حسیبہ قمبرانی کا درد کون خریدے گا؟ – محمد خان داؤد

234

حسیبہ قمبرانی کا درد کون خریدے گا؟

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

انسان بکتے ہیں، لاشیں بکتے ہیں، اعضاء بکتے ہیں، اعتبار بکتا ہے، یقیں بکتا ہے، کفن بکتے ہیں، میت باکس بکتے ہیں، قبریں بکتی ہیں،عزتیں بکتی ہیں، ناموس بکتی ہے، جنس بکتی ہے، خوشبو بکتی ہے، پھول بکتے ہیں، چاہے وہ پھول سہرے میں سجیں چاہے کسی کی قبر پہ ڈالے جائیں، چاہے کسی کی میت پر رکھے جائیں، چاہے کسی کی ڈولی پر سجائے جائیں، روٹی بکتی ہے، محبت بکتی ہے، نفرت بکتی ہے، سب کچھ بک جاتا ہے اگر نہیں بکتا تو درد نہیں بکتا، سب چیزوں کی دکانیں سجتی ہیں۔
اگر نہیں سجتی تو درد کی دکان نہیں سجتی!
اور آنسو کو رکھنے کے لیے آنکھوں کے سوا آج تک کوئی برتن نہیں بنا
آنسو آنکھوں میں ہی رہ جاتے ہیں
یا دامن کو گیلا کر جاتے ہیں
سب جنسوں کے خریدار آسانی سے مل جاتے ہیں، اگر نہیں ملتا تو درد کا کوئی خریدار نہیں ملتا!
باقی جنس کو سیدھا لکھیں تو وہ وہی رہتی ہے، اگر اسے اُلٹا لکھا تو وہ چہرے کی مانند بدل جاتی ہے
محبت، اُلٹا لکھنے سے محبت نہیں رہتی
،،تبحم!،،بن جاتی ہے
نفرت اُلٹا لکھنے سے نفرت نہیں رہتی
وہ،،ترفن!،،بن جاتی ہے
پر درد، کو جیسا بھی لکھو وہ درد ہی رہتا ہے
،،اُلٹا بھی لکھا،سیدھا بھی لکھا
درد،درد ہی رہا
،،درد،درد!،،
درد، درد رہتا ہے یہ دل سے نہیں جاتا جب یہ روگ بن کر کسی کو لگتا ہے تو جان ہی لے لیتا ہے
،،تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا!،،
اور یہ کیا ہوتا ہے؟
درد!
تو درد بھی خضر بن جاتا ہے، جیے جاتا ہے مرتا ہی نہیں پر اسے مار دیتا ہے جس سے نتھی ہوتا ہے
،،اے درد! تو درد بن
خضر نہ بن!،،
درد سادہ لوح نہیں ہوتا!
درد آساں نہیں ہوتا!
درد کوئی شام نہیں ہوتی کہ ڈھل ہی جائیگی
درد کوئی رات نہیں ہوتا کہ بسر ہو ہی جائیگی!
درد کوئی پہر نہیں ہوتا کہ کٹ ہی جائیگا!
درد کوئی سحر نہیں ہوتی کہ ہو ہی جائیگی!
درد تو مینا ہوتا ہے جو برستا ہے
جو برستا ہی رہتا ہے
من کو گیلا کر جاتا ہے
درد تو اُوس ہوتا ہے جو دل پر گرتا ہی رہتا ہے
درد تو فکرِ یار ہوتی ہے جاتی ہی نہیں
درد تو درمیانِ دل ہوتا ہے کہیں ٹہر سا جاتا ہے
درد تو مسکین ہوتا ہے، جو ہاتھ جوڑے کھڑا رہتا ہے
درد تو دل کے تاک ہوتا ہے دل کے ساتھ رہتا ہے
درد کوئی جنس نہیں ہوتا، درد تو دکان ہوتا ہے
درد سادہ لوح ہوتا ہے
درد صوفی ہوتا ہے
درد شوقِ مکرر نہیں ہوتا
درد تو حالِ یار یوتا ہے
درد سسئی نہیں ہوتا
درد تو پنہوں ہوتا ہے اور کئی سسی اپنے پنہوں کی تلاش میں سرگرداں ِ خیال ہوتی ہیں
درد تو غالب کے یہ الفاظ ہوتے ہیں کہ
،،میں سادہ دل آرزدگیِ یار سے خوش ہوں
یعنی سبقِ شوق مکرر نہ ہوا تھا!،،
کیسا عجیب ہے سڑک کنارے کھڑے ریڑے سے گلے سڑے پھل بک جاتے ہیں، پرانے کپڑے بک جاتے ہیں۔ بدبو دار جو تے بک جا تے ہیں، کوڑے کرکٹ سے چُنی گندی سرنج بک جاتی ہے، زہر بک جاتا ہے، ایمان بک جاتا ہے، باسی روٹیاں بک جاتی ہیں، وعدے بک جاتے ہیں۔
تو بک جاتا ہے، میں بک جاتا ہوں، وہ بک جاتا ہے، یہ بک جاتا ہے، سب بک جاتے ہیں۔
پر درد نہیں بکتا،درد کیا درد کا زائقہ تک نہیں بکتا۔
حسیبہ قمبرانی کا درد بھی خداوند بن گیا ہے مرتا ہی نہیں
،،تم ہو بت، پھر تمہیں پندارِ خدائی کیوں ہے؟
تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی!،،
حسیبہ قمبرانی کا درد خضر بن گیا ہے، مرتا ہی نہیں
درد تو درد بن،خضر نہ بن!

اگر درد بکتا تو ان سیکڑوں ماؤں کا درد بک جاتا، جو مسافر بنی ہوئی ہیں۔ اگر درد بکتا توفرزانہ مجید کا درد بک جاتا جو اب آپ ہی درد بنی ہوئی ہے۔ اگر درد بکتا تو اس ماں کا درد بکتا جس کا جواں سالہ بیٹا اس لیے مسخ شدہ لاش ہوکر واپس ملا کہ اسے اپنی دھرتی سے پیار تھا۔ اگر درد بکتا تو ان سیکڑوں بہنوں کا درد بکتا جو کئی کئی مسافتیں طے کرکے وہاں پہنچی جہاں منزل کیا پر منزل کا نشاں بھی نہیں۔ اگر درد بکتا تو ان بچوں کا بکتا جن بچوں سے اپنے باباؤں کی شکلیں بھولی جا رہی ہیں۔ اگر درد بکتا تو اس علی حیدر کا بکتا جس کو اب یہ بھی یاد نہیں کہ اس کا بابا اسے کس نام سے بلاتا تھا؟

اگردرد بکتا تو اس مہلب اور سمی کا بکتا جن کا درد بھی ان کی طرح جوان ہوگیا ہے
اے درد!
تو درد بن خضر نہ بن!
جب درد کا کوئی خریدار ہی نہیں تو حسیبہ قمبرانی کا درد بھی کون خریدیگا؟
وہ اپنے درد کی دکان کہاں لگائے گی؟
درد کوئی گلا سڑا پھل نہیں ہوتا
درد کوئی لنڈہ کا کپڑا نہیں ہوتا
درد کوئی سبزی فروش کی سبزی نہیں
درد، درد ہوتا ہے
اور درد عذاب ہوتا ہے
جب درد نے یعقوب کی آنکھوں کو اندھا کر دیا تھا
تو یہ حسیبہ، فرزانہ، مہلب، سمی
تو
اور میں کیا ہیں؟

پر حسیبہ قمبرانی بھی کیا کرے؟ جب اس کی تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح آنکھ لگتی ہے تو اس نیند میں وہ بھائی آ جاتے ہیں جو اسے سونے نہیں دیتے جن بھائیوں کے نہ ہونے سے حسیبہ قمبرانی کی نیند ماری جا چکی ہے
،،تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے،آئے جو خواب میں!،،
اب یہ مرشد فیض کی بات بے معنی سی لگتی ہے کہ
،،درد بیچیں گے
گیت گائیں گے
اس سے بڑا کاروبار کہاں؟!!،،
پر درد تو نہیں بکتے
زمانہ ہوا آمنہ مسعود جنجوعہ کا ہی درد کوئی نہیں خرید رہا۔ درد بڑھ جاتے ہیں اور دکان گھٹ جاتی ہے!
آمنہ کے درد گذشتہ سے پیوستہ ہیں اور وہی پڑے ہوئے ہیں
تو ایسے میں حسیبہ قمبرانی کے درد کون خریدے گا؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔