تربت: بی ایس او وفد کا بلوچستان اکیڈمی کا دورہ

121

بی ایس او کے وفد نے مرکزی سکریٹری اطلاعات بالاچ قادر کی قیادت میں بلوچستان اکیڈمی کیچ کا دورہ کرکے چئیرمین بلوچستان اکیڈمی ڈاکٹر غفور شاد اور وائس چئیرمین عارف عزیز سے ملاقات کی۔

وفد میں تنظیم کے مرکزی کمیٹی کے رکن کریم شمبے، تربت زون کےصدر کرم خان بلوچ، جونئیر نائب صدر شے مزار، جوائنٹ سیکریٹری کینگی ندیم، جونئیر جوائنٹ سیکریٹری احمد حبیب سمیت لا کالج اور عطاشاد ڈگری کالج کے ذمہ داران شامل تھے۔ تنظیم کے وفد نے بلوچستان اکیڈمی کے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر غفور شاد نے بی ایس او کے وفد کو بلوچستان اکیڈمی کے دورے پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچی اور براہوئی زبان و ادبی کی ترویج سمیت انہیں سائنٹفک طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اکیڈمی نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں ماتی زبانانی دیمروئی مجلس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جسکا مقصد مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے اور انکو سرکاری توجہ دلانے کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔ بلوچی، براہوئی سمیت دیگر مادری زبانوں سے متعلق پالیسی بنانے اور تعلیمی اداروں میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا میں بے شمار ایسی زبانیں ہیں جو عدم توجہی کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ایک رپورٹ کے مطابق براہوئی بھی اُن زبانوں میں شامل ہے جنہیں مستقبل میں ختم ہونے کا خطرہ ہے، بلوچی اور براہوئی تاریخی اور خطے میں موجود قدیم زبانیں ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ان کو سائنٹفک طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اب امر اس بات کی ہے کہ بلوچی، براہوئی سمیت دیگر مادری زبانوں کو تحفظ دینے کیلئے حکومت عملی اقدامات اٹھائے۔

اس موقع پر بی ایس او کے سیکریٹری اطلاعات نے ماتی زبانانی دیمروئی مجلس کی قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تنظیمی سطح پر ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کی _

انھوں نے کہا کہ بی ایس او کے آئین میں ہی مادری زبانوں کی ترقی و ترویج کیلئے زور دیا گیا ہے۔ براہوئی، بلوچی سمیت دیگر مادری زبان حکومتی عدم توجہی کے شکار ہیں۔تنظیم اس عملی جدوجہد میں بلوچ اسکالرز، اساتذہ، اکیڈمیز اور ادبی لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان اکیڈمی تربت کے خدمات انتہائی قابل تحسین ہیں۔ زبان و ادب کی فروغ سمیت تخلیقی سرگرمیوں کو دوام بخشنے کیلئے اکیڈمی نے ہمیشہ ایک غیر معمولی کردار ادا کی ہے۔ ادبی اکیڈمیز معاشرے میں تخلیقی رجحانات کو پروان چڑانے کا ذریعہ ہیں۔حکومت بلوچستان اکیڈمی سمیت دیگر ادبی اداروں کی مالی معاونت کرے۔