جنیوا: بی این ایم کا عالمی برادری سے بلوچ تحریک آزادی کی مدد کا مطالبہ

151

بلوچ نیشنل موومنٹ کی طرف جاری ایک بیان کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 54 ویں اجلاس کے دوران پارٹی کا تین روزہ آگاہی مہم اختتام کو پہنچا۔اس مہم کا انتظام بلوچ نیشنل موومنٹ کے شعبہ امور خارجہ کی طرف سے کیا گیا تھا جبکہ بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹرنسیم بلوچ ، خارجہ سیکریٹری ھمل حیدر، سینٹرل کمیٹی کے ممبران حاجی نصیربلوچ، فہیم بلوچ، حاتم بلوچ اور نیاز بلوچ سمیت کارکنان کی بڑی تعداد بھی مختلف ممالک سے جنیوا میں جمع ہوئی تاکہ اس اہم موقع پر بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کیا جاسکے۔

بیان کے مطابق بی این ایم کے شعبہ امور خارجہ کے ممبر نیاز بلوچ کا کہنا ہے کہ آئندہ سال مارچ کو بی این ایم بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جنیوا میں زیادہ وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی کوشش کرے گی تاکہ بلوچستان کی صورتحال سے دنیا کو باخبر رکھا جاسکے۔

اس مہم کے دوران ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فوج کی حالیہ جارحانہ کارروائی ، بلوچ نسل کشی ، جبری لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے بلوچ رہنماؤں سمیت دیگر افراد کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

تین روزہ مہم کے دوران بروکن چیئر کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں بلوچستان اور سندھ کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ بی این ایم کے احتجاجی مظاہرے میں بی این ایم کے رہنماؤں کے علاوہ سندھی قوم دوست رہنماء ڈاکٹر لکو لوہانہ، بلوچ قومی تحریک کی حامی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نورِ مریم کنور نے بھی شرکت کی اور احتجاجی مظاہرے کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر مقررین نے کہا گذشتہ کئی ہفتوں سے ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی فوج بلوچوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لیا گیا ہے۔ درجنوں افراد جبری لاپتہ کیے گئے ہیں اورعوامی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

’بلوچوں پر پاکستانی مظالم کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ جب سے پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کیا ہے بلوچوں کے تمام انسانی حقوق سلب کرکے ان پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا پاکستان کو بلوچستان کے وسائل کی ضرورت ہے لیکن اسے بلوچ قوم کی ترقی اور ان کے مفادات سے کوئی غرض نہیں۔ ریاست پاکستان کے اختیارداروں کو بلوچستان بلوچوں کے بغیر چاہیے تاکہ ان کے وسائل پر تصرف کرسکیں۔بلوچستان کی آزادی کے بغیر وہاں انسانی حقوق کی بحالی ممکن نہیں۔ اس لیے بین الاقوامی برداری کو چاہیے کہ بلوچ نسل کشی کو روکنے کے لیے بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی مدد کریں۔

مقررین نے کہا بلوچستان ہی نہیں بلکہ سندھ اور پشتونخوا میں بھی سندھی اور پشتون قوم پر ریاست مظالم ڈھا رہی ہے۔خطے میں محکوم اقوام کی آزادی ایک پرامن خطے کی ضمانت ہوگی۔ آزاد بلوچستان اور سندھو دیش کے قیام سے دونوں اقوام کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔پاکستان کے تسلط سے ان اقوام کے سماج مذہبی انتہائی پسندی کا شکار ہو رہے ہیں جن کے مراکز پنجاب میں موجود ہیں لیکن وہ اپنی جڑیں محکوم اقوام کے سماج میں پھیلا رہے ہیں تاکہ یہاں قومی شعور کو دبا کر پاکستان کے نام نہاد ’ دو قومی نظریے ‘ کو تقویت دیں۔ پاکستان کا یہی نام نہاد دو قومی نظریہ تھا جس نے خطے میں شدت پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کی جس کے ہم بھیانک نتائج سے دوچار ہیں۔ اسے رول بیک کیے گئے بغیر ہم محفوظ نہیں ہوسکتے۔