دیس کی سسئی جاگ رہی ہے ۔ محمد خان داؤد

130

دیس کی سسئی جاگ رہی ہے

محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ آزادی جیسا عشق ہے
وہ عشق جیسی آزادی ہے
اس لیے وہ کوئل کی کوُک بن کر کوُکتی ہے۔ وہاں جہاں علم قلم بھی خاموش ہوتے ہیں اور اہل دانش بھی۔ جہاں دانا خاموش ہوں وہاں وہ دیوانی کوئل کی گونج بن کر گونجتی ہے، ویسے بھی دھرتی کو دانا سے زیادہ دیوانے عزیز ہو تے ہیں اور وہ داناکی صف میں آخری اور دیوانوں کی صف میں پہلی پہلی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔ وہ کراچی میں مظلوم،معصوم،دکھی بلوچ بیٹیوں کی پہلی اور آخری ڈھال ہے۔ وہ ماں جیسا مورچہ ہے جہاں بلوچ دکھی بیٹیاں آکر بہت روتی ہیں۔ وہ ایسا دوپٹہ ہے جس میں سب آنسو جذب ہو جا تے ہیں۔ وہ شکستہ دوپٹے جیسی نہیں۔ وہ ہواؤں میں لہراتے پرچموں جیسی ہے۔اس کا دوپٹہ ہمیشہ پرچموں کی صف میں کھڑا رہا ہے۔ وہ ایسا بند ہے جہاں سب دکھ ٹہر سے جاتے ہیں اور جدو جہد آگے بڑھتی ہے۔ وہ جدو جہد کی اکیلی سسئی ہے۔ جو اپنے دکھوں کی سہلیوں کو ساتھ لیے سفر میں رہتی ہے۔ وہ لطیف کے سروں جیسی ہے۔ اگر لطیف اس دور میں ہوتا تو اپنا رہ جانے والا سُر ضرور لکھتا۔

”سُر آمنہ بلوچ“جس میں درد ہوتا،آہ ہو تی،صدا ہو تی اوراشکوں سے بھری بولی ہو تے جسے جب بھی کوئی گاتا تو اشک بار ضرور ہوتا۔
اور جوگی اس سُر کے بغیر اپنا سفر پورا ہی نہ کرتے۔
وہ جوگیوں کی صدا جیسی آمنہ بلوچ بھی اس د ن سندھ کے دانشورو کو یہی بات سمجھانے آئی تھی جو بات زمانہ پہلے سارتر نے کہی ہے کہ
”آزادی!وہ ہے جو آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں
جو آپ کے ساتھ کیا گیا ہے!“
پر وہ سندھ کے اہل قلم،اہل دانش،جوگیوں،صوفیوں،سنتوں سے دور رہنے والے
اور سرکار کے جوتے چاٹنے والے آمنہ بلوچ کی بات کیسے سمجھ سکتے کہ
”آزادی!وہ ہے جو آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں
جو آپ کے ساتھ کیا گیا ہے!“
اس لیے قانون کی آڑ لیکر سندھ سرکار پولیس کی معرفت بلوچ سسئی اور اس کی بہنوں کے ساتھ وہ کچھ کرتے رہے جو کہیں بھی باشعور اور تہذیب یافتہ معاشرے میں نہیں ہوتا،پر افسوس مورڑو اور لطیف کے دیس میں ہوا اور بلوچ بیٹیوں کے پرچم سروں سے نوچے گئے۔
سب خاموش رہے۔سندھ کے مردہ فروش ادیب تو خاموش رہے ہی رہے پر بلوچستان کے کفن پوش سیا سی اداکار بھی خاموش رہے اور میرے دیس کی سسئیاں سندھ کی سر زمیں پر اپنے پنہوں کی تلاش میں وردی والی بلا سے لڑتی رہیں جھگڑتی رہیں اور سب سے کہتی رہی وہ بات جو سارتر نے کہی ہے کہ
”جہنم دوسرے لوگ ہیں!“
ہم تو جنت سے بے دخل کیے گئے ہیں
ہم تو دیس سے بے دخل کیے اپنے بیٹیوں اور بھائیوں کی تلاش میں ہیں
ہم تو مسافر ماؤں کے آنسو پونچھے نکلے ہیں
ہم تو مسافر ماؤں کی دھول آلود جوتیاں اُٹھانے آئے ہیں
ہم تو مسافر ماؤں کی نیند کے نگہبان بن کر آئے ہیں
ہم تو روتی بیٹیوں کے درد کو دامن سے دور کرنے آئے ہیں
ہم تو دردیلی ماؤں کی میلی مانگیں دھونے آئے ہیں
ہم تو مسافر جاگتی ماؤ ں کی منتظر دید بن کر لوٹے ہیں
ہم تو درد کو بند دینے آئے ہیں
ہم تو مسافر ماؤں کے دھڑکتے دل کو تھامنے آئے ہیں
ان ہی بلوچ دیس کی سسئیوں میں ایک سسئی آمنہ بلوچ بھی تھی
جو سحر جیسی ہے جوکونج جیسی ہے
جس کی آواز میں ایسی صدا ہے کہ
”مجھے ان متاثرین سے نفرت ہے
جواپنے جلاد کا احترام کرتے ہیں!“
وہ جو آج کی سب سے توانا آواز ہے
ہاں وہ آواز اکیلی ہے۔نہتی ہے۔پر کمزور نہیں
وہ آواز ایسی ہے جس کے لیے ایاز نے کہا تھا کہ
”گونج بہ کائی کونج پریان ء جی!“
ایسی آواز جس کے لیے ایاز نے یہ بھی کہا تھا کہ
”ھکڑو مانھون لکھ تھیے تھو
جو دھرتی کے دھونداڑے تھو!“
وہ دیس کی سسئی ہے
وہ آزادی کا پہلا اعلان ہے
وہ نئی صبح ہے
وہ نیا سویرا ہے
وہ باہر سے لڑکی
اور اندر سے ماں ہے
اس کا دل دھرتی جتنا وشال ہے
وہ آکاش پہ اُمید کا ابھرتا تارہ ہے
وہ سب رنگ سانول ہے
وہ دھنک رنگ ہے
وہ مختصر نظم ہے
اتنی مختصر
جتنی خوشی کی شام
پر وہ خوشی کی شام اس،شام درد سے بھر گئی تھی جس دن سندھ دھرتی پر بلوچ بیٹیوں پر سندھ پولیس وحشی بن کر کڑکی تھی اور اہل دانش خاموش تھے!
اہل دانش کیا پر بلوچ دھرتی کے نام نہاد سیاسی اداکار بھی خاموش تھے
پر اس ظلم پر وہ دھرتی خاموش نہیں تھی جہاں محبت کا جنم ہوتا ہے
جہاں ہوائیں حاملہ ہیں
جہاں بہتا پانی محبت کا پتا پوچھتا ہے
جہاں بارشیں کم اور عشق کی ہوائیں زیا دہ گھُلتی ہیں
جہاں آبشار اپنا پانی جب تک نہیں گراتے جب تک ان آبشاروں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کے بہتے پانیوں سے محبت کا جنم ہوگا
جہاں پتھر بھی منتظر رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ان پر محبوب کا نام کُندہ کرے
جہاں سب راستے عشق کی گلیوں کو جا تے ہیں
جہاں پہاڑوں سے لہو ٹپکا اور میدانوں میں گلاب کھل آئے
اس دن وہ دیس ایسے ظلم اور ایسی بر بریت پر خاموش نہیں تھا
اور اپنے سسئی آمنہ بلوچ سے کہہ رہا تھا
”مون ٻيھر لاٿو ڪوُس آھي،ڏس چنڊ اڃا آ پاڻي ءَ ۾
جي تون بھ ڇڪائين او ساٿي،مان چاھيان ٿو اُن کي بھ ڀريان!“
”میں پھانسی گھاٹ سے لوٹ آیا
دیکھ!چاند ابھی تک پانی میں
اگر تم بھی ساتھ رہو ہے ساتھی
تو چاند کو بھی بھر لوں جھولی میں“


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں