بلوچ طُلباء اس گھٹن زدہ ماحول میں ذہنی کوفت و وجودی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ بی ایس سی

114

‏بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، اسلام آباد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ بلوچستان کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں وہاں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی بلوچ غیر آئینی و غیر انسانی طریقے سے مارا یا جبری گمشدگی کا شکار نہیں بنایا جاتا ہے ۔ بلکہ بلوچستان انسانی المیوں کی ایک لیبارٹری بن چکی ہے جہاں کوئی بھی انسان محفوظ نہیں۔ حالیہ لہر جس میں “مارو اور پھینکو” پالیسی میں رد و بدل کرکے فیک انکاؤنٹرز جیسے گھناؤنی کھیل کو کھیلا جا رہا ہے اور کہی جبراً گمشدہ بلوچوں پر بے بنیاد الزام لگاکر ان کو فیک انکاؤنٹرز میں شہید کیا جاتا ہے ۔ ان حالات میں مہذب دنیا اور انسانی حقوق کی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔ اور مزید دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے کہ بلوچ طُلباء جبری گمشدگی کا شکار ہو رہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ادارے تعلیمی ادارے نہیں بلکہ فوجی چھاؤنی بنائے گئے ہیں جہاں طُلباء کو ہراس اور انکی پروفائلنگ کی جاتی ہے۔ وہاں کے ماحول سے تنگ آکر بلوچ طُلباء پنجاب ، اسلام آباد اور دیگر پُر امن شہروں کی طرف رُخ کرتے ہیں تاکہ وہ سکون سے پڑھ سکیں اور تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔ لیکن بلوچ اور خاص کر بلوچ طُلباء کیلئے اب کوئی بھی محفوظ جگہ نہیں بچا ہے ۔ ان اجتماعی مظالم کے خلاف بلوچ دہائیوں سے شدید ردِ عمل دیتے رہے ہیں لیکن بلوچ کے درد اور تکلیف کو سمجھنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔

‏ترجمان نے مزید کہا کہ ریاستی پالیسی،ظلم و جبر اور قتل و غارت روز کے معمول بن چکے ہیں ۔ انہی جابرانہ پالیسی اور رویوّں کے خلاف بلوچ طُلباء شروع دن سے سراپا احتجاج ہیں جب حفیظ بلوچ کو جو قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم فل اسکالر ہیں ان کو جب لاپتہ کیا گیا انہی متعصبانہ رویہ ، ظلم و جبر،ہراسمنٹ اور پروفائلنگ کے خلاف اور انکی با حفاظت بازیابی کیلئے بی ایس سی، اسلام آباد نے ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک ایک علامتی بھوک ہڑتالی احتجاجی کیمپ قائم کی اور بعد از ان پر سی ٹی ڈی کی طرف بے بنیاد الزام لگائے گئے اور ان کو بالآخر منظرِ عام پر لایا گیا، بعد میں بیبگر امداد کو پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد سے لاپتہ کیا گیا اس کے خلاف بھی شدید ردِ عمل دیا گیا اور وہ بازیاب ہوئے۔ کہی فورمز پر ان تمام مظالم کو آشکار اور ان کو ختم کرنے کا جائز مطالبہ بھی پیش کی اور ایک مہم کی صورت پُوری تحریک چلائی گئی لیکن یہ ریاست ان پالیسیوں کو ختم کرنے کے بجائے اسی رویے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ ان تمام حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حالیہ مارچ ان تمام مسائل کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچ اپنے ہی زمین پر کس قدر تنگ اور گھٹن زدہ زندگی گزار رہے ہیں۔

‏ آج مؤرخہ 28 فروری ، 2024 کو تین بجے کے قریب ریاستی اداروں نے امتیاز عالم کو ہاسٹل سٹی، اسلام آباد سے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے وہPMAS Arid Agriculture University,Rawalpandi سے حال ہی میں ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیکٹس میں بی ایس مکمل کرچکے ہیں اور NIH Islamabad میں زیر تعلیم تھے ۔ ان کو سادہ کپڑوں میں ملبوس سیکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے بذریعہ ایمبولینس ٹریپ کرکے جبری گمشدگی کا شکار بنایا ۔ اس سے پہلے فیروز بلوچ اور احمد خان بلوچ بھی

مزید کہاکہ ‏اسی یونیورسٹی سے پڑھے ہیں فیروز کو راولپنڈی سے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا انکی بازیابی کیلئے بی ایس سی ، اسلام آباد نے تمامآئینی راستے زیر استعمال کیے لیکن وہ تاحال بازیاب نہ ہوسکے ۔ احمد خان کو ان کے آبائی گاؤں بالگتر سے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا وہ بھی تاحال زندان میں ہیں اور بازیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔
‏امتیاز بلوچ کی جبری گمشدگی انہی پالیسیوں کی تسلسل ہے جو کہی دہائیوں سے بلوچستان میں جاری ہیں ۔ ان تمام حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ اب عیاں ہوچکی ہیکہ ریاست ان پالیسیوں میں کمی لانے کے بجائے انہی پالیسیوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ آج ہی کے دن سپریم کورٹ آف پاکستان میں بلوچ طلباء کیس کی سماعت تھی لیکن وہی غیر سنجیدگی دیکھا گیا جس کا بلوچ دہائیوں سے سامنے کر رہے ہیں۔ ایک طرف سماعت تو دوسری جانب بلوچ طُلباء کی جبری گمشدگی یہی ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے بلوچ کو انسان تصور نہیں کرتے بلکہ وہ ہر اس طریقے کو آزما رہے ہیں جس سے بلوچ کیلئے زندگی تنگ کی جائے۔

آخر میں کہاکہ ‏ہم پُوری مہذب دنیا، انسان حقوق کے ادارے اور تمام طبقہ ہائے فکر لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امتیاز عالم کی بازیابئے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ اور مزید ہم ریاست اور اس کے اداروں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پہلے بھی ہم سخت سے سخت ترین اقدامات اٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی سخت اقدام اور تمام آئینی و قانونی طریقوں کو زیر استعمال لائیں گے ۔ مزید اسی میڈیا بیان کی توسط سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں امتیاز عالم سمیت تمام طُلباء کو بازیاب کیا جائے اگر امتیاز عالم کو منظر عام پر نہ لایاگیا تو مُلک کے تمام یونیورسٹیوں میں ایک مؤثر اور طویل مہم چلایا جائے گا اور شدید ردِ عمل دکھایا جائے گا۔