بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف جرمنی میں مظاہرے

102

 

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جرمنی کے دو مختلف شہروں ڈوس برگ اور گوٹنینگ میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کا مقصد بلوچستان میں ریاستی سطح پر بلوچ قوم کے خلاف جاری انسانیت سوز مظالم کو بے نکاب کرنا ہے۔

گوٹنینگ شہر میں منعقدہ مظاہرے سے بی آر پی کارکنان راشد بلوچ، ماہ پارہ کریم، شاہ فاواض بلوچ اور رحمت اللہ مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے بلوچستان کے طول و عرض میں فوجی آپریشن جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر نہتے بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے اور عام لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کے بعد جلائے جارہے ہیں-

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے تمام قوانین کو پاکستانی فوج پامال کررہی ہے ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

ڈوس برگ شہر میں احتجاجی مظاہرے میں جہانگیر رحیم بخش، عبدل جلیل، حارس بلوچ اور حفیظ بلوچ سمیت کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جہاں انہوں نے پمفلٹ تقسیم کیئے جن پر جبری گمشدگیوں، ماوارائے قانون قتل و غارت گری سمیت فوجی آپریشنز کے تفصیل درج تھیں۔

بی آر پی کارکنان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے آسریلی سے ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی جس میں چار افراد کے باقیات ملی۔

انہوں نے کہا ہے ہمیں خدشہ ہے یہ ان جبری طور پر لاپتہ افراد کی باقیات ہیں جنہیں پاکستانی فوج آپریشنوں کے دوران لاپتہ کر دیتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی خضدار میں ایک اجتماعی قبریں دریافت ہوئی جہاں سے ایک سو اسی افراد کی لاشیں ملی تھی جبکہ ڈیرہ بگٹی سے دریافت ہونے والا یہ تیسرا اجتماعی قبر ہے۔

بی آر پی کے کارکنوں کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے علاوہ خبیرپختونخوا کے علاقے شانگلہ سے بھی اجتماعی قبریں دریافت ہوئے ہیں جہاں سے گیارہ سال سے لاپتہ سولہ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

بی آر پی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان اور خیبرپختونخواجاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں۔