سورج کا شہر (حصہ دوئم) | قسط 43 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

117

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
حصہ دوم | پندرہ برس بعد | اومیتانی بانک Princess of Hope

ہنگول دریا سے کوسٹل ہائی وے پر آگے بڑھیں تو آپ کُنڈ ملیر ساحل پہ آئیں گے۔ اسے ”اگور“ بھی کہتے ہیں۔ وہاں سے درہِ بُزی آئے گا۔

ہمیں اندازہ تھا کہ اب ہمیں ایک اور منظر دیکھنے کو ملے گا۔ نعمت کدہ ہے میرا وطن۔ جہاں مٹی جیسی ”بے کار“ چیز نے وہ کارآمدی دکھائی کہ صرف اُسے دور سے دیکھنے کے لیے سالانہ اتنے پیسے ملنے تھے جس سے پورے بلوچستان کا بجٹ چلایا جاسکتا ہے۔

اور ایک موڑ مڑتے ہی ہمارے اوسان سلامت نہ رہے۔ ………… یہاں سکوت میں ڈوبا بلوچستان ایک اور منظر نامہ دکھانے لگا، بالکل ہی اجنبی، نا آشنا منظر نامہ۔ یہاں ہزاروں سالوں کی بارشوں اور ہوا کی تعمیر کردہ عظیم الجثہ عمارتیں ہیں، مجسمے ہیں، قلعے ہیں۔ بالکل حیرت ہورہی تھی کہ ہم آئے کہاں پہ ہیں۔ لگتا تھا وطن آج اپنے بیٹوں پہ ہمیشہ سے زیادہ مہربان ہوچلا ہے۔ یہاں آپ کے اندر جمالیات کے مختلف قبائل، جنگ شروع کرتے ہیں۔ یوں تو آنکھ والا قبیلہ جیت جاتا ہے، مگر کان اور ناک کی حسیات کبھی ہار نہیں مانتیں۔ بالآخر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے رہنے پر صلح ہوجاتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ہم نے چند برس قبل ہالی وڈ کی حسین اور کمال فن رکھنے والی ایکٹریس انجلینا جولی کی تصویر سے اپنے ماہنامہ ”سنگت“ کا ٹائٹل منور کیا تھا۔ انسان دوست، امن و خیر کی سفیر انجلینا جولی۔ بے حد حسین، باصلاحیت اور ہالی وڈ کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ادا کارہ انجلینا جولی۔ اُسے جائز طور پر ”دنیا کی حسین ترین عورت“ قرار دیا گیا۔ میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ وہ ”چپٹر“ ہے۔ چَپ ہاتھ سے کام کرتی ہے۔ اُس کا دایاں ہاتھ، ایسا جیسا ہمارا بایاں ہاتھ۔

ہماری یہ ممدوحہ انجلینا معروف اداکارہ اور دنیا کی حسین ترین خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی بھلائی اور خیر کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتی ہے۔ وہ سیلاب و زلزلہ جیسی آفات میں گھرے ضرورت مندوں پہ خود کو وقف کیے رکھتی ہے۔ وہ سیر الیون اور تنزانیہ گئی، کمپوچیا اورسوڈان کے جنگ زدہ علاقے گئی، ڈار فر، اور خانہ جنگی والے چاڈ پہنچی، جنگ میں جھونکے ہوئے عراق، آتش و لہو میں ڈوبے لیبیا میں جا موجود ہوئی………… وہ خود روتے ہوئے اپنی خدا ترس فطرت میں تیس ممالک میں آفت زدگان کے آنسو پونچھتی رہی۔ وہ بے شمار فلاحی اداروں کو چندہ دیتی ہے۔ وہ ایشیا اور افریقہ سے بے شمار غریب و بے وارث و بیمار بچوں کو لے پالک بناکر امریکہ لے گئی، اور وہاں انہیں ماں بن کرپال رہی ہے۔

یہ دلچسپ خاتون جب سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے پاکستان آئی تھی تو یہاں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھا۔ اُس نے انجلینا کو ظہرانہ دیا۔ انجلینا نے بعد میں کہا کہ کھانے کی میز پر اس قدر شان دار اور وافر کھانا دیکھ کر وہ نہایت آزردہ رہی۔ آٹے کی ایک تھیلی اور پانی کی ایک بوتل کے پیچھے دوڑتے ہوئے سیکڑوں سیلاب متاثرین کے لیے یہی کھانا کافی تھا۔ وزیراعظم ہاؤس کے شاہانہ اخراجات، نجی چارٹرڈ طیاروں میں سفر اور دیگر ایسی تعیشات آپ کو بے چین تو کرتی ہی ہیں جب کہ آپ کے سامنے ایک المیہ موجود ہو۔ چنانچہ انجلینا نے اقوام متحدہ میں اپنی رپورٹ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ پاکستان کو مجبور کرے کہ کسی قسم کی عالمی امداد طلب کرنے سے قبل حکومت اور اس کے اعلیٰ حکام اپنی تعیشات اور شاہ خرچیوں میں کمی کریں۔ ………… ہے نا بڑی عورت!!۔

اُسی زمانے میں ہم نے اپنے رسالے میں اِسی ہنگول علاقے کے قدرتی سیکڑوں میٹر بڑے نسوانی مجسمے کو ٹائٹل بنایا تھا۔ ارے ہمارے دائیں جانب افق کے پس منظر میں وہی حیرت کدہ تھی۔ بلوچستان کی براعظمی وسعتوں میں تنہا کھڑی ایک طویل قامت نازک دبلی پتلی، مہین چٹان ہے جو ایک باوقار خاتون سے مشابہت رکھتی ہے۔ ہم بلوچستان کو بخشی ہوئی فطرت کے سب سے حسین منظر کا نظارہ کررہے تھے۔

اقوام متحدہ کی ”خیر خواہی“ کی سفیر، محترمہ انجلینا جولی 2002ء میں اس علاقے سے گزری تھی۔ دراز قد، بلند بخت، پرہ چہرہ، اور حسین بدن والی اس پری کے حسین دماغ نے عورت کے اس بہت بڑے مجسمے کو دیکھا تو ہم تصور کرسکتے ہیں کہ حیرت سے اس کی موٹی اور متحیر آنکھوں کو کتنی خوب صورتی عطا ہوئی ہوگی۔ استعجاب سے اس نے دراز و بہشتی انگلی اپنے صدف صورت دانتوں میں دبائے بلوچ ارض مقدس کی تقدیس میں اپنی نرم دلی ڈال دی ہوگی………… اس نے اُس قدرتی طور پر بنے ہوئے مجسمے کا نام دُہرایا اور لعل و گوہر جیسے یہ الفاظ بولے: Princess of Good Hope۔ کتنامعتبر و محبوب نام ہے یہ!!۔

مجھے فیس بک پہ امجد نامی ایک صاحب نے اس کی ایک وضاحت کردی۔ اس کا کہنا ہے کہ”پرنسس آف ہوپ“ دراصل بلوچی نام ”امیتانی بانک“ کا ترجمہ ہے۔ صدیوں سے اس علاقے میں اس مجسمے کو ”امیتانی بانک“ کہا جاتا ہے، کہ بے اولاد عورتوں کی امیدیں اس مجسمے کے سائے میں برآئیں۔ اُس کے خیال میں انجلینا جولی نے بلوچوں کی ”امیتانی بانک“ کا ترجمہ کرکے اسے ”پرنسس آف ہوپ“ کہا۔ یعنی یہ صرف امید کی شہزادی نہیں، یہ خیر کی امید کی شہزادی ہے۔ ”اچھی امید کی رانی …… ھیرہ اومیثہ بانک“۔ الفاظ اتنے بھی بے توقیر نہیں ہوتے کہ اُن کے آگے پیچھے کرنے، یا حذف کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہو۔ بھئی ہنگول کی ہماری یہ شہزادی خیر اور نیکی کی امید کی علامت ہے۔ خیر ہو وطن کی، خیر ہو بلوچستان کی، خیر ہو کُل جہان کی!!

انجلینا جولی ہمارا شکریہ کوئی نہ کوئی تو تمہیں پہنچادے گاہی۔ نام تو بے نامی، گم نامی کا الٹ ہوتا ہے۔ تم نے ہمیں گم نام رہنے نہ دیا۔ اس عجوبہ قدرت کو اُس وقت نہ صرف انسانی آنکھ نے دیکھا تھا بلکہ ایک اور آلے کی آنکھ نے بھی، جسے انسان، کیمرہ کہتا ہے۔ تب ہمارے کوہستانوں کی یہ رانی، امید کی یہ شہزادی اچانک مشہور ہوئی، پورے لولاک میں۔ ایک نیلا بورڈ لگ گیا۔ جس پر اُس کا نام لکھا تھا: ”امید کی رانی“۔

مجھے پھر اچھا لگا۔ ایک اور مائتھالوجی۔

وہیں میر ا دل خود اپنے ساتھ چھیڑ خانی میں لگ گیا: کہ آج زندہ انسانوں میں ”اچھی امید کی رانی“ کون ہو سکتی ہے؟۔ انجیلینا جولی کی عظمت، دانش ورانہ برتری اور اچھے فیصلے کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے میں نے شش و پنچ میں ”رتھ فاؤ“ کا نام واپس دل کی جیب میں رکھ دیا۔ نہ ہم انسانیت کی اس محسن رتھ فاؤکو نوبل پرائز دلاسکتے ہیں، نہ اس کے نام کا کوئی مجسمہ کھڑا کرسکتے ہیں۔ کاش ہم کسی ہسپتال کا نام ہی اُس پر رکھ سکتے۔………… ”رتھ فاؤ ہاسپٹل“!!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔