عالمی شہرت یافتہ بھارتی شاعر راحت اندوری انتقال کرگئے

86

اردو کے معروف شاعر راحت اندوری آج انتقال کرگئے، انہوں نے آج صبح ہی کورونا پازیٹو ہونے کی اطلاع خود اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق عصر حاضر کے مشہور شاعر ڈاکٹر راحت اندوری زندگی کی 70 بہاریں دیکھنے کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے، وہ گذشتہ روز کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے تھے۔

انہوں نے ٹوئٹر پیغام لکھا تھا کہ کوویڈ کی ابتدائی علامتیں نظر آنے کے بعد کل میرا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے۔ آربندو اسپتال میں ایڈمٹ ہوں، دعا کیجئے جلد سے جلد اس بیماری کو شکست دے دوں۔

لیکن آج وہ کرونا سے جانبر نہیں ہوسکے اور 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

یکم جنوری 1950 کو بھارت میں پیدا ہونے والے راحت اندوری پیشے کے اعتبار سے اردو ادب کے پروفیسر رہ چکے ہیں بعد ازاں آپ نے کئی بھارتی ٹی وی شوز میں بھی حصہ لیا۔

ڈاکٹر راحت اندوری نے نہ صرف بالی ووڈ فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی بلکہ گلوکاری کے کئی شوز میں بطور جج حصہ بھی لیا۔

آپ کے والد رفعت اللہ قریشی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ملازم تھے، راحت اندوری بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں، آپ نے ابتدائی تعلیم نوتن (مقامی) اسکول سے حاصل کی بعد ازاں اسلامیہ کریمیہ کالج اندور سے 1973 میں گریجویشن مکمل کیا۔

سن 1975 میں آپ نے بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا، تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لیے آپ نے 1985 میں بھوج اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

آپ کی تصانیف میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، رت بدل گئی، ناراض، موجود و غیرہ شامل ہیں۔ آپ نے اپنے منفرد انداز بیان، مختصر اور آسان الفاظ میں شعر کہہ کر اردو ادب اور سامعین میں نمایاں مقام حاصل کیا۔