ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان میں اہم رہنماوں سے ملاقاتیں

61

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف آج بدھ کو صدر پاکستان، وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کے دوران اہم باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ رات اسلام آباد پہنچے۔ وہ آج صدر پاکستان عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی صدارتی انتخابات کے فوراً ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جواد ظریف نے اپنے دورے سے قبل ہمسایہ ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا”امریکی صدر ٹرمپ 70 روز بعد چلے جائیں گے۔ لیکن وہ سب یہیں رہیں گے۔ اپنی سکیورٹی کے لیے باہر والوں پر انحصار کرنا مناسب نہیں اور ایران اپنے پڑوسی ممالک کو باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔”

جواد ظریف کا پچھلے ڈھائی برس کے دوران پاکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ پچھلی مرتبہ وہ مئی 2019 میں دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اعلی سطحی وفد بھی آیا ہے۔ جس میں سیاسی اور اقتصادی ماہرین کے علاوہ ایران کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد ابراہیم طاہریان بھی شامل ہیں۔ خصوصی ایلچی کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ پاکستان کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ اس لیے اس دورے کے دوران پاکستان، ایران اور افغانستان کے سرحدی امور نیز بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین اہم بات چیت بھی ان ملاقاتوں کے دوران متوقع ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق جواد ظریف، وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے، ان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی رہنماوں کے ساتھ میٹنگ میں پاکستان ایران باہمی تعلقات، امریکی صدارتی انتخاب، متوقع پی فائیو پلس ون معاہدے کی بحالی کے تناظر میں آئی پی گیس پائپ لائن پر خصوصی بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں قیام امن، افغان امن عمل، پاکستان ایران اقتصادی تعلقات، پاکستان ایران سرحدی انتظامی امور اور غیر قانونی منشیات و انسانی اسمگلنگ کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔