حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں افغان طالبان کے کہنے پر شامل ہوئے – ٹی ٹی پی

201
فائل فوٹو

ریاست پاکستان سے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جنگ لڑنے والے سب سے بڑے شدت پسند گروہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، نے حکومت پاکستان کے ساتھ حال ہی میں ایک ماہ کی جنگ بندی اور مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2013 میں حکومت پاکستان کے اس تنظیم کے ساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی تاہم ان مذاکرات کے دوران امریکی ڈرون حملے میں تنظیم کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا مارا جانا اور اس کے علاوہ بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے وہ مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے اختتام پذیر ہو گئے تھے۔

سنہ 2013 میں مذاکرات کی ناکامی میں ایک اہم وجہ پاکستانی طالبان کے اندرونی اور اہم حلقوں کا ان مذاکرات پر عدم اعتماد بھی تھا۔ عدم اعتمار کا اظہار کرنے والوں میں ایک اہم نام اس تنظیم کے طاقتور کمانڈر عبدالولی مہمند عرف عمر خالد خراسانی کا تھا جو تحریک طالبان کے بانی کمانڈروں میں سے ہیں اور تنظیم کے حلقہ مہمند کے بانی سربراہ بھی۔

عمر خالد خراسانی کے اُس وقت کے دستیاب بیانات کے مطابق انھیں سنہ 2013 کے مذاکرات میں حکومت پاکستان کی سنجیدگی پر اس وجہ سے عدم اطمینان تھا کہ بقول ان کے اگر حکومت واقعی نتیجہ خیز مذاکرات چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے پاکستان میں قید طالبان قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔

اگر موجودہ صورتحال کو بھی دیکھا جائے تو اِس وقت ہونے والے مذاکرات میں بھی قیدیوں کی رہائی طالبان کی طرف سے اولین شرط ہے۔

ماضی میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران ’احرار الہند‘ نامی ایک گمنام تنظیم نے پاکستان میں کئی بڑے خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن کا اصل منصوبہ ساز عمر خالد خراسانی کو ہی گردانا جاتا تھا اور پاکستانی حکام کا دعویٰ تھا کہ خراسانی اس نوعیت کی کارروائیاں کر کے پاکستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے امن مذاکرات کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے۔

بعد میں عمر خالد خراسانی نے تحریک طالبان سے الگ ہو کر ’جماعت الاحرار‘ نامی اپنی الگ تنظیم کا بھی اعلان کیا مگر گذشتہ برس یہ تنظیم دوبارہ تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہو گئی تھی۔

جب حالیہ مذاکرات پر عمر خالد خراسانی کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ اور دیگر تمام قیادت کی طرح جاری مذاکرات کی مشروط حمایت کرتے ہیں۔

تاہم ساتھ ساتھ انھوں نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے مطالبات ماننے کی صورت ہی میں ان مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے، جس میں اب بھی سرفہرست مطالبہ تحریک طالبان پاکستان کے قید ساتھیوں کی رہائی ہے۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو پہلے مرحلے میں رہائی کے لیے 102 افراد کی فہرست بھی دی گئی تھی۔

عمر خالد خراسانی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اب تک اُن کے قیدیوں کو رہا نہیں کیا اور اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔

بظاہر یہی وہ وجہ ہے کہ عمر خالد خراسانی سنہ 2013 کی طرح اب بھی حکومتِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے مطمئن نظر نہیں آ رہے ہیں۔

خالد خراسانی نے بتایا کہ اُن کی سمجھ کے مطابق حکومت پاکستان ماضی کی طرح امن کے قیام کے بجائے اس بار بھی مذاکرات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اُن کے خیال میں شاید تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ان مذاکرات میں عدم شمولیت کو جواز بنا کر حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغان طالبان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھی، اس لیے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اِن مذاکرات پر تیار ہو گئے۔

بظاہر خراسانی افغان طالبان کے عالمی برادری کے ساتھ اس وعدے کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ جس میں طالبان نے اپنی سرزمین کو کسی بیرونی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

اب جب وہاں پاکستان مخالف اس سب سے بڑے شدت پسند گروہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد ہیں، جو طالبان کے زیر اقتدار آنے کے بعد بھی پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں تو یقیناً یہ افغان طالبان کے پچھلے سال دوحا امن معاہدہ پر عملدرآمد میں ناکامی تصور کی جا سکتی ہے۔

یہ بات امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے بھی اندیشے کا سبب بن سکتی ہے کہ طالبان کی ایسی کوئی دوسری ناکامی یا نرمی شاید ان کی اندرونی سکیورٹی کے لیے مستقبل میں خطرہ نہ بن جائے۔

افغان طالبان کے سیاسی اور جہادی مخالفین طالبان حکومت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ شاید ان کے دباؤ نے تحریک طالبان پاکستان کو حکومت کے ساتھ ان مذاکرات پر مجبور کیا ہے۔ طالبان حکومت پر اس الزام کی عمر خالد خراسانی نے تردید کی اور ان مذاکرات میں افغان طالبان کے کردار پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سمیت تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کی قیادت کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں اور ان سے ہرگز یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ ان کے لیے کسی ایسے دباؤ کا مؤجب بنیں جو تحریک طالبان پاکستان کے لیے نقصان کا سبب بن سکے۔ خراسانی نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان ان مذاکرات میں ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔

عمر خالد خراسانی نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ اپنے کمانڈروں کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جاری مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں تنظیم کا فیصلہ دوبارہ حملوں کے آغاز کی صورت میں ہو گا۔