میں گھیرے جا چکے ہیں۔

مذھب شاید اسی لئے ہم بہت مجبور ہوئے ہیں ہم مذھبی غلام ہیں ہم ایک ایسی جال میں پھنس گئے ہیں کہ اب جنگ ہی نجات ہے۔اب مصنف اس بات پر اتفاق رکھتا ہے کہ ہم اس ظالم دشمن کے ہر اُس ہربے کو ناکام کر دیں جس سے ہم پہلے شکست کھا چکے ہیں۔اب بلوچ قوم مذھب کو اپنا مسئلہ نہ بنا لیں یہ ہر اس شخص کی ذات پر انحصار ہے کہ وہ کیا کرتا ہے یا مذھب کیا اُسے اپنے قوم سے دور رکھ رہا ہے اگر بات اس نوعیت کی ہے تب اُس فرد کو مذھب سے کنارہ کشی کرنی چاہیئے تاکہ اس سے قوم کو نقصان نہ ہو مگر جہاں تک بات حقیقت کی ہے اس جنگ کا مذھب سے اب تعلق نہیں ہے اس جنگ میں نمازی،ذگری،گورے اور کالے سب شامل ہیں کیونکہ سب بلوچ ہیں سب ایک درخت کے پھول ہیں ۔ اب وقت ہے اپنے نظریہ کو پختہ رکھنے کی کیونکہ دشمن اب ہمارے ہر اُس چیز پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے جس میں ہماری کمزوری ہے اسلئے پختہ نظریہ کے مالک اس شکنجے میں ہرگز نہیں آئیں گے سوائے کمزور انسان کے جو اپنے نام کیلئے یا اپنے مفاد کیلئے اس تحریک کا حصہ بنے ہیں مگر یاد رکھا جائے بلوچ کی یہ تحریک ہر اُس مواد کو الگ کر دے گی جو اپنی ذات تک محدود ہے کیونکہ ذاتی مفاد وہاں تک لطف اندوز ہے جہاں جان سلامت ہے مگر یہ تحریک موت سے مخاطب ہے اور موت کو جب مطلب پرست دیکھ لیں گے تو یقینًا وہ پیچھے ہٹ جائیں گے اسلئے اب ہماری آسانی ہے اس میں کہ ہمیں مطلب پرست لوگ واضح طور پر نظر آئیں گے۔

اس تحریک میں ذات نہیں ہے اور اگر ذات وجود رکھتی ہے تو قوم سے دست بردار ہو جائیں تو انمول فیصلہ ہے کیونکہ ان دونوں کا آپس میں کوئی دور تک تعلق نہیں ہے ۔ ایک آزاد پرست تحریک میں اس حد تک مخلصی ہونی چاہیئے کہ ایک طرف پوری خاندان کی لاشیں ہوں اور دوسری طرف قوم سے محبت کا رشتہ تو آپ اگر اس مشکل وقت میں اپنے قوم کو چھن لیں تو آپ اس راہ میں کامیاب ہیں ورنہ آپ خود کو ،قوم اور اپنے خاندان کو جھوٹ ،فریب اور دوکے کے سوا اور کچھ نہیں دے رہے ہیں ۔ خود کو ہمیشہ ثابت قدم رکھیں اس میں تحریک کی کامیابی ہے۔اور اس گوریلے جنگ کی حمایت میں اس بات پر عمل کرنا لازمی ہے کہ “خاموشی عبادت ہے” یعنی خاموشی اور عمل اسکے بعد روپوش ہونا یہی منظم نظام اور طریقہ ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔