مستونگ :امداد کے منتظر سیلاب متاثرین کا ایک بار پھر دھرنا

165

کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنے کے باعث درجنوں گاڑیاں پھنس گئی، مظاہرین سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی و امداد کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں-

متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیلاب و بارشوں کی تباہی کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے مکین بے گھر ہو چکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے نہ انہیں خیمے ملے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہے سیلاب اور بارشوں کے بعد ہمارے بچے بھوک وافلاس سے دو چار ہیں-

مظاہرین نے کہا انتظامیہ اتنے دن متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑ کر خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیں انھیں متاثرین کی کوئی فکر نہیں علاقوں میں نا بجلی ہے نا گیس نہ پینے کا صاف پانی، سیلاب سے گھر تباہ ہوئے لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں-

مستونگ دھرنے میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے-

یاد رہے مستونگ سیلاب متاثرین گذشتہ کئی روز سے امداد کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں متاثرین اس سے قبل بھی کوئٹہ کراچی شاہراہ کو احتجاجی بند کردیا تھا تاہم بعد میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا تھا-

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جھوٹی تسلیوں پر احتجاج ختم نہیں کرینگے اگر حکومت اور ضلعی انتظامیہ متاثرین کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پہلے کوئی پیش رفت کرکے دکھائیں-

یاد رہے واضح رہے بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان کے تمام 36 اضلاع متاثر ہوئے حکومت کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں 13 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، 1 لاکھ 85 ہزار سے زائد مکانات یا تو گر گئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے بلوچستان میں گذشتہ دنوں ہونے والے بارشوں سے کئی علاقوں میں اب تک معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہوسکی-

دریں اثناء بلوچستان ٹرانسپورٹ یونین نے اعلان کیا ہے کہ 20 دن گزرنے کے باجود بولان شاہراہ کی عدم بحالی کے خلاف کل احتجاجاً سڑک بند کردینگے-