انسانی حقوق کی تنظیمیں پندرہ سالوں سے جبری لاپتہ کلیری خان مری اور ستار خان مری کی بازیابی کیلئے کردار ادا کریں۔ والدہ

100

کلیری خان اور ستار خان خان مری کو ساڑھے پندرہ سال قبل یکم جون 2008 کو پاکستانی فورسز نے کوئٹہ بلیلی چیک پوسٹ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔

مہربی بی مری نے کہا کہ تب سے لیکر آج تک بیٹوں کے بارے میں ان کے خاندان والوں کو کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بوڑھی والدہ سخت بیماری کی حالت ابھی تک اپنے بیٹوں کی منتظر میں ہوں ۔

انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے علمبرداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ساڑھے 15 سالوں سے ماورائے آئین زندانوں میں بند ستار خان مری اور کلیری خان مری کی بازیابی کے لئے آواز اُٹھائیں۔