راشد حسین بلوچ کے عدم بازیابی کیخلاف اسلام آباد احتجاجی کیمپ کی حمایت کرتے ہیں – بلوچ وائس فار جسٹس

114

بلوچ وائس فار جسٹس نے کل 27 نومبر کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر راشد حسین بلوچ عدم بازیابی کیخلاف علامتی بھوک ہڑتال کیمپ کی حمایت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی نامی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے اور بم سے اڑا دینے کے بعد، جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ گہری تشویش اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ گزشتہ 4 دنوں سے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والے بالاچ بلوچ کے لواحقین تربت کے فدا شہید چوک پر دھرنا دے رہے ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی کیونکہ ریاست کے تمام ادارے بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں اور ایک پیچ پر ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ تربت اور خضدار میں 10 لاپتہ نوجوانوں کو مختلف جعلی مقابلوں میں قتل کیا جاچکا ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانیت کا نام نہاد لبادہ اوڑھے دیگر قوتیں بھی خاموشی اختیار کر کے بلوچ نسل کشی کے مزے لے رہی ہیں، یہ انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچ قوم دیگر قوتوں اور افراد کی طرف دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر ان ناانصافیوں اور ریاستی جبر کے خلاف متحد ہو کر سیاسی مزاحمت کریں اور تربت دھرنے میں شرکت کے علاوہ بلوچ قوم کو چاہیے کہ وہ دنیا میں جہاں بھی آباد ہے وہاں بلوچ نسل کشی کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاج کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 نومبر کو جبری لاپتہ راشد حسین بلوچ کے لواحقین اسلام آباد پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے۔ اسلام آباد کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، طلباء، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، سول سوسائٹی اور بالخصوص صحافیوں سے گزارش ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کریں اور ان کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے کیمپ میں شرکت کرکے انہیں کوریج دے کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کریں۔