لاہور اور لاڑکانہ والوں کو تربت اور چمن دھرنوں کے حوالے سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ عوامی نیشنل پارٹی

174

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ یہ اشرافیہ پشتونوں اور بلوچوں کے ساتھ کتنے مخلص ہیں اور انہیں ان کے درد اور مسائل کا کتنا احساس ہے۔ یہ اشرافیہ تھوک کے حساب سے یہاں کے الیکٹیبلز کی قیمتیں مقرر کرنے میں مگن رہی اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اب تک پنجابی شاونزم کی تسلط سے آزادی حاصل نہ کرسکی بنگال کی اکثریت سے انکار اور اب باقی ماندہ پاکستان میں پشتونوں اور بلوچوں کے استحصال سے محظوظ ہورہے ہیں یہاں بالادست اشرافیہ کو باچاخان اور ولی خان کے متوالوں سے خوف ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہو جو یہاں کے بالادست اشرافیہ کو منظور نہیں عزیز اللہ خان عزیز ماما ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے شروع دن سے قوم اور وطن کی محبت میں مبتلا رہے اور مرتے دم تک اس پر کاربند رہے ان کی جہد آور کاوشیں نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہے ان کی چودھویں برسی ایسے حالات میں میں منائی جارہی ہے جب پشتونوں کی معاشی قتل عام جاری ہے افغان کڈوال کو جبر استبداد کے سائے زبردستی بیدخل کیا جارہا ہے یہ حالات ہم سے غور وفکر تقاضا کرتی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، بزرگ رہنما ڈاکٹر عنایت اللہ خان، سابق صوبائی وزیر انجنئیر زمرک خان اچکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل صاحب جان کاکڑ، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، صوبائی الیکشن کمیشن کے چیئرمین عبیداللہ عابد، ڈاکٹر عبداللہ خان کاکڑ، ضلع کوئٹہ کے صدر ثنااللہ کاکڑ نے ظریف شہید آڈیٹوریم سائنس کالج میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ممتاز قانون دان ادیب دانشور لیکوال ارواشاد عزیز اللہ خان عزیز ماما کی چودھویں برسی کے موقع پر منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نےعزیز ماما کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز ماما جیسی شخصیت مدتوں بعد پیدا ہوتا ہے جو بیک وقت کئی صفات کے مالک تھے زمانہ طالبعلمی سے پشتون قومی تحریک سے وابستہ ہوئے اور مرتے دم تک اس پر کاربند رہے ان کی مستقل مزاجی نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی پشتونوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے جس نے پشتون قوم کی بقا اور سرزمین کی دفاع کیلئے قربانیاں دی ہیں ہم نے قوم کی خاطر جو قربانیاں دی ہیں وہ قوم کے سامنے ہیں ہمیں ایک بزدل اور کم ظرف دشمن کا سامنا ہے اور ہم نے ہر وقت اور ہر محاذ پر اس کم ظرف دشمن کا مقابلہ کیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ پشتون قوم کو ایک بار پھرایک نئی جنگ میں دھکیلنے کی سازشیں ہورہی ہے ہمیں اتحاد واتفاق کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا ۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت اور الیکشن کی باتیں تو ہورہی ہیں مگر حقیقی صورتحال سب کے سامنے ہیں جن جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ نے ذلیل کیا تھا اور ان جماعتوں کے لیڈر اور رہنما علاج اور ڈاکٹروں کی بہانے کرکے ملک سے بھاگ گئے تھے آج وہی لوگ ڈیل کے ذریعے واپس آکرووٹ اور جمہوریت کی بجائے قبولیت کی کوششوں کو لگے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ انہیں قبول کرلیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آنے والے الیکشن کس طرح کے الیکشن ہونگے۔ اور ویسے اس وقت جو حالات پید اکئے جارہے ہیں اس میں پتہ نہیں کہ آٹھ فروری کو الیکشن ہونگے بھی کہ نہیں کیونکہ آٹھ فروری کے الیکشن کے خلاف مختلف قوتوں کی جانب سے سازشیں ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اب تخت لاہور اور لاڑکانہ کے زورآوروں کو پشتونوں کو درپیش مصائب اور مشکلات سے سروکار نہیں بلکہ انہیں ہمارے وسائل کو ہڑپ کرنے میں دلچسپی ہے لاہور اور لاڑکانہ والوں نے جب کوئٹہ پڑاو ڈالا تھا تو ان لوگوں کو تربت میں بالاچ بلوچ کی شہادت اور تربت ہزاروں خواتین کے احتجاج ،لاپتہ افراد اور چمن پرلت کے حوالے سے بات کرنےکی بھی ہمت نہیں ہوئی ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور اور لاڑکانہ کے یہ اشرافیہ پشتونوں اور بلوچوں کے ساتھ کتنے مخلص ہیں اور انہیں ان کے درد اور مسائل کا کتنا احساس ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما ڈاکٹر عنایت اللہ خان نے کہا کہ عزیز ماما نے جن مقاصد کے حصول کیلئے جہد کی تھی جیل ٹارچر سیلوں میں اذیتیں جلاوطنی کے ایام برداشت کئے سوال یہ ہے کہ وہ اہداف اور مقاصد کے حصول میں کامیابی کہاں تک ملی ہے جن کے لئے ماما نے جوانی کے ایام قربان کئے خود احتسابی کرکے ان جیسے سیاسی کارکنوں اور اکابرین کی جدوجہد سے انصاف کرنا وقت اور حالات کا تقاضاہے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن مرکزی کمیٹی انجنئیر زمرک خان اچکزئی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل صاحب جان کاکڑ صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے عزیز ماما کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز ماما میں جس مشکل دور میں سیاسی میدان میں قدم رکھا تو حالات انتہائی ناسازگار تھے سیاست کا نام لینے سے لوگ کراتے تھے ان کی جہد مسلسل تھی کہ آج نہ صرف ان کی فکر کے ساتھی اس راہ پر چل رہے ہیں بلکہ ان اہداف کے قریب تر ہے جن کی نشان دہی اکابرین کرچکے تھے انہوں نے عزیز ماما کو ان کی سیاسی وطنی علمی اور اکیڈمک خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔