بے روزگار چوک، بونے، بکریاں اور انسانوں کو نگلتی سڑکیں – منظور بلوچ

228

بے روزگار چوک، بونے، بکریاں اور انسانوں کو نگلتی سڑکیں

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ستر کا درمیانی عشرہ تھا۔ فرعون نما چیف سیکرٹری، جس کے سر کاسریا اس کے جسم کا ناگزیر حصہ بن چکا تھا وہ بلوچستان کا وائسرائے تھا۔ اس کے ہاتھ میں بلوچستان کی تقدیر رکھ دی گئی تھی۔ جو چاہتا، سو کرتا، یہ اس وقت کے بلوچستان کی بات ہے جب افسران اور خاص طور پر چیف سیکرٹری پورے بلوچ وطن کا اکلوتا مالک ہوا کرتا تھا۔ اس کے آبرو سے بھی احکامات جاری ہوتے تھے۔ لیکن آج اپنے وقت کا فرعون بڑا لاچار، بڑا بے بس دکھائی دے رہا تھا، ایسا نہ تھا کہ وہ چیف سیکرٹری نہیں تھا۔بلکہ اس کا مسئلہ پہلی مرتبہ ایک سردار سے پڑا تھا۔ سردار بلوچ عوام کا قائد تھا۔اس کی ایک آواز خاموش بلوچستان کو جھنجھوڑ دینے کیلئے کافی تھی، سیاست کے زیرو بم سے بخوبی واقف تھا۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی کا جوش اور ان کی اپنی شخصیت کا جلال بھی اپنے عروج پر تھا۔ چیف سیکرٹری جو ہاتھ باندھے کھڑا تھا، اپنے خشک حلق کو تر کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاکہ وہ سردار سے بات کو آگے بڑھائے۔لیکن حلق خشک سے خشک ہوتی جا رہی تھی، بالاخر اس نے اپنی پوری توانائیوں کو بحال کرکے زبان تک لانے کی کوشش کی۔ اور سردار جو بلوچستان کا پہلا منتخب وزیر اعلی تھا، اپنے جاہ و جلال کے ساتھ بڑی لاپروائی کے ساتھ چیف سیکرٹری کی باڈی لینگوئج دیکھ رہا تھا،بالاخر چیف سیکرٹری کی خاموشی ٹوٹی اور بڑے عاجزانہ انداز میں مخاطب ہوا”سردار صاحب؛آپ تو جانتے ہیں کہ مجھے دل کا عارضہ لاحق ہے، ایسی صورت میں۔۔۔۔ اس سے قبل کہ اس کی بات پوری ہوتی، سردار نے کہا کہ ”میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ میں جاہل آدمی ہوں، ان پڑھ ہوں یہ رولز آف بزنس میں نہیں جانتا، کہ یہ ہوتے کیا ہیں۔ چیف سیکرٹری نے پھر کوشش کی کہ اپنے حق میں کچھ بولے تو سردار صاحب نے بڑے تمکنت سے کہا کہ ”میں پہلے ہی کہہ چکاہوں کہ رولز آف بزنس نہیں جانتا، میں ٹھرا ان پڑھ، جاہل، گنوار، اور ہاں سنو؛ مجھ میں ایک اور خرابی بھی ہے کہ کھبی کھبار تھپڑ بھی مار دیتا ہوں، اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہی۔

یہ دو ہزار چودہ کی بات ہے جب میں اس بوڑھے سردار سے ملنے ان کی آبائی علاقے وڈھ گیا، سردار عطاء اللہ مینگل سے اپنی ملاقات کا احوال پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ دو ہزار بارہ میں جیو کی جانب سے اختر مینگل کو پیش کش کی گئی کہ وہ سردار صاحب کی سوانح عمری لکھنا چاہتے ہیں جس پر یہ طے پایا کہ اگر یہ کام کروانا ہی ہے تو راقم سے بات کی جائے۔ مجھے اپروچ کیا گیا، میں نے بخوشی حامی بھری۔ پھر اس کے بعد بارہا سردار اختر مینگل سے رابطہ ہوا، ایک بار انہوں نے کہا کہ بڑے سردار کا کہنا ہے کہ وہ سوانح عمری لکھوانے کے حق میں نہیں، کیونکہ جھوٹ ان سے بولا نہیں جاتا اور معاشرہ سچ کو ہضم کرنے کے قابل نہیں، تب میں نے اپنے طور پر ٹھانی، اسی ملاقات میں جس میں انہوں نے یہ احوال بتایا، میں نے ان کو بہرحال سوانح عمری لکھوانے پر راضی کر دیا۔ اب اس بات کو گزرے کئی سال بیت چکے۔ لگتا ہے کہ سردار اختر مینگل اپنا کیا گیا وعدہ بھول چکے ہیں۔ بہرحال ایک مفروضہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے کئی چہتے یا بہی خواہوں نے ان کو اس پراجیکٹ سے دور رہنے کا زریں مشورہ عطا کیا ہو،بہرحال میرے علم میں نہیں کہ سردار اختر مینگل نے اپنے والد صاحب کی سوانح عمری لکھوانے میں سات آٹھ سال کیوں ضائع کر دیئے؟ ان پر یہ قرض خدانہ کرے کہ تاریخی قرض نہ بن کر رہ جائے۔

اب تمہید سے اس بات کی جانب آتا ہوں کہ چیف سیکرٹری کے ساتھ سردار صاحب نے یہ رویہ کیوں اختیار کیا، وجہ کیا تھی، یہ ملاقات ان کے ڈرائنگ روم میں ون ٹو ون تھی۔ چونکہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد پنجاب کے سرکاری ملازمین جن میں ٹٰیچر، سپاہی وغیرہ تھے، کو ایک پلان کے تحت پنجاب بلوایا گیا تھا تاکہ نیپ کی حکومت اول روز سے مسائل میں گھری رہے، اس کے پیچھے ایک پراپیگنڈہ بھی کیا گیا، جو تاحال کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے، اس جھوٹ کو اتنا لکھا اور بولا گیا کہ اب بھی کہتے ہیں کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے بلوچستان سے ٹیچروں کو نکال کر بلوچستان کو جاہل رکھا، میں اس زہریلے پروپیگنڈے سے واقف تھا، لیکن ان کے ساتھ تاریخی نشست کے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سوال ان کے سامنے رکھا،تاکہ ان کی زبان سے سچائی سن سکوں، انہوں نے تفصیل سے صورت حال بتائی کہ انہوں نے ون یونٹ کے بعد ٹیچرز، پولیس دیگر اہلکاروں سے رسما خطاب کیا اور انہیں زیادہ مراعات کی پیش کش بھی کی اور ساتھ میں یہ کہا کہ یہ پنجاب حکومت کی ایک چال ہے اور آپ لوگ وہاں جاکر پچھتاؤ گے اس پر انہوں نے کہا کہ میرا ٹارگٹ ٹیچروغیرہ نہیں تھے، میری نگاہ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل سیکرٹریٹ تھا، کیونکہ پالیسی سازی سبھی کچھ سیکرٹریٹ سے ہوتی ہے، جب تک اس کے لگام نہ کھینچے جائیں یہ مست گھوڑے کی طرح اپنی من مانیاں کرتا رہے گا۔ اس لئے میں نے موقع ملتے ہی اس وقت کے پنجاب سے آئے ہوئے چیف سیکرٹری کو واپس ان کے گھر یعنی پنجاب بھیجنے کا فیصلہ کیا، اس مقصد کیلئے میں نے اس کی رہائش گاہ پر ایک ٹرک بھیجا، کہ وہ ٹرک میں اپنا ساز و سامان لیکر اپنے گھر پنجاب چلے جائیں اور بلوچستا ن کی جان چھوڑ دیں، خیر بیچارہ چیف سیکرٹری اپنا سا منہ لیکر چلا گیا، کہانی اس وقت اور مزیدار ہو جاتی ہے جب گورنر بلوچستان، بابائے بلوچستان ایک خارجی دورے سے بلوچستان آئے تو اس فیصلہ پر اپنا سر لیکر بیٹھ گئے اور سردار سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا۔ جواب میں سردار نے کہا کہ یہی تو موقع تھااگر آپ بھٹو کے ساتھ دورے پرنہ ہوتے تو میں چیف سیکرٹری کو ٹرک میں اعزاز کے ساتھ بٹھا کر اس کے گھر پہنچانے میں ناکام رہتا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان میں جو بھی ہوتا ہے وہ انہی راہداریوں میں، کاغذوں کے کالے بٹیوں میں ہوتا ہے۔ اور نہ جانے وہ ذہین انپڑھ کلینر جسے عرف عام میں کلینڈر کہتے ہیں، کون تھا جس نے پہلی مرتبہ سیکرٹریٹ کو ”بے روزگار چوک“ کے انمول نام سے نوازا۔ آج بھی شوخ قسم کے طنز کرنے والے کلینر آپ کو سیکرٹریٹ کے سامنے یہی چیختے ہوئے ملیں گے ”بے روزگار چوک آگیا، جس نے اترنا ہے اتر جائے“۔

بلوچستان کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر لکھا جا چکا ہے لیکن جس طرح سے اس کی صحافت ، اس کے وطن فروشوں، نااہل پارٹیوں، اقتصادی لوٹ کھسوٹ پر کچھ نہیں لکھا گیا۔ اسی طرح کسی رائٹر، مورخ نے کبھی بلوچستان سیکرٹریٹ کی تاریخ نہیں لکھی۔ اب خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پہلے یہ سیکرٹریٹ تھا، پھر بے روزگار چوک بنا۔ اب ریڈ زون کے نام سے شہرت رکھتا ہے ۔ اس پر لکھنے کو بہت کچھ ہے۔لیکن یہاں صرف ایک رخ سے بات رکھنے کی کوشش کروں گا کہ بے روزگار چوک سے قبل کا بلوچستان کیسا تھا۔ اور بے روزگار چوک کے قائم کرنے کے بعد اس کی کیا درگت کیا بنی، بنائی جا رہی ہے۔

”بے روزگار چوک“ میں آجکل بلوچ باروزگار بیوروکریسی بھی کسی حد تک اپنا وجود رکھتی ہے۔ لیکن یہ بھی کان نمک کے باسی ہیں خیر کی توقع رکھنا اپنی تکالیف بڑھانے والی بات ہے۔ بہرحال اس چوک نے کیا کیا تماشے دکھائے، وہاں صرف یہ دیکھئے کہ آج کے بلوچستان کی حالت کیا ہے؟ اسی بے روزگار چوک نے بے حسی کو ادارہ جاتی شکل دی۔ کرپشن کو بھی ایک ادارہ بنایا۔ خود غرضی بھی ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بلوچستان کے تمام وسائل اسی بے روزگار چوک میں لاکر مال غنیمت کی طرح بانٹے جاتے ہیں۔ اس سال کی پی ایس ڈی پی تو گئی، کیونکہ وہ عدالت تک پہنچی، جب وہاں سے فارغ ہوگی، تو پیسوں کی واپسی شروع ہو جائے گی۔اس سال میں ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں ہوسکا۔ (یہ الگ بات ہے کہ یہ پیسے خرچ ہوتے بھی تو عوام کو کیا ملنا تھا) اس طرح جام کمال صاحب، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سب سے بڑے ہیرو ہیں، ان معاشی کساد بازاری میں بلوچستان کے پورے کے پورے بجٹ کا لیپس ہونا، اسلام آباد کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں، اسلام آباد کا بس چلے تو جام کمال صاحب کی وفاداری خدمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں تادم مرگ وزیر اعلی بنا دیا جائے۔

دوسری جانب بے روزگاری، غربت، جرائم میں اضافہ،نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ان کا مخدوش مستقبل بلوچستان کو ایک ڈراونے خواب میں تبدیل کرتا نظر آتا ہے۔ وزراء سے ملنا گویا حضرت خضر سے ملنے کے مترادف ہے۔ سیاسی لیڈر نام کے توبہت ہیں، لیکن وہ بلوچستان کے مسائل کو ایک تقریر، بیان یا ٹی وی پر لائیو سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ ان کی گپ شپ سنیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کس زمانے میں جی رہے ہیں۔اب تو حالت یہ ہے کہ آپ شکایت بھی نہیں کر سکتے، آپ رو بھی نہیں سکتے، کیونکہ رونے اور شکایت پر بھی پابندی ہے۔ بے روزگارچوک کے قیام سے پہلے بلوچستان کے لوگ غریب تھے، خانہ بدوش تھے لیکن ان کا شمارابھی انسانوں میں ہوتا تھا، اس بے روزگار چوک نے ان سے شرف انسانیت بھی چھین لیا ہے۔ اب یہ محض میں میں کرتی ہوئی بکریاں ہیں، جو قصائی اور اس کے ہاتھ میں چھرا دیکھنے کے باوجود میں میں کرتی رہتی ہیں،اور ایک بکری ذبح ہونے کے بعد دوسری کی باری آتی ہے، وہ بھی میں میں کرتی ہے اور خود کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھتی ہے۔ اگر اس بے روزگار چوک نے بلوچستان کے عوام کو بکری بنا دیا ہے تو دوسری جانب اس نے ایک ایسا کارخانہ بنایا، جس سے نکلنے والے افسر، دانش ور، پروفیسر، لیڈر سبھی بونے ہیں۔ بے روزگار چوک کی ہمیں دی گئی ان دو نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

بونوں کے دیس میں بکریوں کے ساتھ جو ہوتا ہے، وہی ہوتا آ رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی بڑے قد کا شخص پیداہوا تو یہ بونے بڑے استاد ہیں، ان کی انجمنیں ہیں، ان کے فلاحی ادارے ہیں، جو در اصل مافیاز کی شکل اختیار کر چکے ہیں، بلوچستان میں جتنے بڑے لوگ مارے گئے ہیں ان کو مارنے والے سارے بونے ہی تو تھے۔ کسی بونے کے ہاتھ میں قلم ہے، اور وہ ایک ممدوح بونے کو ایک بڑے قد کاٹھ کی شخصیت بنانے میں جٹا ہوا ہے۔ افسر شاہی کے بونے چیف سیکرٹری کے صنم خانے میں سجدہ ریز ہیں۔ ایم پی اے اور وزراء تو خیر ڈر کے مارے اس صنم خانے کا رخ بھی نہیں کرتے۔

بلوچستان میں اتنے حقیقی ایشوز ہیں کہ ان کی فہرست بنانے کیلئے ایک عمر چائیے۔ اب تک جتنے معصوم اور بے گناہ لوگ اس دھرتی پر گزشتہ بیس سالوں میں مارے گئے ہیں،ان کی فہرست بنانے کیلئے پورا ایک ادارہ چائیے۔

چونکہ بے روزگار چوک کے مرہون منت طے پا چکا ہے کہ یہاں کے لوگ بکریاں ہیں اس لئے ان کے انسانی حقوق بھی نہیں ہیں حیوانوں کو بھی یو این کے انسانی حقوق کے چارٹر میں شمار کرنا عاقلانہ کام ہوگا۔

”بے روزگار چوک“ کو بکریوں سے اب بھی خوف لاحق ہے۔ اس لئے ان کے جو چرواہے تنخواہ پر رکھے گئے ہیں، یعنی ہمارے لیڈر صاحبان اور دانش ور، پروفیسر حضرات ان بونوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ بکریوں کو بکریوں کے اوقات میں رکھیں۔اگر کبھی وہ بے قابو ہو جائیں تو ان کو تقدیر کا جھانسہ دیا جائے اور صبر کی ہدایت کی جائے۔
یہ تو تقدیر میں لکھا تھا۔ اس شخص کے اتنے ہی دن تھے جتنا جیتا تھا، مقدر میں وہ جی چکا، اب اس کی تدفین، جنازے اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں پھر حیرت ہوتی ہے کہ کیا بکریوں کو بھی کوئی اتنے اہتمام سے دفن کرتا ہے۔ اور جو بکری نہیں تھے، بڑے انسان تھے ان کے تابوتوں پر بھی جھگڑا ہوتا ہے، جتنا بڑا انسان ہوگا، اس کے تابوت کی اتنی ہی بے حرمتی کی جائے گی، ضرورت پڑے تو تابوت پر تالا بھی لگوایا جا سکتا ہے۔ اور تالے لگے تابوت کا خوف آج بھی بونے محسوس کرتے ہیں۔

اس حوالے سے میں علی احمد کرد کا ایک جملہ کبھی بھلا نہیں سکتا۔جب نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت پر کوئٹہ یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام آرٹس کونسل میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں علی احمد کرد نے کہا کہ ”نواب اکبر بگٹی شہید ایک بہت بڑے آدمی تھے۔اور ان کو مارنے والے بڑے چھوٹے لوگ تھے“
یعنی یہ سارے کام بونے ہی کرتے ہیں۔ البتہ ان کو بونے کہا جائے تو وہ سر آسمان پر اٹھا لیتے ہیں۔ اس روز مجھے خوش گوار حیرت کا احساس ہوا۔ جب ہم کچھ دوست ایک بڑے بونے سے ملنے گئے۔ جو بڑے ہی کروفر کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھا اپنا انداز گفتگو عاجزانہ بنائے ہوا تھا اس نے پتہ نہیں یہ بات کیسے مان لی کہ ہم بونے ہیں اور کہا کہ ہم سب بونے ہیں البتہ شکایت وہ بھی برداشت نہیں کر سکا۔

دوران گفتگو میرے منہ سے قاتل شاہراہوں کی بات نکلی تو وہ بڑا بونا بہت ناراض ہوا۔ اور کہا کہ آپ مجھ سے یہ بات کیوں کر رہے ہیں، جو کر رہے ہیں، ان سے نہیں۔ میں نے کہا کہ ان سے بھی کریں گے۔ بہرحال آپ یہ بات اپنے دل پر نہ لیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارے اور سارے مسئلے ایک طرف، اب سب سے بڑا اور خوفناک مسئلہ زندہ انسانوں کو نگلتی ہوئی سڑکیں ہیں ، ایسا کوئی دن نہیں جاتاکہ آپ کو کسی ایکسیڈنٹ کا احوال نہ ملے۔ اکثر واقعات میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں لیکن اس موضوع پر اول تو بات کرتا ہی نہیں، اور اگر کرے تو بے حسی کے ساتھ کرے گا۔ کسی نے آج تک مسئلہ کو مسئلہ سمجھا ہی نہیں گزشتہ دنوں اس حوالے سے ایک سرکاری ادارے نے میٹنگ بلائی تھی۔ حیرت ہونی لگی کہ کہاں سے ان کو یہ خیال آ رہا تھا کہ ایسا کوئی اجلاس ہوا، افسوس بھی ہوا، فوٹو سیشن بھی ہوئے اور پنجگور کے بس کا حادثہ بھی ہوا۔ اب دیکھیں ایسے اور کتنے اجلاس ہوتے ہیں کیونکہ یہ تو مقدر کی باتیں ہیں کوئی کہاں مرتا ہے، کوئی کہاں، اس کیلئے ”بے روزگار“ کو مورد الزام ٹھرا یا جا سکتا۔

اگر صرف اس سال کے پی ایس ڈی پی کو انہی شاہراہوں پر خرچ کیا جائے تو کافی تھا۔ لیکن پھر جام کمال ہیرو کیسے بنیں گے، دوسرا تکنیکی سوال شاہرائیں تو فیڈرل سبجیکٹ ہے صوبے کا کیا کام؟ موٹروے اول تو ہے ہی نہیں، ہے بھی، تو پوچھنے والا کون ہے؟

میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم شرف انسانیت کھو چکے ہیں۔ اگر ہم جو مہذب ہونے اور ترقی یافتہ کہلانے کے شوق میں گم ہیں تمام مسلمان ملکوں کے لیڈر بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ کیا وہ بلوچستان میں دو رویا شاہرہ بھی نہیں بنا سکتے ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیوں بنا نہیں؟ حادثات معمول کی باتیں ہیں اس میں قصور آخر میں جا کر ڈرائیور کا ہی نکل جاتا ہے۔ لہذا معاملہ تو سارے ڈرائیور کا ہے۔ اس میں تمام اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا بڑی ناانصافی ہوگی۔ لیکن پھر یہی سوال کہ کٹہرے میں ان اداروں کو کھڑا ہی کب کیا گیا ہے؟
وہ ایک کوچ جس میں حب کے مقام پر آگ لگنے سے اس کے تمام سواریاں جل گئیں تھیں اگر اس روز کوئی ایک وزیر بھی استعفی دیتا، تو شاید نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔ لیکن پھر وہی سوال بھئی وزیر صاحب کیوں استعفی دیں وہ یہ ذمہ داری کیوں اپنے سر لیں۔ کچھ خوف خدا ہمیں بھی تو ہونا چائیے۔

اس پر مجھے حافط حسین احمد کی ایک بات یاد آئی انہوں نے بتایا کہ جب نصر اللہ بابر غالبا بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں وزیر داخلہ تھے، تو کسی ایمبیسی پر کوئی راکٹ وغیرہ داغا گیا تھا، اس پر نون لیگ(جو اپوزیشن میں تھی)نے بڑا واویلا مچایا کہ ذمہ دار کی حیثیت سے وزیر داخلہ استعفی دے دیں ۔ اس پر ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے حافظ حسین احمد اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اس معاملہ کا تعلق وزیر داخلہ سے تو نہیں بنتا۔ یہ بات کرنا تھا کہ پیپلز پارٹی والوں نے ڈیسک بجائے۔حافظ حسین احمد دوبارہ گویا ہوئے کہ ”استعفی کا تعلق تو غیرت سے ہے“ اب کی بار ن لیگ والے ڈیسک بجارہے تھے۔

اب بیچارے ان اسمبلی والوں سے غیرت کی بھلا کیا توقع؟ ویسے تو سارے قبائلی بھی ہیں،سردار بھی ہیں، روشن خٰیال بھی، انسانیت کا روگ انہیں اسمبلی میں لے آئی ہے۔ جب کبھی ثناء بلوچ جیسے لیڈروں سے پوچھا جائے کہ جناب آپ لوگ تو پارلیمانی سیاست کے خلاف تھے، آپ کا ایک منشور ہوا کرتا تھا، جس میں قومی خودراداریت وغیرہ شامل تھے۔ جو سارے کے سارے فراموش کیے جا چکے ہیں آپ لوگ ہی تو کہتے تھے کہ یہاں کونسلر تک بھائی لوگوں کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اب آپ اسمبلی میں بھی ہیں۔ اچھی خاصی تعداد بھی ہے۔ تو آپ کی پرانی باتیں، وعدے، منشور کہاں گئے۔ تو اس کا کھڑاک سے جواب دیتے ہیں گویا جواب ہر وقت تیار ہے، جیب میں بھی پڑی ہوئی ہے، لیپ ٹاپ میں بھی ہے، زبان پر بھی ہے، وہ جواب یہ ہے کہ ہم برے لوگوں کا راستہ روکنے کیلئے آتے ہیں۔ ورنہ یہاں سارے اسمبلی میں وہی لوگ آ جائیں گے جنکو بلوچستان کے درد سے کوئی رشتہ نہیں۔

ویسے تو بلوچ کی تاریخ یہی ہے کہ وہ شغام (طعنہ) برداشت نہیں کرتا ایک شغام یا شغان پر وہ اپنے بھائی کے گھروں کو بلڈوزر کرتا ہے لیکن یہاں اسمبلی والے لیڈروں کیلئے یہ شغان کسی فرق کا باعث نہیں بنتا ہے۔

لوگ تو بھول گئے، لیکن شاید تاریخ کبھی بگھی کھینچنے والے سرداروں کی حکایت کی طرح یہ یاد رکھے کہ ایک مرتبہ بلوچ خواتین اسی اسمبلی پر اپنی چوڑیاں چھوڑ کر آئی تھیں۔ کس نے نوٹس لیا؟ لوگ تو بھول گئے۔

خیر کہنا یہ تھا ، اور کہنا بھی کہا تھا کہ اس وقت دو بڑے اہم مسئلے اہل بلوچستان اور بالخصوص بلوچوں کو در پیش ہے۔ایک تو کینسر جو ہمارے نوجوانوں پر بڑی مہربان ہو چکی ہے، کوئی سال، مہینہ، دن نہیں جاتا کہ کچھ نوجوان آپ کو سڑکوں پر چندہ کرتے نظر آتے ہیں۔کتنی شرم کی بات ہے کیا کسی ریاست میں کینسر کے علاج کیلئے وہ بھی اس نئے ترقی یافتہ زمانے میں لوگ چندہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا چندہ ہی اس کاحل ہے۔ کب تک لوگ چندہ دیتے رہیں گے اور کتنے ہی خوبصورت نوجوانوں کی زندگی کی امنگیں اور بہاریں دیکھنے سے قبل ہی مر جھا جاتی رہیں گی۔

اور اس کے ساتھ ساتھ یہ قاتل شاہراہیں جو تسلسل کے ساتھ زندہ انسانوں کو نگلتی جا رہی ہیں۔ اب تو اپنے پیاروں کو سفر بھیجتے وقت خوف سا دامن گیر ہوتا ہے، گویا آپ ان کو سفر پر نہیں کسی میدان جنگ کیلئے بھیج رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ آٹھ ہزار افراد انہی خونی سڑکوں پر مارے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں آٹھ ہزار خاندان بے آسرا، در بہ در، مفلوج زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں کس کس کو یاد کیا جائے، کس کس شہزادے کی بات کی جائے۔ کس کس خاندان کے المیوں کو بیان کیا جائے۔

انہی سڑکوں پر سیاست دان، بیوروکریٹ، جج، کھلاڑی کونسے ایسے شعبہ جات کے لوگ ہیں جو ان قاتل سڑکوں سے بچے ہوئے ہوں۔

دور کیوں جائیں، ہمارا مسکراتا، ہنستا ہنساتا درجان، جس کے انتقال کو اب ایک سال ہو چکا ہے، شاید اس کے خاندان کا یہاں تذکرہ مناسب نہ ہوگا، لیکن چونکہ وہ ہمارا دوست اور کولیگ تھا، ایک سال کے باوجود ہم اس کے خاندان کیلئے کچھ نہیں کر پائے، بحیثیت ایک نالائق دوست میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دوست کے خاندان کیلئے اس کے جانے بعد کچھ نہیں کر سکا۔میں ناکام رہا،لیکن یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ درجان ایک سیاسی جماعت کا فعال کارکن تھا، اس کا کزن حبیب جالب جہنیں ٹارگٹ کلنگ کیا گیا وہ اسی پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل تھے۔ پورا خاندان پارٹی میں ہونے کے باوجود، پارٹی ان کیلئے اب تک کچھ نہیں کر سکی ہے، اب تک ان کے گھر سے کسی کی تقرری نہیں ہو رہی ہے تاکہ اہل خانے کی کفالت ہو سکے۔ اس کے بچے درجان کے خواب کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔ جبکہ اس سے قبل ایک سیاسی جماعت کی ایم پی اے کی بہن کو مستقل طور پر رکھا گیا۔ اسی طرح ایک اور سیاسی جماعت کے لیڈر کی بیٹی کو کم نمبر ہونے کے باوجود لیکچرار بنایا گیا۔ اسی طرح ایک اور سابق صوبائی وزیر کی بیٹی کو جس طرح اپوائنٹ کیا گیا اور اسسٹنٹ پروفیسر بنایا گیا۔ اسی طرح کی مثالیں ڈھیر ساری ہیں۔ اب بھی افسران اچھے اچھے گریڈوں میں بھرتی ہو رہے ہیں یہ سارے کھیل میرٹ کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن انصاف کے تقاضے کہیں بھی پورے نہیں ہوتے۔

یہ تو ایک خاندان کی بات ہے، ان خاندانوں کی کیا بات کریں جنکے واحد کفیل انہی شاہراہوں پر مارے گئے۔ ان کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ زندہ لاشیں بن چکی ہیں۔ لوگ سڑکوں پر مارے جاتے ہیں اور صبر و تقدیر کے سہارے ان کو مٹی میں ملا کر ہم اپنا حق ادا کرتے ہیں۔لیکن یہ بات کوئی نہیں کرتا کہ آخر اس مسئلہ کا حل کیوں نہیں نکالا جا رہا ہے۔ کیا وسائل سے بھاری بھر کم بلوچستان میں ان لوگوں کیلئے کچھ نہیں ہے۔ کیا اس شاہرہ کو چار رویہ تو کیا دو رویہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ کوئی قانوں بھی نہیں ہے، ہم نے تو نہیں سنا کہ کسی کو قانوں نے جکڑا ہو۔ اگر حادثات پر ذمہ داروں کو بھاری بھر کم جرمانے کیئے جائیں تو تھوڑا سا فرق تو پڑے گا۔ اگر آج ایک کوچ والے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق ایک بھی انسانی جان کے ضیاع پر پچاس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا جاتا ہے تو دیکھئیے گا کہ ان حادثات میں کتنا فرق پڑتا ہے۔

اگر حادثات کے حوالے سے اس کاموازنہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ سے کرایا جائے تو معلوم ہوگا کہ حادثات میں مرنے والے پر پندرہ میں سے سات یا آٹھ کا تعلق بلوچستان سے ہوتا ہے۔پنجاب کے آبادی کے مقابلے میں بلوچستان کی آبادی حساب ہی نہیں ہوتی۔لیکن پنجاب نے پلاننگ و منصوبہ بندی کرکے اپنی شاہراوں کو خطے کے معیار کے مطابق بنایا ہے۔ وہاں سارا سال ایسے منصوبوں پر بھاری بھر کم رقوم رکھی جاتی ہے، پر قانون پر مستعدی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے۔یعنی وسطی پنجاب قانون اور شاہراؤں کے حوالے سے جدید دنیا کا حصہ نظر آتا ہے۔ لیکن پتھر کے زمانے کا آغاز بلوچستان کے سرحدوں سے ہوتا ہے۔

اور چونکہ بے روزگاری نے ہمیں دو حصوں یعنی بونوں اور بکریوں میں دیا ہے اس لئے بونے بے چارے اپنی مراعات، گریڈ،گھر بنگلہ، ٹھیکے، اچھی پوسٹنگ کیلئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بکریاں ہیں جو میں میں کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

لیکن تھوڑی سی تسلی اس وقت نظر آتی ہے جب ان بکریوں میں سے چار چند نوجوان انسانوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ ان نوجوانوں میں نجیب زہری، کامریڈ واصف اور ان کے دیگر ساتھیوں نے اپنی نوجوانی کی بہاروں کو یکسر بھلا کر اسی ایک ایشو کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔

کامریڈ گزشتہ روز ایک نوجوان خالد پرکانی کے کینسر کی علاج کیلئے چندہ کر رہا تھا۔ اس نے ایک سانس میں ڈھیروں سارے واقعات بتائے اگر ان کو کوئی زی ہوش، باضمیر، باشعور آدمی سن لے تو اسی وقت پاگل ہو جائے۔ لیکن دیگر بونوں کی طرح مجھ پر بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ نہ میں پاگل ہوا، نہ مجھ پر کوئی ایسی کیفیت گزری، اس کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتا رہا اور چند الفاظ بیان کرتا رہا۔ کامریڈ تو بلوچستان کی مجبوریوں، المناکیوں کا ایک چلتا پھرتا داستان بن چکا ہے۔

آج تک کسی بھی متاثر ہونے والے خاندان نے شاہراہوں پر قتل ہونے والوں کے خلاف اپنی ایم پی اے، قانون ساز اداروں، بے روزگار چوک، اسمبلی کے کرتا دھرتاوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں کروائی۔

ایک آدھ حادثات ہوتے تو سمجھ میں بات آ جاتی لیکن اب تو یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ اگر ہم اب اسے نسل کشی کا نام دیں تو لوگ ناراض ہونگے۔ ان کو اس بات سے ضرور تکلیف ہوگی۔ لیکن مرنے والے مر رہے ہیں۔ اس سے ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا؟ کب تک بوڑھے اپنے نوجوانوں کے لاش دفناتے رہیں گے، عراق، افغانستان، صومالیہ شام جیسے جنگ زدہ ممالک میں بھی اتنے لوگ مارے نہیں جاتے جتنے ہماری سڑکوں پر مارے جا رہے ہیں۔ اس کیلئے کوئی توانا آواز بھی نہیں اٹھ رہی کوئی اس کو مسئلہ سمجھے تو آواز بھی سنائی دے گی۔

سیاسی جماعتیں خواب خرگوش کا مزہ لے رہی ہیں۔ رہا ہمارا نام نہاد میڈیا تو بقول سردار عطاء اللہ مینگل ”بلوچستان کی لوٹ کھسوٹ میں صحافی بھی برابر کے حصہ دار ہیں“ ایسے کتنے واقعات ہیں جو شاید ذہن سے نکل جائیں انہی میں سے ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ بے روزگاری سے تنگ آکر سمگلنگ کے نام پر جب تیل کے کاروبار سے ایک بار پابندی ہٹا دی گئی تو مستونگ کے دہواروں سے میں سے دو بھائیوں نے بھی یہ کام شروع کیا۔ ان کاحادثہ ہوا تو اس کے والد کو اطلاع ملی کہ اس کا ایک بیٹا جھلس کر مر چکا ہے، اس کی حالت غیر ہوگئی۔ دوسرے کا پوچھا، تو اسے تسلی دی گئی کہ وہ ابھی زندہ ہے لیکن پھر وہ بھی چل بسا۔ یہ خبر اس تک پہنچی تو اس کے والد نے گھر جا کر پستول سے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔

لیکن نہیں، ہمیں رونے اور شکایت کی اجازت نہیں ہے۔ رونا ہے تو رو چھپ کے، چھپ کے، آنسو نہ بہا۔ فریاد نہ کر،اور رونابھی کس کے آگے، وہ لیڈر جو پھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ خراٹے لے رہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں

SHARE
Previous articleکوئٹہ اور سبی دھماکوں کے مقدمے سی ٹی ڈی تھانوں میں درج
Next articleکوہلو: بارودی سرنگ دھماکے میں ایک شخص ہلاک
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔