بلوچستان: سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے

400

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اگلے 24 سے 72 گھنٹوں کے دوران مزید بارش اور سیلاب سے خبردار کردیا گیا جہاں پہلے ہی بارش سے نقصانات ہوچکے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق کیچ، خضدار اور جھل مگسی کے علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کے باعث ہونے والے مختلف حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق بلوچستان کے اضلاع لورالائی، قلات، سبی، مکران اور نصیرآباد ڈویژن میں موسلادھار بارش کے باعث اگلے 24 گھنٹوں کے دوران سیلابی صورت حال ہوگی اور ڈیرہ غازی خان میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ مزید بتایا گیا کہ دریائے کابل میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر، پنجگور، خاران، نوشکی، واشوک، مستونگ، سبی، نصیرآباد، ژوب، شیرانی، بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو، جھل مگسی، لورالائی، زیارت، کوئٹہ، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں اگلے 24 سے 72 گھنٹوں کے دوران بارش اور طوفان اور کہیں تیز بارش کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھتیں اور آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچے سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے اور 200 گھروں کو نقصان پہنچا۔

مزید کہا گیا کہ صوبے میں 19 جون سے اب تک بارشوں کے باعث 10 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے راستے بحال کردیے گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پنجگور میں نیوان، پسکول اور پاردان ڈیمز کے پانی کی سطح گزشتہ 3 روز سے ہونے والی بارش کے نتیجے میں بلند ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں گاؤں اور رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہوا۔

دوسری جانب دی بلوچستان پوسٹ کے ذرائع کا کہنا ہے گذشتہ روز پنجگور میں بھی افراد ندی میں بہہ جانے سے ان کی اموات ہوئے ہیں۔ اور پنجگور کے مختلف علاقوں کا ایک دوسرے سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہو کر رہ گیا ہے۔

آواران کے علاقے مشکے نوکجو شادینزئی سے اطلاعات ہیں کہ ندی میں تغیانی کے باعث ایک ہی خاندان کے 25 افراد لاپتہ ہوگئے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ روز 3 بجے ندی میں آنے والی تغیانی کے باعث مذکورہ افراد لاپتہ ہیں۔ جن میں خواتین و بچے شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ ندی کچھ دور جاکر مشکے ندی میں شامل ہوجاتی ہے۔