سی ٹی ڈی کا ایس آر اے کے ممبران کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

223

کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں رینجرز سمیت دیگر حملوں میں ملوث سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے چار ممبران کو گرفتار کرلیا گیا۔

سی ٹی ڈی سندھ کے پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کاروائی میں سندھ بھر میں رینجرز کی موبائلز اور چیک پوسٹوں پر کیئے گئے حالیہ دستی بم اور کریکر بم دھماکوں میں ملوث چار ملزمان جن کا تعلق سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) سے ہے، کو میر پور خاص سے وفاقی حساس ادارے کی مدد سے گرفتار کرکے دستی بم اور پسٹلز برآمد کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔

حکام کے مطابق ملزمان میں سارنگ عرف سہیل میرانی ولد ذوالفقار میرانی، بشیر احمد شر ولد عبدالرزاق، انیس احمد ولد حاجی کامل، خاوند بخش عرف سلیم سندھی ولد نذیر احمد شامل ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھانے والی تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ نے سی ٹی ڈی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر کیئے گئے افراد چار مہینے قبل کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کیلئے وی ایم پی – سندھ احتجاج کرتی رہی ہے۔ انہیں جھوٹے کیسز میں ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر سورٹھ لوہار نے مزید کہا کہ جبری لاپتہ کارکنان کو جھوٹے مقابلوں میں گرفتاری ظاہر کرنے والے عمل کے خلاف ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ پولیس قومپرست کارکنان کو جھوٹے مقابلوں میں مار دے گی۔