بحریہ کا گیٹ کانپتے بوڑھے ہاتھوں نے جلایا ہے – محمد خان داؤد

68

بحریہ کا گیٹ کانپتے بوڑھے ہاتھوں نے جلایا ہے

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

”جب انسان کو اپنا ادراک ہو جاتا ہے وہ پیمبر ہو جاتا ہے!“
اسے اپنا اور اپنی دھرتی کا ادراک ہو گیا تھا۔سندھ نے تو بحریہ کا در چھ جون کا دیکھا اور اب سندھ بحریہ کے رویے کا سامنا کر رہا ہے۔بحریہ،بحریہ سے بہت آگے بڑھ کر بھیڑیا بن چکا ہے۔اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو ہڑپ کر رہا ہے جس کا مشاہدہ ہم نے کورٹ میں آئے ان اسیران بحریہ سے کیا جن میں سے ایک فرد بس اس لیے کھانا نہیں کھا رہا تھا کہ گھر میں اس کے بچے بھوکے ہیں اور وہ اسیر!
پر اب تو ہر وہ شخص اُٹھ رہا ہے جس نے کبھی بحریہ کی طرف منہ کر کے دیکھا بھی تھا۔

کیونکہ رات کو پاکستان چوک پر اس پریس والے کو بھی اُٹھا کر گم کردیا گیا ہے جس نے بحریہ کے خلاف بینر چھاپے تھے۔وہ تو مزدور تھا۔اس کا کیا قصور؟کیا وہ اپنی مزدوری بھی نہ کرے؟

ہو سکتا ہے آگے چل کر بحریہ اور اس کے حواری وہ سڑکیں بھی لپیٹ لیں جن سڑکوں پر چلتے کوئی بحریہ کی بدمعاشی عیاں کرتا ہے،کیونکہ سندھ اسی سڑک پر چل کر چھ جون کو بحریہ کے دروازے پر آیا اور علی ال اعلان کہا کہ”میری دھرتی پر ایسے قیمتی دروازے نصب مت کرو!“

پھر اس دروازے کے ساتھ کیا ہوا وہ ہم نے بھی دیکھا اور سندھ نے بھی پر اس وقت سندھ میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟کیا یہاں جمہوریت ہے یا مارشل لا؟

اگر جمہوریت ہے تو اس جموریت میں شاعروں،سیا سی کارکنوں اور دانشوروں پر کیس کیوں درج ہو رہے ہیں اگر مارشل لا ہے تو کوئی کھل کر کیوں نہیں کہتا کہ اس دیس میں مارشل لا ہے۔

جو کچھ بھی ہے وہ بہت ہی عجیب ہے۔بحریہ سندھ کے دلالوں سے بہت ہی سستے میں سولہ ہزار ایکڑ زمین خریدتا ہے اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جو بحریہ بنتا ہے وہ بنتا ہی چلا جاتا ہے اور لکھنے والے لکھتے ہیں سنانے والے سناتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے دیکھ بھی آتے ہیں کہ وہ سولہ ہزار ایکڑ پر نہیں بنتا جب بحریہ کی قبضہ کی دیوار کھڑی کی جا تی ہے تو ملیر کی روح کو روندتے وہ دیوار کہاں سے کہاں پہنچ جا تی ہے۔جہاں پہنچتی ہے وہ تو سردار خود اپنے ہاتھوں سے کوہستان کی عزت کو لوٹ رہے ہو تے ہیں، پر جہاں سے یہ دیوار چلی ہے وہ اس بات سے انکاری ہیں کہ وہ اس بدمعاشی اور قبضہ گیریت کو نہیں مانتے۔

سندھ اپنے روح پر بحریہ کے قبضے کو دیکھ کر مسلسل جلتا رہا ہے اور اب جب سندھ کے ہاتھ آگے بڑھ کر اس دیوار اور گیٹ کو جلا رہے ہیں تو ملک میں ایک نیا تماشہ شروع ہو چکا ہے۔

بحریہ سرکار سے مل کر ہر اس چیز کو جلا رہا ہے جو کبھی بحریہ مخالف رہا ہے۔نئے نئے کیسز بن رہے ہیں۔پولیس چھاپے مار رہی ہے،مزدور اپنی بند دکانوں سے اُٹھ رہے ہیں اور ان سڑکوں کو ایسے لپیٹا جا رہا ہے جیسے اس ریڈ کارپیٹ کو لپیٹا جاتا ہے جس پر کبھی کوئی چل کر کسی محل میں داخل ہوتا ہے۔

پر یاد رکھیں!جب دھرتی جاگتی ہے تو وہ ریڈ کارپیٹ آپ دھرتی بن جا تی ہے،دھرتی کی شاہراہ بن جا تی ہے اور وہ شاہراہ وہاں جا تی ہے جہاں جلتے دل جلتے ہاتھوں سے فرعونی دروازوں کوجلا دیتے ہیں
اس دن بھی یہی ہوا۔جب دل جلیں دلوں میں نفرت اور غصے کا دھونہ بھر جائے تو پھر کیا کیا جائے؟
کیا یہ بحریہ دیکھتے دیکھتے ایک ہی دن میں بنا تھا۔
نہیں
اور سندھ کے سینے میں غصے اور نفرت کی آگ بھی کوئی ایک دن نہیں جلی
جتنے دن ملیر کی دھرتی پر بحریہ کو بنتے،بگڑتے ہوئے ہیں
اتنے دن ہی بحریہ کے خلاف اس آگ کو ہوئے ہیں جو آگ سندھ کے سینے میں سلگتی رہی ہے
پھر سندھ کے ہاتھ آگے بڑھے اور ان ہاتھوں نے اس گیٹ کو جلا دیا جو گیٹ نہیں پر وہ پھانسی گھاٹ ہے جس پھانسی گھاٹ سے ہر روز ملیر،کراچی اور سندھ ہوکر گزرتے ہیں اور کسی نہ کسی کو پھانسی پر چھڑا دیا جاتا ہے۔سندھ کے لوگوں نے زردا ری کو بی بی کے نام پر ووٹ دیا ہے
پر اپنی وہ دھرتی تو نہیں دی جس دھرتی پر وہ محبت بھی کرتے ہیں اور مر جانے کے بعد دفن ہو جا تے ہیں
جب بحریہ سندھ کی زمینوں پر قبضہ کریگا تو وہ لوگ کہاں جائیں گے جن کی تمام محبتیں اور تمام چاہتیں اس دھرتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں؟وہاں کہاں پر محبت میں پسینہ بھائیں گے اور کہاں پر ان لاشوں کو دفنائیں گے جو مٹی سے جنم لیتے ہیں اور مٹی میں دفن ہو جا تے ہیں
سندھ نے اس دن تو بس اتنا بتانا چاہا ہے کہ
ؔؔ”میرے بچوں سے ان کی دھرتی مت چھینو!“
پر اب بحریہ اور سندھ انتظامیہ پاگل ہو رہے ہیں،یا پاگل ہو چکے ہیں اور وہ سب کچھ کر گزر رہے ہیں جن سے ان کی بدلے کی آگ ٹھنڈی ہو
کیا وہ ماما فیض محمد گبول کو بھی گرفتار کر لیں گے جو دھرتی سے جنمہ گیا اور دھرتی میں پیوست ہو کر مٹی ہو گیا
پر اس کی وہ تمام باتیں آج بھی ان ہی ہواؤں میں سفر کر رہی ہیں جن باتوں میں وہ ملک ریاض کو یہ تک کہتا ہے
”دھرتی ما ں ہے اور کوئی اپنی ماں بھی بیچتا ہے!“
وہ جسے اپنا اور اپنی دھرتی کا ادراک ہو چکا تھا
جو سب کو کہتا تھا کہ دھرتی مت بیچو یہ ماں ہے
وہ ایسا تھا جس کے لیے ایسے ہی الفاظ تراشے جا سکتے ہیں کہ
”جب انسان کو اپنا ادراک ہو جاتا ہے وہ پیمبر ہو جاتا ہے!“
تو کیا اب بحریہ اور سندھ سرکار کی انتظامیہ اسے بھی گرفتار کریگی جو اس جدو جہد کا پہلا پتھر تھا
جس نے اس فرعونی محل پر پہلا پتھر پھینکا
جس نے اپنے بوڑھے اور کانپتے ہاتھوں سے اس گیٹ کو تیلی دکھائی جو اب تک جل رہا ہے
جل رہا ہے
جل رہا ہے
جل رہا ہے!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں