میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ (گیارواں حصہ) – مہر جان

238

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟

تحریر: مہر جان

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا کبھی جنگ سے باہر نکلی ہی نہیں (بابا مری) یہی بات اسی انداز میں بہت پہلے یونانی فلاسفر ہیرا قلیطوس نے کہی کہ “مزاحمت ہی انصاف ہے“ دوسرے الفاظ میں War is the father of all things جبکہ ھیگل کے فلسفہ کی بنیاد ہی یہی ہے، کہ دنیا کبھی جنگ سے باہر نہیں نکلی، گر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو بلوچستان کا جغرافیہ سرد جنگ میں گرم جنگ کا میدان بنا ہوا ہے لیکن اسے ریاستی تناظر میں دیکھیں تو ریاست کی جنگ اب دو محاذوں پہ شروع ہوئی، ایک وہ جنگ جو دیکھی جاسکتی ہے جس کی گرج سُنی جاسکتی ہے جس کے لیے لشکر و سپاہ، میدان کا ہونا ضروری ہے جو گرامشی کے ہاں پولیٹکل سوسائٹی کے دائرے میں آتا ہے، ایک وہ جنگ جو اذہان میں لڑی جارہی ہے، جو نہ دیکھی جاسکتی ہے نہ اسکی آواز کی گرج سنی جاتی ہے جس کے لیے میدان، لشکر و سپاہ کی ضرورت نہیں، جسے پوسٹ کالونیل تھیوری میں “علمیاتی تشدد” کہا جاتا ہے جس کا دائرہ کار گرامشی کے ہاں “سول سوسائٹی“ ہے، ان دو جنگوں کا تعلق اک طرح سے جدلیاتی ہے، یہ ایک دوسرے کے لیے معاون کار ہے۔ جب بابا مری سے پوچھا گیا کہ 1977کی لڑائی ختم ہوئی تو بابا یک دم بولے کہ “یہ جنگ کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ ایک راؤنڈ کا خاتمہ تھا جنگ 1977 کے بعد بھی جاری رہی“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ جنگ جو میدان میں لڑی جاتی ہے “گرم جنگ” کہلاتی ہے اور دوسری جنگ جو اذہان میں لڑی جاتی ہے ادارہ جات، نصاب، میڈیا میں “سرد جنگ“ کا حصہ ہوتی ہے، سرد جنگ میں لڑی جانے والی جنگ کا مقابلہ بھی نظریاتی (سیاسی محاذ /ثقافتی محاذ) کے طور محکوم کی طرف سے لڑی جارہی ہوتی ہے، فرق صرف بقول ماؤ ہتھیار کا ہے، ایک کے پاس بندوق جبکہ دوسرے کے پاس قلم ہوتا ہے، اب کسی بھی بلوچ کو گر فقط بلوچیت کے نام پر اٹھایا جاتا ہے اسکی حیثیت بقول بابا مری “جنگی قیدی کی ہوتی ہے” کیونکہ وہ سرد جنگ کا حصہ دار ہے، وہ اس ریاستی سیاسی نظریہ کا مخالف ہے جو ریاستی ادارے سول سوسائٹی کے سہارے پہ کبھی مذہب کے نام پہ، کبھی امن کے نام پہ، کبھی جمہوریت اور مختلف اصطلاحات کی آڑ میں ترویج کررہے ہوتے ہیں وہ بقول جارج آرویل لفظوں کے سامنے ہتھیار نہیں پھینکتا بلکہ لفظوں کو، اصطلاحات کو خود اپنی زمینی حقائق و مٹی کی محبت سے جوڑ کر معنی و مفاہیم دے رہا ہوتا ہے اس لیے اس کی حیثیت جنگی قیدی کی ہوجاتی ہے۔

نیو کالونیل ریاست کے ابتدائی ادوار میں سول سوسائٹی کا جنگی کردار بہ نسبت پولیٹکل سوسائٹی کے جنگی کردار سے زیادہ پر اثر اور خطرناک تھا۔ ریاست کی بنیاد کو چونکہ جبر اور مصنوعی ریاست کی شکست و ریخت کا خوف تھا اس لیے شروع دن سے ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ون یونٹ کے قیام میں جہاں پنجاب کی حق حکمرانی کو بنگال کی آبادی کی تناسب سے تقویت دینی تھی وہیں پہ بلوچستان میں جاری قومی جہد کو “قبائلی شورش یا سردار ترقی مخالف” کا نام دے کر دبانا مقصود تھا۔ ون یونٹ کے قیام کے عمل سے سب سے پہلے مختلف اقوام کی زبان، ثقافت، طرز معاشرت پر پاکستانیت کے نام پہ براہ راست حملہ کیا گیا تاکہ ریاستی جبر کو دوام بخشا جائے اور کمزور ریاستی بنیادوں کو سہارا دیا جائے، ریاستی سول سوسائٹی کے زیر اثر نہ صرف بلوچستان کے مذہبی لوگ آئے جن کے سامنے یہ دعویٰ رکھا گیا کہ پاکستان کے قیام کی بشارت پیغمبر نے خواب میں آکر دی ہے بلکہ ایسے لوگوں کو ریاستی سول سوسائٹی خطرناک طریقے سے زیر اثر لائی جو قومی جہد کو فقط قبائلی شورش قرار دینے لگے اور قومی رہنماؤں کو قباہلی رہنماء کہہ کر ریاستی راگ الاپنے میں قبضہ گیر کی زبان بولنے لگے۔ ریاست کا پورا زور اس بات پہ تھا کہ آپ کی دشمن ریاست نہیں بلکہ سردار و نواب ،ہیں، اور وہ بھی وہ سردار و نواب جو ریاستی جبر کے سامنے دیوار بنے رہے اس لیے آپ کو پہلے ان “ترقی مخالف سرداروں” کیخلاف اٹھنا چاہیے۔ دوسری طرف ریاستی میر و سردار بنائے گئے غرض بلوچ قومی سیاست کے حوالے سے ریاست نے دوہرا کھیل رچایا جو سردار ریاستی جبر کے خلاف کھڑے ہوئے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا جبکہ دوسری طرف خودساختہ سردار بنائے بھی گئے، اب بجائے بلوچ قومی سیاست وحدت میں رہ کر پاکستانیت کا مقابلہ کرتے ایک اور سرد جنگ انکے اپنے درمیان شروع ہوئی، جو ریاستی سوسائٹی کے زیر اثر چلتی رہی، ان میں سے اکثر اپنی نظریاتی بنیاد کو سوشل ازم سے جوڑتے رہے لیکن بدقسمتی سے وہ سوشل ازم کے جدلیاتی کردار اور اپنی زمین کے پس منظر سے ناواقف ہوکر صرف سردار مخالفت کو ہی سوشل ازم سمجھتے ہیں جبکہ بابا مری جدلیاتی طریق کار و زمینی حقائق سے بخوبی واقف تھے اس لیے وہ کبھی بھی ان صفوں میں نہیں پائے گئے اور نہ ریاستی سول سوسائٹی کے زیر اثر آئے، دوسری طرف پنجابی قوم اس بات پہ قائل ہو چکی تھی کہ یہ لوگ پسماندہ، جاہل اور وحشی ہیں جن پہ حکمرانی کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ بنگالیوں کے قد و کاٹھ، رہن سہن کو متواتر نشانہ بنایا گیا۔ باقاعدہ سیاسی میٹینگز ،کابینہ کے اجلاسوں میں بنگالیوں کو تضیحک کا نشانہ بنایا گیا، اسی طرح ڈیرہ بگٹی (سوئی) سے نکلنے والی سوئی گیس سے وہاں کے رہنے والے افراد کو اس لیے محروم رکھا گیا کہ کہیں وہ اپنے آپ کو جلا نہ دیں۔ اور شروع دن سے نیوکالونیل ریاست کے ہر حربہ کو پنجاب کی اخلاقی و خاموش حمایت حاصل رہی اب قوم پرست رہنماؤں سے کوئی بھی آواز اٹھتی وہ پنجاب کے سامنے غدار کے طور پیش کیا جاتا۔ پنجاب اس عمل کو من و عن تسلیم کرتا، اس کی سب سے بڑی وجہ لاشعور کی وہ خوف تھی کہ کہیں غیر فطری ریاست ٹوٹ نہ جائے، مذہبی کارڈ سے لے کر ہر سیاسی پروپیگنڈہ کو نصاب و میڈیا، تعلیمی اداروں کا حصہ بنایا گیا، اقلیتوں کے نام پہ سیاست کرنے والی مسلم لیگ اب پاکستان کو محکوم اقلیتی اقوام کا قبرستان بنانے پہ بضد ہوگئی۔

دوسری طرف محکوم اقوام کو اس بات کا شدت سے احساس ہورہا تھا کہ ون یونٹ کی ذریعے نہ صرف تاریخ و شناخت کو مسخ کیا جارہا ہے بلکہ ساحل وسائل پر بھی ہاتھ صاف کیا جارہا ہے اس لیے بابا مری نیب میں ہوتے ہوئے بھی ایک الگ لائن میں کھڑے تھے وہ کسی بھی قیمت پہ وسائل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے، حتیٰ کہ جب تہتر کے آئین پہ مشترکہ طور پہ دستخط کرنے کا وقت آیا، بابا مری بشمول اس وقت کے اُن کے فکری سیاسی احباب نے تہتر کی آئین پہ دستخط نہیں کیے اس طرح تہتر کا آئین “غیر متفقہ آئین” کے طور پہ نافذ کیا گیا، “سردار ترقی مخالف” نعرہ کو ریاست کی سول سوسائٹی نے باقاعدہ بطور مشن اپنایا ہوا تھا، اس نعرہ کی حقیقت کو فاش کرنے کے لیے جونہی بلوچستان میں نیب کی حکومت قائم کی گئی تو سب سے پہلے انہی ترقی مخالف سرداروں نے اسمبلی میں سرداری نظام کیخلاف بل پیش کیا، بقول سردار عطاء اللہ مینگل کہ مرکزی حکومت نے اس حوالے کوئی مدد نہیں کی، ساتھ ساتھ ریاست کی نظر بلوچستان میں موجود زرخیز زمینوں پہ بھی تھی جہاں وہ آبادکاری کے ذریعے ڈیموگرافک تبدیلی چاہتے تھے جو کسی بھی نیو کالونیل ریاست کا خاصہ ہوتا ہے، نیب کی حکومت کو کسی بھی صورت ڈیموگرافک تبدیلی قبول نہیں تھی، اس لیے نیب کی حکومت کو فقط چھ ماہ برداشت کیا گیا، حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ریاست کُھلی جارحیت پہ اتر آئی، گر اس وقت بلوچ قوم قومی جہد نہ کرتی تو آج نصیر آباد کی زمینیں “چک نمبر” کی نظر ہوتی، اور ریٹائرڈ جرنیلز ایکڑوں کے مالک ہوتے، ریاست کی کھلی جارحیت میں بلوچوں کی لاشوں کو ہیلی کاپٹروں سے گرایا گیا، خوف و وحشت ہر سُو پھیلائی گئی اور ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے ذریعے یہ بات پھیلائی گئی کہ یہ جنگ چند قباہلی سرداروں کیخلاف ہے جو ذاتی حیثیت سے شورش پھیلا رہے ہیں جو ریاست کی سالمیت کے لیے خطرناک ہے انہی سرداروں کیخلاف بلوچستان میں بھی مہم چلائی گئی اور مزے کی بات یہ تھی کہ اینٹی سردار کا رٹ لگانے والے پیپلز پارٹی (فیوڈل لارڈز کی جماعت) کی گود میں بیٹھ کر اینٹی سردار کا گردان الاپ رہے تھے، بقول سردار عطاءاللہ مینگل بھٹو کے اقدامات اور ایوب خان کے اقدامات میں کوئی فرق نہیں تھا، ایک کے پاس وردی تھا تو دوسرا جمہوریت اور حقوق کے نام پہ یہی کچھ کررہا تھا، آج گر کوئی دو ہزار سے پہلے والی قومی جہد کو قباہلی شورش کہتا یا لکھتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اُس دہائی میں وہ مخالف کیمپ میں بیٹھے تھے۔ دانش کی اس جنگ میں لفظوں کی پہچان، لفظوں میں چھپی ہوئی طاقت کو دیکھنا اور اس طاقت کے سامنے کھڑا رہنا ہی اصل دانشمندی ہے، ریاست آج بھی اس قومی جہد کو انسرجنسی کہتا ہے اور بلوچ اکیڈیمیا کسی حد تک اس اصطلاح کو قبول کرچکا ہے، آج بھی ریاستی لبرل کے بڑے بڑے نمائندے بشمول پرویز ہود بھائی، عامر رانا اس قومی جہد کو دہشت گردی لکھتے ہیں، ابھی کل کی ہی بات ہے کہ لبرل اخباروں کا نمائندہ اخبار (ڈان) نے نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کو ”ایک قباہلی چیف کا قتل” لکھا یا ان لبرلز کا جو اپنے انگریزی کا لمز میں یہ لکھتے ہیں کہ اب قومی جہد پڑھے لکھے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے تو کیا قومی جہد کے پہلے کے معمار جاہل تھے؟ لفظوں کے اس حصار کو توڑنا اس سے باہر نکلنا ہی دانشمندی و بلوچ سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے جو بدقسمتی سے اس حوالے اب تک غیر فعال ہے، کسی بھی آئیڈیالوجی خاص کر نیو کالونیل تناظر میں ڈی کالونائزیشن کے لیے “زبان کا طاقت کے ساتھ تعلق” کو سمجھنا ہر بلوچ پہ فرض ہے، تاکہ یہ جنگ بھی (سیاسی محاذ /ثقافتی محاذ ) بقول ماؤ قلم کے ہتھیار سے لیس ہوکر لڑی جائے جو کہ نیشنل ازم کے دائرے میں ہی ممکن ہے
(جاری ہے)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں