فورسز ریلیف آپریشن کے نام پر سیلاب زدہ علاقوں میں ڈھیرے ڈالیں گے ۔ ماما قدیر بلوچ

73

وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4773 دن ہوگئے، بلوچ وومن فورم کے فرزانہ بلوچ، ہیومن رائٹس اور سوشل ایکٹیوسٹ حمیدہ نور سمیت دیگر لوگوں نے کیمپ آکر اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کی آواز دبانے کیلئے ریاستی مشینری سرگرم عمل ہیں، توپوں اور بموں کی گن گرج سے لوگوں کو خاموش کرانے کا طریقہ آزمایا جا رہا ہے، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے، حالانکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل و دیگر متعدد بار رپورٹ کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے، ریاستی جبر اور ظلم کے شکار لوگ اب سیلاب سے مزید تنگ اور پریشان ہو گئے ہیں، ہم نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا وہ سچ ثابت ہو رہا ہے کہ ریاستی فورسز آواران زلزلے والی تاریخ کو دہرا کر ریلیف آپریشن کے نام پر آرمی آپریشن برقرار رکھنے کیلئے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈھیرے ڈالیں گے، آبادیوں میں کیمپس کرکے لوگوں کو مختلف حربوں بہانوں سے تنگ کر رہے ہیں ، ریسکیو کے بجائے لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیلاب زدہ حالت میں بھی لوگوں کو اٹھا کر جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ تھما نہیں ہے، بلوچستان پہ ریاستی قبضے کے بعد ظلم اور بربریت کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا، جس پہ عالمی دنیا کو آواز اٹھانا چاہیئے تاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے –