کوئٹہ ملازمین کا دھرنا پانچویں روز جاری، 5اپریل کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

54

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں سرکاری ملازمین کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا پانچویں روز بھی جاری رہا۔

آج ملازمین نے شہر کے مختلف سڑکوں پر ریلیاں نکالی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

جبکہ باز مقامات پر ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ الائنس کے کنوینئر عبدالملک کاکڑ نے کہا کہ آج کے ہزاروں ملازمین پر شیلنگ کے لیے یہ چند پولیس والے کافی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایوب اسٹیڈیم میں پٹاخوں پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے اور کرونا ایس او پیز کی جام کمال نے خود وائلیشن کیا۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ جام کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تم نے جو سیکرٹریٹ ملازمین کے مراعات کے حوالے سے ٹویٹ کیاہے آپ ذرا پولیس ملازمین اور کلاس فور کے پے سلپس بھی ٹویٹ کردیں انکو کتنی مراعات دے رہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم پانچ روز سے پر امن بھیٹے ہیں اگر آپ پتھر پھینکیں گے تو ہم بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیر سے بلوچستان بھر کے قومی شاہراہوں کو جام کیا جائے گا جو پارٹی بھی ہمارا ساتھ دے گی ہم انھیں خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کل پھر دھرنے سے ریلی نکالی جائے گی، وقت اور روٹ کا اعلان کل کیا جائے گا۔

انہوں نے حکومت کو چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ ہم بجٹ اور پی ڈی ایس پی کا مکمل بائیکاٹ کریں پھر آپ بناکر دکھائیں آپ کو ہماری حیثیت کا پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سموار سے تمام اضلاع میں گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے شاہراہوں کو جام کیا جائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ ہمیں کمیٹی نے ابھی تک کسی فیصلے میں اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمارا ڈیمانڈ صرف ایک 25 فیصد اضافہ نہیں، ہمارے سارے مطالبات تسلیم نہیں ہونگے اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک ایک ایک ڈیمانڈ تسلیم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف انتظار میں ہیں کہ حکومت کا جواب ہاں میں آئے گا یا ناں میں آئے گا پھر میں نے حلف اٹھایا ہے میں اکیلا ہی نہ رہ جاوں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ ہم جیل، معطلی، گرفتاریوں سب کے لئے تیار ہیں۔

دیگر مقررین نے کہا کہ حکمرانوں کے رویے سے لوگ تنگ آچکے ہیں کہیں ایسا نہ ہو ہمارے یونیفارم والے بھائی بھی ہماری اس تحریک میں شامل ہو جائیں۔

مقررین نے کہا کہ کل بروز ہفتہ بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑی ریلی کوئٹہ میں نکالی جائے گی۔ بلوچستان بھر سے اور کوئٹہ میں بیٹھے تمام ملازمین پہنچ جائیں۔

دھرنا ملازمین نے کہا کہ حکومت ہمیں نوکریوں سے برخاستگی اور کاروائیوں سے ڈراتا ہے ہماری نوکریاں ان تمام ملازمین پر قربان ہیں۔