خضدار سے دو افراد جبری لاپتہ

217

بلوچستان کے ضلع خضدار سے مزید دو نوجوان جبری طور پر لاپتہ کردیئے گئے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان سے جبری گمشدگی کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ضلع خضدار کے علاقے گریشہ سے وہاں کے رہائشی نوجوانوں افضل ولد عباس اور نور خان ولد علی کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔

علاقائی ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ مذکورہ دونوں نوجوانوں کو حکومتی حمایت یافتہ مسلح افراد نے رات گئے ان کے گھر سے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر متعدد مسلح جتھے تشکیل دینے کا الزام ہے جنہیں عرف عام میں ڈیتھ اسکواڈ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ جتھوں پر لوگوں پر مسلح حملوں، جبری گمشدگیوں، اغواء برائے تاوان اور منشیات فروشی سمیت دیگر اسی نوعیت کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پانچ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے جن میں قلات سے ایک، پنجگور سے دو اور خضدار سے دو افراد شامل ہیں۔