میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ (دسواں حصہ) – مہر جان

172

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟
دسواں حصہ

تحریر: مہر جان

دی بلوچستان پوسٹ

مزاج ، قوموں کی تاریخ کا سر چشمہ ہوتا ہے (بابا مری) تاریخی عمل میں “شناخت” کی جنگ کسی بھی قوم کے لیے بقول بابا مری ایک سیاسی پروگرام سے بڑھ کر ایک نصب العین بن جاتا ہے جیسا کہ لینن کے لیے انقلاب ایک پروفیشن بن جاتا ہے ، یعنی نصب العین سے مراد کسی سیاسی پروگرام کا اوڑھنا بچھونا( طرز حیات) بن جانا ہے ، یہاں نصب العین سے مراد تجریدی نہیں بلکہ سیاسی و ثقافتی ہے جسکی بنیاد بقول بابا مری “واک و اختیار ، اتحاد اور قومی شناخت “ ہے جو یقیناً ایک سخت ترین راہ ہے جہاں سب سے پہلے انفرادیت کی نفی کرکے اجتماعیت کی تشکیل بنیاد بنتی ہے بلوچ قومی جہد کے گر تاریخی عمل کا جائزہ لیا جاۓ تو شروع دن سے ہی مزاحمت سیاسی و ثقافتی انداز میں کسی نہ کسی صورت میں بلوچ قوم کرتی آرہی ہے ، چاہے پرتگیزیوں کے خلاف حمل جہیند کا مزاحمتی کردار ہو ، انگریزوں کے خلاف محراب خان کا مزاحمتی کردار ہو ، یا پھر آغا کریم کا نیو کالونیل ریاست کیخلاف جہد کا آغاز ہو ، جہاں وجود ،جدلیاتی انداز سے آگے بڑھتے ہوۓ جوھر سے کاربند ہوکر تاریخی عمل میں قومی شعور کی شکل اختیار کرکے قومی مزاج بن جاتا ہے ، یہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ مزید پختگی کی طرف رواں دواں ہوتا ہے ،اس لیے کہا جاتا ہے مزاج کی تبدیلی وقت کے دھارے میں اس قدر سست ہوتی ہے کہ وقت و حالات کا جبر بھی اس میں بیش بہا تبدیلی نہیں لاسکتا، اس طویل تشکیلی مرحلے میں قومی شعور ، قومی آذادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے گر بدلتے ہوۓ حالات کے مطابق اپنی منصوبہ بندی اور ترجیحات پہ اذہان مرکوز رہے،خود احتسابی کے عمل کے لیے ہمیشہ اپنے آپ کو ذہنی طور پہ تیار رکھنا، اپنے فکر و عمل میں دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے رہنا اور انا نیت و نرگسیت جیسی بیماریوں کو جو کسی بھی قومی تحریک کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں شخصیت کا حصہ نہ بنانا، تاریخی عمل (آقا و غلام ) میں قومی شعور کی بنیاد تجریدی نہیں رہتی بلکہ مقرون (کنکریٹ) تاریخی عمل کی بنیاد پہ ایک سپر اسٹرکچر(قومی شعور/مزاج) بنتا رہتاہے اور اسی سپر اسٹرکچر کی بدولت تاریخی عمل بلوچ قومی تاریخ میں محرک و پراثر رہا ہے ۔

بلوچ قوم کی تاریخی عمل کو نیو کالونیل اسٹیٹ کی غیر فطری تشکیل سے شروع کرتا ہوں گو کہ اس سے پہلے بھی بلوچ قومی تحریک انگریزوں کیخلاف جاری تھی ریاست قلات نیشنل پارٹی کی تشکیل بھی ہو چکی تھی اس پلیٹ فارم سے باقاعدہ “بلوچ قومی تحریک” جہد کا آغاز بھی کرچکا تھا اسی اثناء میں انگریز ایک “نیو کالونیل اسٹیٹ “بنانے کا منصوبہ بنارہا تھا جس کے مطابق بقول بابا مری “غلاموں کو اکھٹا کرکے پاکستان بنا دیا گیا “ یہ نئی غیر فطری ریاست اپنا اسٹرکچر نفاذ کرنے کی بجاۓ اسی برٹش اسٹرکچر کو نافذ کرنے کی تگ دو میں مصروف عمل ہے اسی لیے ایسی ریاستوں کو کالونیل ریاست کی بجاۓ اکیڈیمیا میں نیو کالونیل ریاست کہا جاتا ہے (یاد رہے ایسی ریاستوں کو جو پہلے سے مسلط شدہ قابض کے نظام کو اپنے لیے اپناتا ہے اور دوسروں پر بھی تھونپ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کالونیل ریاست کی بجاۓ اکیڈیمیا میں نیو کالونیل ریاست کہاجاتا ہے۔) آج بڑے بڑے اکیڈیمیا میں بڑے بڑے نام ، یا لفظوں کی جگالی کرنے والے بڑے بڑے دانشور نیو کالونیل ریاست کے تشکیلی مراحل یعنی بنیادی تضاد پہ بات کرنے یا لکھنے پہ کتراتے ہیں تو اپنی تئیں یہ ریاست کے اک طرح سے سہولت کار ہیں، جب تک بنیادی تضاد پہ بات نہیں ہوگی تو بات آگے کیسے بڑھے گی ؟ بنیادی تضاد مزاحمت کی بدولت روز روشن کی طرح عیاں ہواہے کہ ریاست قلات پہ جارحانہ طور پر قابضین قابض ہوۓ ان کے پاس طاقت کے سوا کوئ بھی اخلاقی ، سیاسی ، تاریخی،جغرافیائی جواز نہیں تھا ، مسٹر جناح جو خود خان آف قلات کے ریاست قلات کے لیے برٹش ایمپائر کے سامنے وکیل مقرر تھے ، اب بار بار خان آف قلات سے ملنے کے لیے اصرار کررہے تھے ، کہ کسی نہ کسی طرح خان آف قلات سے ریاست قلات کی الحاق پہ رضامندی حاصل کرسکیں ، ریاست قلات کا ایوان بالا ، ایوان زیریں نہ صرف الحاق کی مخالفت کرچکے تھے بلکہ جناب غوث بخش بزنجو اس حوالے سے بلوچ قوم کا موقف مدبرانہ انداز میں ایوان میں پیش کرچکے تھے ، اور کسی بھی حد تک (مزاحمت )جانے کے لیے واضح موقف رکھتے تھے ، شروع شروع میں ریاست قلات کو باقاعدہ اک آذاد ریاست تسلیم کیا گیا لیکن مسٹر جناح جو کالونیل ماہینڈ سیٹ رکھتے تھے ، کالونیل طرز حکمرانی کا خواب لے کر انگریزوں کے دی گئی منصوبہ کے مطابق جمہوری حکومتوں کا خاتمہ کرکے ، جبری الحاقات کے ذریعے نیو کالونیل اسٹیٹ کی بنیاد رکھی۔

ریاست قلات میں مزاحمت کے پیش نظر پورا ایک بریگیڈ تیار تھا اس پوری واقعہ کا جنرل (ر) اکبر نے اپنی آپ بیتی میں ذکر کیا ہے کہ کیسے انہیں ریاست قلات کی طرف پیش قدمی کے لیے کہا گیا اور یہ سارا معاملہ سنسر رکھنے کے لیے مسٹر جناح خصوصی طور پہ ہدایت دے چکی تھی یعنی سنسر شپ کا آغاز پہلے دن سے ہوا ، جبکہ کرنل (ر)ایس پی شاہد (برٹش آرمی) کو خان آف قلات سے نمٹنے کے لیے کہا گیا جو کہ کالونیل و ڈکٹیٹر ماہنڈ سیٹ کا بھرپور اظہار تھا، خان آف قلات ایک مضبوط موقف کے ساتھ کھڑا تھا کہ ریاست قلات اور ریاست نیپال کی حیثیت دوسری ریاستوں سے الگ ہے جن کی خودمختاری کو معاہدوں کے تحت تسلیم کیا گیا ہے ، لیکن برٹش منصوبہ کے تحت نیو کالونیل ریاست میں ریاست قلات کا جبری الحاق کردیا گیا۔ اس طرح خان آف قلات اک مضبوط موقف کے باوجود کمزور خان کے طور پہ تاریخ میں سامنے آیا۔

اس جبری الحاق کیخلاف قومی راہنماء آغا عبدلکریم خان آف قلات کے بھائی نے قومی مزاحمت کا عَلم بلند کیا جو برٹش کالونیل ازم کیخلاف مزاحمت سے قدرے مختلف تھا ، اب یہاں پہ ریاست ایک طرف مذہب کے لبادے میں رضامندی چاہ رہے تھے ، جبکہ دوسری طرف بندوق کے نوک پہ زور آزمائ کررہے تھے ، زور آزمائ کے درمیان بار بار قرآن کو درمیان میں لاکر معاہدات کرتے اور پھر انہی معاہدات سے خود پلٹ جاتے ، قومی اذہان اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ نیو کالونیل ریاست مذہب کو بطور کارڈ ہمیشہ استعمال کرتی رہیگی ، اسی لیے پہلے دن سے جناب غوث بخش بزنجو اپنی پہلی تقریر میں واضح کر گئے کہ مذہب کسی بھی صورت الحاق کی بنیاد نہیں بن سکتا گر مذہب الحاق کی بنیاد بنتا ہے تو افغانستان و ایران کو مذہب کی بنیاد پہ الحاق کردیا جاۓ ، آغا عبد الکریم اس امر سے بخوبی واقف تھے اس لیے انہوں نے نیو کالونیل ریاستی سول سوساہیٹی جو مذہب کے آڑ میں رضامندی چاہ رہے تھے اس کیخلاف ایک طرف “قومی ثقافتی محاذ” اور “مذہبی محاذ” پہ مزاحمت کا فیصلہ کیا ، قومی ثقافتی محاذ کا مطلب اپنی تہذیب و ثقافت کا امین ہونا جبکہ مذہبی محاذ پہ نیو کالونیل اسٹیٹ کی جابرانہ پالیسیز کے جو مذہب کے لبادے میں اوڑھے ہوۓ تھی اسی لبادے کو کو تار تار کرنا تھا جبکہ دوسری طرف پولیٹیکل سوساہٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے باقاعدہ “قومی فوج” کو منظم کرنے کی کوشش کی جو جانبازوں اور جانثاروں پہ مشتمل تھی۔آغا عبدالکریم کو معاہدہ کے تحت بلایا گیا اور راستے میں انہیں گرفتار کرکے پاپند سلاسل کیا گیا ،یوں ریاست اپنے کیے گئے ریاستی معاہدات کی شروع دن سے پاسداری نہیں کی ، ریاست کی طرف سے ایک طرف جبری الحاق اور دوسری طرف بار بار اپنے ہی معاہدات کی خلاف ورزی کرنا ایک وطیرہ بنا ، قرآن کو نہ صرف ایک بار معاہدات کے درمیان لایا گیا بلکہ قومی راہنماء نوروز خان نے جب قومی مزاحمت کا دوسرے مرحلے میں مزاحمت کا عَلم بلند کیا تب بھی قرآن کو درمیان لاکر ایک دفعہ پھر نواب نوروز خان کو انکے ساتھیوں سمیت پہاڑوں سے اتارا گیا پھر اپنی کئے گئے ریاستی معاہدات کی خلاف ورزی کرکے قومی راہنماء نواب نوروز خان کو ان کے بیٹوں سمیت پاپند سلاسل کرکے ان کے بیٹوں کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا۔ یہاں پہ بلوچ قومی مزاحمت کو تاریخی عمل کی تناظر میں دیکھا جاۓ تو ھیگل کے وجود (بی اینگ) بنتا ہے جسکا ہونا نہ ہونے (نتھنگ)کے برابر ہے ، جسے تاریخی عمل میں ابھی آگے بڑھنا ہے ، ریاست کی سول سوسائیٹی و پولیٹکل سوساہیٹی سے نبرد آزما ہونا ہے۔

(جاری ہے)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں