ہم کیوں اصل مقصد سے روگرداں ہیں – ظفر بلوچ

97

ہم کیوں اصل مقصد سے روگرداں ہیں

تحریر: ظفر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اللہ تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ مخلوق کیوں قرار دیا؟ انسان کو دیگر مخلوقات سے اس لیے اعلیٰ قرار دیا گیا اور دیگر مخلوقات سے انسان کے درجات بھی بلند رکھے کہ انسان شعور سے سرشار ہے اور ہرشے سے واقفیت رکھتے ہیں ۔ انسانوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کےلیے کان اور سیکھنے کےلیے دل ودماغ، چلنے پھرنے کے لیے پاؤں اور کھانے پینے کے لیے ہاتھ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور ہم اللہ تعالی کی کون کونسی نعمتیں بیان کریں جو کہ خالق پروردگار نے اپنے بندوں کو نوازا ہے لیکن انسان اتنی نعمتوں کے باوجود کبھی خوش حال دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ انسان حرصی و لالچی ہیں، جب انسان لالچ تک پہنچ گئے تو وہ براۓ نام کے انسان رہ جاتے ہیں اور انسانی دائرہ کار سے خارج ہوجاتے ہیں، وہ ہر وقت اپنی انا کے متعلق سوچتے ہیں اور جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس معاشرے سے لاتعلق ھوتے ہیں حتیٰ کہ اپنے قومی، علاقائی، فرائض منصبی کو فراموش کرتے ہیں حالانکہ انسان کو اللہ تعالی نے صرف اور صرف اپنی انا اور فیملی کی خدمات کے لیے اتنے درجات عطا نہیں کیۓ ہیں بلکہ انسان کاکام بنو انسانیت کا خدمات کرنا ہے لیکن آج کل باشعور انسان اور انسانیت کے بلند و بالا دعویدار اپنے انا کے غلام بنے ہوۓ ہیں۔ انھیں یہ معلوم تک نہیں ھے کہ ہمیں ایک نہ ایک دن ان لاچار وبےبس لوگوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر جواب دینا پڑیگا جن کی بستیاں تباہ وبرباد ہوۓ ہیں، جن کے لخت جگر اور گھروالوں اور فیملی کے روشن چراغ ہمیشہ کے لیے ان سے بچھڑ گۓ ہیں اور کتنے ماں کے لال سالوں سے زندانوں میں ہیں اور کتنے بہن بیوہ ھو گۓ ہیں اور کتنے والد اپنے نوجوان فرزندان سے ہاتھ دھو بیھٹے ہیں اور ہم کیوں ان لوگوں سے غافل ہیں؟

آج ہم محفلوں میں بیٹھ کر بڑی دیدہ دلیری اور شان بلندی کے ساتھ یہ کہنے سے نہیں کتراتے ہیں کہ ہم بلوچ قومی تحریک اور شہداۓ بلوچستان کے حقیقی وفکری وارث ہیں، ان بلند و بالا دعویداروں کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ اس عظیم تحریک کی آبیاری، ان ماؤں اور بہنوں کے نوجوان بھائیوں اور والدوں نے اپنے پیارے جانوں کے لہو سے کی ہیں، جو آج ان ویران قبرستانوں کی امانت ہیں اور اپنی مادر گلزمین کے آغوش میں ابدی خواب میں ہمیشہ کے لیئے پرخواب ہیں، جن کی ماں باپ بہن بھائی اور بچے اور بچیاں اپنی پیاروں کے درد کاٹ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ دوزواہ سے لیکر کیڈر سپاہی سے لیکر کمان تک اور ہر ایک کواپنی قومی زمہ داری کا احساس ہونا چاہیئے کہ میں کون ہوں اور میری زمہ داری کیا ہے اور ساتھ ہی اپنی زمہ داریاں ایماندار اور خلوص نیت کے ساتھ نبھانے کی اشد ضرورت ہے۔

یہاں ہم بری الزمہ نہیں ہیں ہر معاملے کو لیڈرشپ کے کندھوں پر لاد نہیں سکتے، آج ورکر سے لیکر کیڈر اور ایک جنگی سپاہی سے لیکر ریجن کمان تک ہر ایک اپنے زمہ داری پورا کرنے کا عہد کریں نہ تو تمام کوتاہیاں جو بھی شعوری یا لاشعوری طورپر سرزد ہوۓ ہیں، ان کوتاہیوں کی ذمہ دار قیادت نہیں بلکہ تمام زمہ داراں پر عائد ہوتے ہیں اور دنیا کے موجودہ بدلتے ہوۓ حالات کا جائزہ لینا اور انہی حالات کا علمی وسیاسی بنیاد پر مقابلہ کرنا بھی ہماری زمہ داری ہوگی کہ اس جدید دور میں ہر شے کی معلومات منٹ اور سیکنڈوں میں ملتے ہیں اور دستیاب ہوتے ہیں لیکن ہمیں موجودہ علاقائی و عالمی سیاسی صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور خواب غفلت سےجاگنے کی ضرورت ہے، ہر ایک کو وقت کی ضرورت کے مطابق کردار اداکرنا پڑیگا، جہاں وہ سیاسی جدوجہد ہو یامسلح جدوجہد ہو اور وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہمیں دونوں جگہوں میں اپنے قومی مقصد کے اصول کے لیے کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور آج بلوچستان میں ریاست پاکستان کے وحشی فوج انسانی خون کے ہولی کھیلے جارہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بلوچ ماؤں اور بہنوں کی بے حرمتی اور قابض فورسز کے عقوبت خانوں میں بلوچ مائیں اور بہنوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔

میرے خیال میں اس سے زیادہ ظلم بنگلہ دیش میں بھی نہیں ہوا، ہماری بہنیں ماہ رنگ، بی بی گل، سمی بلوچ، سیماء بلوچ، حسیبہ قمبرانی، حانی گل بلوچ ودیگر جو سالوں سے کراچی اور کوئٹہ کے پریس کلبوں کے سامنے ماما قدیر کے ساتھ بھوک ہڑتالی کیمپوں میں اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں لیکن ریاستی اداروں کی جانب سے روزانہ ان بلوچ بیٹیاں کو سر بازار ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکار ڈرا دھمکا رہے ہیں اور گرفتار کرکے گھنٹوں تک جیل کی تاریک کوٹھڑیوں میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں، اس سے زیادہ اور کیا کیا جائے، پھر بھی ہم اتنے ظلم و زیادتی جو ہمارے ماؤں اور بہنوں کے ساتھ ہونے کے باوجود دشمن کے گریبان کے بجاۓ اپنے آپ کے گریبان کھینچنے میں مصروف ہیں خدارا اقربا پروری اور انا پرستی، ضد و بغض کو بالا طاق رکھ کر معصوم بلوچ قوم کے ان بے بس ماؤں اور بہنوں کی آواز بن کر دشمن ریاست کو ایک متحد قوم کی صورت میں مہمیز دیں تاکہ دنیا خواب آخرت کی نیند سے جاگ اٹھنے پر مجبور ھو۔

بلوچستان میں اس وقت سب لوگوں کو ریاستی اداروں کی جانب سے جان کا خطرہ لاحق ہے لیکن حالیہ دنوں قابض ریاستی مشینری نے جس تیزی کے ساتھ مارو پھینکو پالیسی میں شدت لایا ہے، ہمیں اب نئے حکمت عملی اور جنگی ہنر کے ساتھ نمٹنے اور تمام ریاستی حربے نیست نابود کرنا پڑیگا۔

ہم بحثیت قومی وسیاسی ورکر و جنگی سپاہی اپنے بزرگ قائدین اور مقدس اداروں کے خلاف بیٹھ کر بلاوجہ پروپگنڈہ کرنے کے بجاۓ دشمن ریاست کے وہ پالیسی ساز اداروں پر نظر جمائیں جو گذشتہ 73 سالوں سے ہمارے قوم کے استحصال کرتے چلے آرہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔