خون کے دھبوں پر چل کر پارلیمنٹ تک جانا – انور ساجدی

230

خون کے دھبوں پر چل کر پارلیمنٹ تک جانا

دی بلوچستان پوسٹ

یہ جو اسلام آباد کے حکمران اور میڈیا والے سمجھتے ہیں کہ ماہ رنگ کوئی فریاد لے کر وہاں گئی ہے تو ان کا اندازہ غلط ہے کیونکہ ماہ رنگ پاکستانی عوام کو بتانے گئی ہے کہ ہم نے آخر تک آپ سے درخواست کی کہ ہماری بات سنو، اپنے مظالم بند کرو اور ہمیں بھی اس ملک کا باشندہ سمجھو، اپنے اس مؤقف کا اظہار انہوں نے بار بار کیا لیکن فیڈریشن کے پایہ تخت کے کان بہرے اور زبان صرف طاقت کی زبان ہے۔ پنجاب کی یا اسلام آباد کی الگ الگ نفسیات ہے۔ جسے معمولی تحریکیں اور کمسن بچوں اور ناتواں بزرگوں کی فریادیں بدل نہیں سکتیں۔ اگر یہ لوگ بدلنے والے ہوتے تو بنگالی عوام کی فریادوں سے بدل جاتے اور اقتدار اکثریت کو منتقل کرکے پاکستان کو تا ابد بچاتے لیکن افسوس ہے کہ مغربی پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے 1971 میں یہ فیصلہ کیا کہ ملک دو لخت ہونا تو گوارا ہے لیکن اقتدار کی بنگالی عوام کو منتقلی قبول نہیں ہے۔ 1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی 300 میں سے 160 نشستیں حاصل کیں لیکن راولپنڈی میں فیصلہ ہوا کہ اقتدار نہیں دینا ہے۔ یحییٰ خان نے فروری 1971 میں اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس یکم مارچ کو ڈھاکہ میں ہوگا جس کے دوران اقتدار کی منتقلی کا تاریخی فیصلہ سرانجام دیا جائیگا۔ اسی دوران طویل مشوروں کے بعد یا بھٹو کی دھمکی کے بعد یحییٰ خان نے اجلاس کی تاریخ 25 مارچ تک بڑھا دی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے فروری کے مہینے میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ جو ممبران مغربی پاکستان سے اجلاس میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائیں گے میں ان کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔

وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا شیخ مجیب کو پتہ تھا کہ اجلاس 25 مارچ کو بھی نہیں ہوگا اس لئے اس نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں متحدہ پاکستان کے آخری جلسہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن جیتے آپ نے طاقت کا استعمال شروع کردیا۔ اگر آپ ہمیں اقتدار منتقل نہیں کریں گے تو میں بنگالیوں کے خون کے دھبوں پر چل کر اسمبلی نہیں جاﺅں گا۔

شےخ مجیب کی اس بات نے احساس دلایا کہ بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر مسلسل خونریزی کے باوجود بھی ہر الیکشن یں حصہ لیتے ہیں اور بہت ہی صبر و حوصلہ کے ساتھ بے گناہوں کے خون کے دھبوں پر چل کر پارلیمنٹ میں جاتے ہیں، وہ کسی ایک الیکشن کا متفقہ طور پر بائیکاٹ کرسکتے تھے لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ سرکار نے کافی ساری پارٹیاں اور گروپ تیار کررکھے ہیں جو بائیکاٹ کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے اور 544 ووٹ لے کر اسمبلیوں میں براجمان ہوجاتے ہیں۔

پارلیمانی پارٹیوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ عوام کو منظم کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ ان کا بیانیہ بہت ہی کمزور اور بزدلانہ ہے۔ ان میں جرات کا فقدان بھی ہے، کبھی کبھار یہ شک بھی گزرتا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں دراصل اپنے ہی عوام کے خلاف ہیں جس کی وجہ سے انہیں غیر مرئی آشیر باد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عوامی آراءکے برعکس ان کی لیڈری اور مفادات کی دکانیں چمکتی رہیں۔

بہرحال 23مارچ 1971 کے جلسے میں شیخ مجیب کے طویل خطاب کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ نے ہمارے حق میں فیصلہ نہیں کیا تو ہم اپنی تحریک کو جنگ آزادی میں بدل دیں گے۔ مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے 24 اور 25 مارچ کی درمیانی رات آپریشن سرچ لائٹ شروع کردیا۔ یہ آپریشن اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے بے رحمانہ استعمال کا مظہر تھا، یہ آپریشن 16 دسمبر 1971 کے سرنڈر تک جاری رہا لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بھٹو نے سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب اور عوام کا کھوج لگانے کے لئے حمود الرحمن کمیشن بنایا لیکن اس کی رپورٹ شائع نہیں ہونے دی گئی۔ اس کی سفارشات میں ذمہ دار فوجی افسران اور بیورو کریٹوں کے خلاف کارروائی کا کہا گیا تھا لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ جنرل یعقوب علی خان کو بعد ازاں وزیر خارجہ بنایا گیا، جنرل ٹکا خان کو فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا، جنرل رحیم کو پی آئی اے کی سربراہی سونپی گئی ، راﺅ فرمان علی اور جنرل غلام عمر آزاد گھومتے رہے، جنرل یحییٰ خان راولپنڈی کے ہارلے اسٹریٹ کے اپنے مکان میں طبعی موت مرے اور انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کردیا گیا۔ بھٹو جو جنگی قیدی واپس لائے تھے ان کی اکثریت کو کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے عہدے دیئے گئے۔

اکتوبر 1973 کو جنرل ٹکا خان کی سربراہی میں بلوچستان میں ایک اور فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ یہاں پر ہزاروں بے گناہوں کا خون بہایا گیا، البتہ سقوط ڈھاکہ کا انتقام بھٹو سے ضرور لیاگیا انہیں راولپنڈی جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ شیخ مجیب نے اپنے آخری خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ ایوب خان نے 10سال مارشل لاءضائع کرکے ہماری غلامی کو طوالت دی لیکن اب ہم غلامی کی زندگی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

جس طرح 1970 کے عام انتخابات کا مینڈیٹ قبول نہیں کیا گیا اسی طرح پاکستانی مقتدرہ نے سرے سے انتخابات ہی قبول نہیں کئے۔ 1988 میں دھاندلی کے باوجود بے نظیر جیت پائی جس کے بعد ہمیشہ انجینئرڈ الیکشن کروائے گئے اور اپنی جماعتیں بنانے کا چلن شروع کردیا گیا۔ پہلے ن لیگ لاڈلی جماعت تھی، بعد ازاں ق لیگ اور 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف، باپ اور اس طرح کی جماعتوں کو نظام کے اندر زبردستی شامل کروایا گیا۔ موجودہ انتخابات میں سابق لاڈلی جماعت پی ٹی آئی سخت معتوب اور ن لیگ انوکھی لاڈلی ہے۔ ساتھ میں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی جماعتیں بنا کر انہیں ممکنہ حکمران جماعت کے ساتھ نتھی کیا جارہا ہے۔ جبکہ زرداری شدید کمپرومائز ہیں، سندھ کے وسائل کی بے دردی کے ساتھ لوٹ مار پر انہیں کوئی فکر لاحق نہیں ہے نہ ہی سندھ کے عوام کی دوبارہ موہنجوڈرو کے دور میں جانے پر زرداری کو کوئی تشویش ہے۔ اس طرح عجیب و غریب صورتحال ہے۔ چوں چوں کا مربہ حکومت بننے جارہا ہے۔ انتخابات کے نام پر سنگین مذاق ہورہا ہے۔ ایک پارٹی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پولیس اہلکار چھین رہے ہیں جبکہ اپنی جماعتوں کے امیدوار دھوم دھڑکے کے ساتھ کاغذات جمع کروانے جارہے ہیں۔ سیاست کو مزید گماشتہ کرنے پر سیاسی رہنماﺅں کو مسخرے یا کٹھ پتلی کا کردار دینے اور عوام کو افتادگان خاک سمجھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست بدترین دور سے گزر رہی ہے۔

ان تمام باتوں کا مقصد ارتقاء کے قدرتی نظام کو روک کر عوام کو مزید کچھ عرصہ تک غلام رکھنا ہے۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہے کہ اس وقت ریاست میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو قومی کہلا سکے اور نہ ہی ایسی سیاسی شخصیت موجود ہے جو پورے ملک میں یکساں مقبول ہو۔ یہ عمل اس خوف کا نتیجہ ہے کہ کہیں عوام اکٹھے ہو کر موجودہ فرسودہ نظام اور اذ کار رفتہ قرون وسطیٰ کے نظام کا تختہ نہ الٹ سکیں۔

حالیہ بلوچ مارچ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے، ماہ رنگ کی قیادت میں اس مارچ کو ملک بھر میں جو پذیرائی ملی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کو موجودہ سیاستدانوں پر کوئی اعتماد نہیں اور وہ کسی مرد آہن یا صنف آہن کے منتظر ہیں جو انہیں ظلم و زیادتیوں سے نجات دلا سکے۔ اگرچہ ماہ رنگ کی حالیہ تحریک کا مقصد ریاست میں کوئی تبدیلی لانا نہیں ہے بلکہ بلوچستان کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ یہ شیخ مجیب کے آخری دورجیسا طرز عمل ہے، ماہ رنگ واپس بلوچستان آکر اپنے عوام کو مزید منظم کرنے کی راہ پر چلے گی ان کے عمل کے نتیجے میں بلوچستان کے لوگ موجودہ نظام پارلیمانی جماعتوں اور سرکاری سرداروں اور میروں سے مزید برگشتہ ہوں گے۔ ماہ رنگ کو جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ سوشل میڈیا کی طاقت سے ہوئی ہے۔ ان کے کامریڈوں نے سوشل میدیا کا بھرپور استعمال کیا ہے اور سرکار کو شکست فاش سے دوچار کردیا ہے۔ ماہ رنگ نے پاکستانی عوام کو اصل صورتحال بتا دی ہے اب ان کا بسیرا بلوچستان کے کوچہ و بازار ہوں گے، پہاڑ ہوں گے اور ان کے نعرہ مستانہ کے نتیجے میں بلوچ تحریک ایک اور سمت کی طرف چلے گی جو زیادہ واضح اور فیصلہ کن ہوگی کیونکہ بلوچ تحریک کی گونج واشنگٹن، لندن، پیرس اور برسلز تک پہنچ گئی ہے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبہ نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کی تحریک بن گئی ہے۔ اگر حکمرانوں نے طاقت کا استعمال جاری رکھا تو ماہ رنگ اور اس کے بڑے لیڈر نئے راستے اختیار کریں گے۔ کون سے راستے یہ صرف ان کو ہی پتہ ہے۔