دنیا کے تحریکوں میں فدائی حملوں کے اثرات اور فدائی شاری بلوچ – ماہ روش بلوچ

1205

دنیا کے تحریکوں میں فدائی حملوں کے اثرات اور فدائی شاری بلوچ

تحریر: ماہ روش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچوں کو اس بات پر فخر ہونی چاہیے کہ بلوچوں کی تاریخ مزاحمت اور حمیت کی تاریخ ہے۔ بلوچ نے بحیثیت ایک قوم ہر صدی اپنی شناخت اور سرزمین کی حفاظت ؤ محبت میں جنگیں لڑ کربے شمار قربانیاں دی ہیں چاہے پرتگیزیوں کے خلاف ہو، ایران اور برطانیہ یا موجودہ دور میں پاکستان کے خلاف جاری بلوچ انسرجنسی ہو۔

ہر دور میں مختلف شکل و صورت میں بلوچوں کا اپنی شناخت اور آزادی کی دفاع میں اغیار کے خلاف جدوجہد جاری رہا ہے، موجودہ دور میں مضبوط ادارتی شکل میں بلوچ مزاحمت جاری ہے وہیں بلوچ تحریک کے تسلسل نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے پہ مجبور کیا ہے۔

26 اپریل 2022 کو شاری بلوچ کی فدائی حملے نے اس بلوچ جنگ آزادی کو ایک نیا رخ دیا ہے اور دنیا بھر کے تھنک ٹینک اور فوجی صنعتی کمپلکس جیسے بڑے لوتھین( Leviathan) کو اپنی جانب توجہ مبذول کرائی ہے ۔

جہاں بھی انقلابی یا آزادی کی جنگیں لڑی گئی ہیں وہاں خواتین کا کردار ہر دور میں نمایاں رہا ہے، بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں دیکھا جائے ویتنام سے لیکر الجیریا تک خواتین نے تاریخ کے درخشاں باب قربانیوں کی داستان رقم کی ہیں۔

انگولہ، نمیبیا اور موزمبیق کی آزادی کی تحریک میں گوریلہ حملے ہوں یا فدائی حملے، وہاں کی جرات مند عورتوں نے لاجواب قربانیاں دی ہیں اور عورتوں کی اس قومی تحریک سے جڑے ہوئے سوچ نے ہزاروں انقلابی جہدکار پیدا کئے ہیں۔

دنیا میں ایسی کوئی تحریک نہیں ہے جہاں عورتوں کا کردار نہیں رہا ہے۔ انگولہ میں پرتگالی سامراج کے خلاف ” پی ایم ایل اے“ ( people’s movement for the liberation of Angola) میں جتنی مردوں کی تعداد تھی اتنی عورتوں کی اور آزادی کی تحریک میں مرد اور عورت نے کندھے سے کندھے ملا کر دشمن کے خلاف لڑے۔ ملکہ گنگہ (Queen Ginga) جیسے بہادر عورتوں نے تیس سال تک پرتگال کے خلاف مزاحمت کو برقرار رکھا۔

اسی طرح ” ایم ایل ایف“ (mozambican liberation front ) کی عورتوں نے قومی تحریک میں اپنا کام الگ طریقے سے سرانجام دیا۔ 1967 میں عورتوں کی سیاسی اور فوجی تربیت شروع کی گئی اور عورتوں کو تحریک میں شامل کرنے کے لئے مزمبیق میں باقاعدہ “ ایم ڈبلیو ایل“ (mozambican women league ) قائم کی گئی ۔ اور اس تنظیم میں (women detachmant ) کی ونگ بنائی گئی اور یہ (women detachmant ) کا بازو عورتوں کی جنگی تربیت کرتی تھی اور آگے چل کر 1972 میں ” او اہم ڈبلیو یو“ کی بنیاد رکھ دی گئی جس کے ذریعے موزمبیق کے ساری عورتوں کو سیاسی حوالے سے منظم کرنے کی جدوجہد کی گئی، جو آگے چل کر قومی تحریک میں اپنا کردار ادا کرنے والے تھے۔

الجیریا میں ” ایف ایل این“ ( national liberation front) کے عورتوں نے جنگی قوانین میں شاندار مثال قائم کی تھی۔

فلسطین میں بھی عورتوں نے قومی تحریک کے مختلف محاذوں میں بڑے کارنامے سرانجام دے ہیں، چاہیے وہ سیاسی، معاشی، سماجی یا جنگی محاذ ہوں۔

فلسطین کے قومی تحریک میں عورتوں نے سب سے پہلے ”پی ڈبلیو او“ (palestinian women union ) کو انیس سو اکیس میں قائم کیا اور یونین کو دو حصوں میں تقسیم کی گئی ۔ ایک حصے میں تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس عورتیں تھیں، جن کا کام تھا تنظیم کے لئے فنڈز جمع کرنا، بائیکاٹ اور احتجاج کرنا تھا۔ جبکہ دوسری گروپ دیہاتی علاقوں سے عورتوں کی تھیں اور ان عورتوں کو جنگی ذمہ داری دی جاتی تھی، جیسا کہ ہتھیاروں کی فراہمی اور ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنا۔

2000 میں فدائی حملوں اور خودکش حملوں میں فرق واضح کیا گیا ۔ ایک مظلوم قوم جو آزادی کی جنگ لڑرہی ہو، اس قوم کے لئے دشمن پر ایسے حملے فدائی حملے کہلاتے ہیں خودکش نہیں۔ نائن الیون کے بعد دنیا کی سیاست اور معاشی ڈھانچہ بدل گئی اور کئی ریاستوں میں مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مذہب کے نام پر خودکوش حملے کئے، جیسا کہ القاہدہ اور داعش اور بوکوحرام جیسے مذہبی انتہا پسند تنظیوں سے تعلق رکھنے والے عورتیں مختلف احداف پر خودکش حملے کرتے رہے ہیں۔

فدائی حملے ایک نیا جنگی اسٹراٹیجی نہیں ہے۔ اس کا وجود قدیم زمانے میں بھی تھی ۔ ( judea) جہاں یہودیوں کی تعداد تھی، جب سلطنت روم نے اس جگہ پر قبضہ کیا تو یہودیوں کی ایک فرقہ جسے (zealot ) کہتے ہیں، لاطینی سپاہیوں پر فدائی حملہ کرتے تھے۔ اس کے بعد ایسے حملے ہوتے رہے جیسا کہ انارکسٹوں نے روس میں زار روس کے زمانے میں ایسے حملے کئے تھے ۔ فدائی حملے ایک نفسیاتی جنگی اسٹراٹیجی ہے۔ ایسے حملے پوری آبادی کو ذہنی طور پر بہت متاثر اور اثرانداز کرتا ہے اور دشمن ریاست کے جنگی حکمت عملیوں کو مفلوج کردیتے ہیں۔

سماجی سائنسدان اس حقیقت کو تین پرتوں کے لحاظ سے تجربہ کرتے ہیں۔ سیاسی سٹراٹیجی، سماجی و ثقافت اور ذاتی۔

شکاگو پروجیکٹ کے ڈائرکٹر روبلٹ پیپ اس جیسے حملوں کے لئے سیاسی اسٹراٹیجی کو استعمال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسے حملوں کو قومی آزادی کی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے اور یہ بھی کہتا ہے کہ قومی آزادی کی تحریک میں فدائی حملے عقلی اور حکمت عملی کے تحت کئے جاتے ہیں ناکہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔ایسے حملوں کا مقصد قابض کے ہاتھوں اپنے زمین کو آزاد کرنا ہے۔

روبلٹ پیپ اپنے اس نظریہ کو معیاری ثابت کرنے کے تین سو مقدمات بہ طور دلیل پیش کرتا ہے، جیسا کے لبنان میں اسرائیل کے خلاف عورت اور مرد فدائی حملے کرتے ہیں، اسی طرح تامل ٹائیگر نے ایک نئی تامل ریاست بنانے کے لئے ایسے حملے کئے ہیں۔ فلسطین کے لوگوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں اس اسٹراٹیجی کو اپنایا ہے اور چیچن باغیوں نے روس کے خلاف فدائی حملے کئے ہیں۔

مختلف قابضیںن نے ایسے فدائی حملوں کو کاونٹر کرنے کی کوشش کی ہے۔ فدائیں حملے کی وجہ نفسیاتی اور معاشی مسائل کو قرار دیا ہے ۔فدائی شاری بلوچ کے کاز کو نقصان دینے کے لئے ریاست پاکستان نے بھی یہی حربہ استعمال کیا لیکن ( Ji Hea Maleckova , Alan kureger ) ایسے بیانات کو رد کرتے ہیں اور دلیل دے کر ثابت کرتے ہیں کہ فلسطین میں فدائی حملے کرنے والے لوگ امیر گھروں سے تعلق رکھتے تھے اور اعلی سطح کے تعلیم یافتہ تھیں اور ایسے ہی شاری بلوچ معاشی مسائل سے دوچار نہ تھے اور ایک اعلی تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق تھا اور سیاسی حوالے سے باشعور استانی تھی۔

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرم کے افسر نصرہ حسن کا کہناہے کہ ایسے لوگ نفسیاتی حوالے سے بھی نورمل ہیں ۔

شکاگو پروجیکٹ آن سیکورٹی اور دہشت گردی کے مطابق 1982 سے لیکر 2014 تک 176 خودکش اور فدائیں حملے عورتوں نے کئے ہیں۔

کلاڈیا برنر اپنی کتاب ( “Female Suicide Bombers” by Claudia Brunner ) میں لکھتے ہیں کہ جدید تاریخ میں پہلی فدائی حملہ آور خاتون ” ایس ایس این پی“ (Syrian socialist national party ) سے تعلق رکھتی تھی، جس نے 1985 میں لبنان میں اسرائیل کی فوجیوں پر حملہ کیا اور 2009 تک 85 فیصد فدائی حملے عورتوں نے قومی آزادی کی بنیاد پرکئے ہیں ۔

مرد اور عورت کی فدائی حملوں میں یہ فرق دیکھا گیا ہیکہ جب کوئی عورت فدائی حملہ کرتی ہے تو بین القوامی میڈیا میں اسے زیادہ ملتی ہے اور جس مقصد کے لئے کرتی ہے وہ زیادہ مقبول ہوتا ہے ۔ جیسا کہ فلسطینی اور کرد فدائی حملہ آور عورتوں کو دنیا میں زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا ہے ۔

2006 میں 18 سال کی مروہ مسعود اور 57 سال کی فاطمہ عمر جو ایک بوڑھی عورت تھی نے فدائی حملے کر کے پوری دنیا کی میڈیا کا توجہ حاصل کیا تھا، شاہد شاری بلوچ کی فدائی حملے کو اس قدر دنیا میں توجہ نہیں دیا گیا اور لکھا نہیں گیا لیکن اس حملے نے دنیا کی تھنک ٹینک اداروں کو بلوچ آزادی کی جہدوجہد کی طرف متوجہ کرنے اور سنجیدگی سے سوچنے مجبور پر کیا ہے۔

قابض اور مقبوضہ قومیں فدائی حملوں کو دو مختلف نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ۔ جب فلسطین کی عورتیں اسرائیل کے خلاف فدائی حملے کرتے تھے تو عرب میڈیا میں ان عورتوں کی قربانیوں اور کردار کی تشہیر کی جاتی تھی اور فدائی حملوں کو قانونی بنیاد پر صحیح ثابت کرنے کی کوشش ہوتی تھی، عرب تاریخ میں ان عورتوں کو ہیروئن اور سرخیل (Pioneer ) سے یاد کی جاتی ہے۔

دوسرا نقطہ نظر قابض کا ہے جو ان کو گمراہ اور نفسیاتی قرار دیتے ہیں۔ بلوچوں کے پاس خود تو ایک آزاد میڈیا نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم پر شاری بلوچ کو بلوچوں نے ایک اساطیری کردار کا مقام دیا ہے اور ریاست کے ہر حربے کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ قابض ریاست پاکستان فدائیں حملوں سے سخت خوفزدہ ہے اور فدائیں حملوں کو روکنے کے لئے عام بلوچ عورتوں کو جبری گمشدہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہا ۔

دنیا بھر میں عورتوں کو ہمیشہ بہت جزباتی اور نازک ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جنیوا معاہدہ اور دوسرے بین القوامی معاہدوں میں جنگوں میں عورتیں غیرجنگجو قرار دی گئی ہیں لیکن قومیت کے بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں اور عوامی تحریکوں نے اس عمل کو مسترد کیا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے واقعات کی برمار ہے جس میں عورتوں نے جنگوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بائیس سالہ عبوعیشہ نے فلیسطیں کی آزادی کے خاطر قربان کرتے ہوئے اسرائیل کے قابض فوج پر 2002 میں فدائی حملہ کی تھی۔

حیات زینہ عینادی، پامارہ اور پیش مرگہ کی ہزاروں عورتوں نے داعش کی خلاف جنگ میں اہم ترین کردار ادا کر کے مذہبی شدت پسندی کو شکست دی ہے اور شاری بلوچ نے بلوچ قومی تحریک میں فدائی حملہ کرکے ایسا ہی کردار ادا کرکے قدامت پسندی کو مسترد کرکے بلوچ سماج میں ایک شمع روشن کی ہے، جس کو مشعل بناکر بلوچ خواتیں تحریک کے اول دستے میں روشنی کا پرچم بلند کررہے ہیں ۔

دنیا میں اب عورت خود جنگ اور مزاحمت کی سربراہی کررہی ہیں۔ دنیا میں فدائی حملہ کرنے والوں میں 30 فیصد فدائی حملے عورتوں نے کی ہیں جو قومی آزادی کی تحریکوں سے وابستہ تھے۔

فدائیں حملے کرنے والے عورتیں انقلاب اور آزادی کے بہترین اور باشعور سپاہی تھے۔ انہیں نہ کوئی معاشرتی روایات روک سکی اور نہ ہی ریاستی پروپگنڈہ، یہ انقلابی عورتیں نہ صرف قابض کے خلاف مزاحمت کرتے ہے بلکہ نوآبادکار کی روایتی بوسیدہ نظام کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔

دنیا میں قربانی کی کوئی پیمائش نہیں ہوتی، مرد اور عورت، دونوں مختلف محاذوں پر قومی تحریکوں کے لئے قربان ہوتے ہیں لیکن دنیا میں فدائی حملوں کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور قربانی کی عظیم شکل قرار دی جاتی ہے، جس کے اثرات قابض کے لئے سخت نقصاندہ ہوتے ہیں ۔ ان فدائی حملوں نے دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں دشمن کے خلاف سخت اثرات چھوڑے ہیں، سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے فدائی حملوں نے سری لنکا کے سیاحت کی صنعت اور اور غیرملکی سرمایہ کاری کو تبا کردیا تھا ۔

ترکی میں کرد عورتوں کی فدائی حملے زیادہ تر اس جگہ پر کی جاتی تھیں جو سیاحت کے لئے بہت مقبول ہیں جیسے کہ انقرہ اور استنبول، کردوں کی فدائی حملوں نے ترکی کو معاشی حوالے سے سخت متاثر کیا تھا اور پورپی اقوام نے سیاحت کے لئے ترکی کا رک کرنا چھوڑ دیا تھا جس سے ترکی جی ڈی پی میں کمی آئی، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتی ہے کہ کردوں کی فدائی حملوں نے ترکی کو کس قدر متاثر کیا ہے۔

26 اپریل 2022 کو شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں چین پاکستان معاشی راہداری سے منسلک کنفیوشن انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ کو فدائی حملے میں نشانہ بنایا جس میں تین چینی استاد ہلاک ہوئے، جس کے بعد چین پاکستان میں کنفیوشن انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام کو وقتی طور پر بند کرنے پر مجبور ہوا۔

کنفیوشین انسٹی ٹیوب چینی ثقافت کو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلارہی ہے جس کے ذریعے چین اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ۔ آج کے نئی نوآبادیاتی نظام میں چین کی کنفیوشین انسٹی ٹیوٹ چین کی معاشی، ثقافتی اور سیاسی توسیع پسندی کی نشانی ہے۔

بلوچستان میں چین بڑے اہم پروجیکٹس سے منسلک ہے اور دنیا کی دوسری کمپنیاں بلوچستان میں سرمایہ کاری کرکے بلوچستان کی قدرتی وسائل کی لوٹ مار کرنے میں ریاست پاکستان کے ساتھ شریک ہیں ۔ چین پاکستان معاشی راہداری اور دوسرے استحصالی منصوبے سیندک یا ریکوڈک کی وجہ سے چین بلوچ قوم کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کو فوجی اور مالی امداد فراہم کررہی ہے، جیسا کی جنرل اسلم بلوچ نے 2018 میں اے این آئی نیوز سے انٹرویو میں کہا تھا کہ چین، چین پاکستان معاشی راہداری اور دوسرے سرمایہ کاری پروجیکٹ کے نام پر بلوچستان کی معاشی استحصال کر رہا ہے۔ چین کے تھینک ٹینک ادارے اور پیپلز لبریشن آرمی بھی بلوچستان میں موجود ہے اور بلوچوں کی قومی تحریک کے خلاف پاکستان کی مدد کررہا ہے۔

2018 میں چینی قونصل خانہ ، 2019 میں گوادر پی سی ہوٹل، 2020 میں کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر فدائی حملے ہوچکے ہیں، ان سارے حملوں نے پاکستان اور چین کے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کو سخت مشکلات کا شکار کردیا ہے جس کے بعد چین، بلوچ قومی تحریک کے خلاف پاکستان کی مدد میں اضافہ کررہا ہے اور مسلح تنظیموں سے نمٹنے کے لئے جنگی ڈرونز دے رہا ہے۔

26 اپریل 2022 کے حملے نے چین کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے اور چین نے پاکستان کو چینی شہریوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لۓ چینی سیکورٹی یونٹس کو پاکستان میں سیکورٹی سرانجام دینے کی اجازت دینے پر زور دے رہا ہے اور اس واقع کے بعد پاکستان میں کنفیوشین انسٹی ٹیوٹ اور چینی ریسٹوران، مارکیٹ اور سمندری مصنوعات کمپنی وقتی طور پر بند کر دی گئی تھی۔

شادی بلوچ کی فدائی حملے نے پاکستان میں موجود چین کے منصوبوں سے منسلک ہزاروں چینی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان میں چینی مزدور خوف کے سائے تلے کام کررہے ہے۔ شاری بلوچ کے فدائیں حملے نے پاکستان اور چین کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اس حملے کی سالگرہ کے دن پاکستان کےچیف آف آرمی عاصم منیر چین کے دورے پر گئے ۔ چین کے ایک اہم تھنک تینک ادارے نے چین پر زور دیا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ قومی تحریک سے وابستہ مسلح تنظیموں کے خلاف چین خود فوجی آپریشن کرے۔

بلوچستان کی تحریک ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور چین یہ بہ خوبی جانتا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو ختم کرنا آسان نہیں ہے اور بلوچ انسرجنسی سے منسلک ادارے ؤ جماعتیں بیرونی قوتوں کو سرمایہ کاری کی بھی اجارت نہیں دیں گے اسی لئے چین پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ بلوچ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرے، جو بلوچ قومی وحدانیت اور منظم ہونا کا اظہار ہے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں