شہید نواب بگٹی اور احساس کا دھاگہ – منظور بلوچ

393

شہید نواب بگٹی اور احساس کا دھاگہ

تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

نواب صاحب …… آپ کی چودہویں برسی کے موقع پر خیالات کی ایک یلغار ہے اور جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو پورا شال بارش میں بھیگ رہا ہے آج جس طرح موسم شاعرانہ ہے آپ کی موت بھی شاعرانہ رہی آپ کے ذہن میں بالاچ بیورغ ایک ہیرو تھا آپ کی گفتگو سے کبھی کبھار ایسا اظہار سامنے آتا تھا ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے آپ کے اور بھی ہیروز ہوں او رآپ نے پہاڑوں میں جانے کا فیصلہ کیا تو کسی کو یہ گمان نہیں تھا کہ نہ صرف بلوچ قوم بلکہ محکوم اقوام کو ایک نیا ہیرو نصیب ہوگا المیہ ہی تو ہے کہ ہیروز درد کے بغیر پیدا ہی نہیں ہوتے اپنے گھر کو‘ خاندان کو سب کو ہمیشہ کیلئے چھوڑنے کا شعوری فیصلہ بڑا کرب ناک ہوتا لیکن یہ بات کتنے لوگ جانتے ہوں گے صرف وہی۔ جو اجداد سے چلی آئی اپنی سرزمین سے بے دخل کئے جاتے ہیں۔

فلسطین کے تناظر میں لکھا گیا ناول ”زخم کا نشان“ بھی ایک ایسے کرب کو واضح کرتا ہے کہ بوڑھا فلسطینی یحییٰ اپنے بیٹے کو اس لئے مزید پڑھنے سے روکتا ہے کہ اس نے آگے چل کر اپنے آباؤاجداد کی زمین پر فصلوں کی دیکھ بھال کرنا تھا لیکن یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی ان کو ان کے اپنے ہی علاقے سے‘ جہاں وہ صدیوں سے آباد تھے طاقت کے زور پر نکال دیئے جائیں گے اور اسے عمر بھر اس بات کا افسوس رہتا ہے کہ اس نے حسن کو پڑھنے سے کیوں روکا کیونکہ اب وہ اپنی ہی سرزمین میں پناہ گزین بن چکے تھے صیہونی فوجیوں نے ان کو وہاں سے بندوق کی طاقت کے ذریعے نکال دیا تھا اب وہ جنین میں پناہ گزین تھے لیکن ان کو یقین نہیں آتا تھا ان کے سامنے ان کے بیٹوں کو مارا گیا ان کے مال و اسباب چھین لئے گئے تھے سبھی خاموشی کی تصویریں بن کر رہ گئے تھے جنین اب پناہ گزینوں کا ڈیرا تھا بوڑھا یحییٰ جو بانسری پر المناک دھن بجایا کرتا تھا ایک دن اچانک اپنے ”ممنوعہ“ علاقے کی طرف روانہ ہو گیا لوگ منع کرتے رہے کہ وہ علاقہ اب ہمارا نہیں رہا جہاں ہم نے ہمارے بچوں نے اپنابچپن گزارا تھا لیکن بوڑھا فلسطینی ماننے کو تیار نہ تھا واپس لوٹ آیا تو گویا وہ ایک معرکہ سر کر کے آیا تھا اپنی سرزمین کے پھل پھول بھی ساتھ لے کر آیا تھا جو اس نے سب تقسیم کر دیئے اس رات سبھی پناہ گزینوں نے اپنے بے دخل کئے گئے علاقوں سے آنے والے پھل پھول کی سوغات کا جشن منایا لیکن المیہ کم نہیں ہوئے تھے نوجوانوں کو ننگا کر کے ماراپیٹا گیا۔

ہر ایک کی اپنی کہانی تھی‘ یادیں تھیں‘ المیے تھے‘ بچے‘ بوڑھے‘ جوان‘ عورتیں کسی کا من ماننے کو تیار نہیں تھا کہ چالیس پشتوں سے جس سرزمین پر آباد تھے اب وہ اس کا نہیں رہا تھا وہاں اسرائیل بن چکا تھا۔

نواب صاحب …… بات پتہ نہیں کہاں سے کہاں چلی گئی آپ نے جب مزاحمت کا فیصلہ کیا آپ کے ذہن میں کیا تھا یہ میں نہیں جانتا لیکن ایک دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا آج جو چار کتابیں پڑھ کر رٹا لگا کر مزاحمت کو گالی نکالتے ہیں اسے مہم جوئی‘ جذباتی پن کا نام دیتے ہیں آپ نے آج سے چودہ سال قبل ان کی زبانوں پر مہر لگا دیا تھا ایک 79 سال کا بوڑھا سردار‘ جس کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی جس کا ایک پاؤں ان کے جسم کا ساتھ نہیں دے پا رہا تھا وہ بوڑھا سردار‘ جو ہم میں سبھی میں پڑھا لکھا تھا وہ بلوچی کہاوتوں‘ روایات سے لے کر رامائن‘ مہا بھارت‘ شیکسپیئر کو پڑھتا تھا جب شام ڈھلنے لگتی تو اپنے ایک اور بوڑھے ساتھی شام کمار سے وہ فلسفیانہ گفتگو کرتا تھا۔

وہ بوڑھا سردار جس نے زمانے کے نشیب و فرار دیکھے تھے اپنے ساتھیوں کی بے وفائی دیکھی تھی ایک چھوٹی مدت کے اقتدار کے بدلے میں اس نے اپنا نوجوان جانشین بیٹا کھو دیا تھا اس کے ساتھ مذاکرات کے نام پر ایک ڈھونگ رچایا گیا تاکہ طاقت ور لوگ اور زیادہ وقت سمیٹ سکیں۔

نواب صاحب …… آپ اپنے تمام خوابوں‘ آدرشوں کے ساتھ چلے گئے …… لیکن پیچھے جو کچھ چھوڑ گئے …… وہ ایک نئے المیے کی شروعات تھیں‘ شہروں‘ قصبوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیز کے نوجوانوں کے جذبات آگ برسا رہا تھے آپ کا ساتھ دینے کے وعدے کرنے والے کونوں کھدروں میں چھپ گئے تھے۔

پھر آگ کی شدت میں اور اضافہ ہونے لگا لوگ مرتے گئے …… ٹارگٹ کلنگز کا آغاز ہوا لوگ اب اپنے آباؤاجداد کی سرزمین میں رہنے کے قابل نہ تھے پناہ گزینوں کا ایک لشکر تھا جہاں جس کا سرسمایا‘وہی کا ہو کر رہ گیا۔

آپ کی زندگی میں‘ آپ کی شاعرانہ موت کے بعد بھی آپ کی کردار کشی کا سلسلہ جاری رہا ظاہر ہے بونوں کی بستی میں کوئی قد آور‘ بڑا شخص کیسے برداشت ہو سکتا تھا علی احمد کرد کی یہ بات بھولے نہیں بھولتی کہ نواب صاحب ایک بڑے آدمی تھے‘ جن کو چھوٹے لوگوں نے مارا یہ بھی تو ایک المیہ تھا جن کو آپ نے پوری زندگی اپنے قریب رکھا ان پر عنایتیں کرتے رہے خواہ وہ نام نہاد سیاسی لوگ تھے‘ صحافی تھے‘ جو بھی تھے اب وہ آپ کے نہیں رہے تھے وہ ”طاقت ور لوگوں“کے سامنے سرنڈر کر چکے تھے اور تو اور آپ کی فیملی بھی دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔

اس سے پہلے آپ کی کردار کشی پنجابی دانشور‘ اہل قلم کرتے تھے اب یہی کام ہمارا ”دانشورانہ“ طبقہ کر رہا ہے جو بین السطور آپ کو ایک ظالم سردار کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو آپ کو پاکستانی فریم ورک میں سیاست کرنے کا ذمہ دار بھی گردانتا ہے۔

یہ سارے بونے لوگ جن میں سے اکثر کا ظہور سوشل میڈیا کے جنم کے بعد ہوا ان میں سے ہر ایک نے ایک رنگ کی جھنڈی اٹھا رکھی ہے …… لال‘ پیلے‘ نیلے اور ہاں ہرے رنگ بھی …… کیونکہ ہرے رنگ کا کمال اور خوشبو تو کچھ اور ہی ہے۔
اب یہ اپنے لوگوں کی کھال پہن کر مارکس‘ ………… لینن‘ سارتر کی باتیں کر رہے ہیں ان مشاہیر کے صدیوں پہلے کے وہ لقمے جو ان کے منہ سے گر گئے تھے جن پر اب صدیوں کی دھوپ‘ تمازت‘ بارش اور برف پڑ چکی تھی ہمارے ”سیانے“ اور ”لکھاری“ لوگ وہی لقمے اٹھا اٹھا کر چبا چبا کر کھانے لگے لیکن صدیوں پرانے وہ لقمے اپنا ذائقہ کھو چکے تھے لہذا جس نے بھی یہ لقمے کھانے کی کوشش کی وہ بد ہضمی کا شکار ہوا اور قے کرنے لگا آج ہمارا پورا سماج اسی قے میں بہہ رہا ہے …… ہیرو ازم‘ دانشوری کے مرض میں مبتلا دنیا دار لوگ‘ جو ادب اور احساسات کی دکانداری کا ہنر کرتے ہیں صرف قے کئے جا رہے ہیں اور پورا سماج اس قے کی پھسلن میں آ چکا ہے۔

سوچوں پر جھالے پڑے ہوئے ہیں لہذا ایسے میں عام آدمی کو،بلوچوں کو کنفوژن میں مبتلا رکھنا کونسا مشکل کام ہے …… اور وہ یہی کام بڑی ”ایمانداری“ کے ساتھ کر رہے ہیں نشانہ صرف اور صرف بلوچ عوام ہیں یا وہ گمنگام لوگ جو اپنے نام سے‘ ہیرو ازم سے بالاتر کی تاریخ میں جگہ بنانے کی آرزو سے بھی بے نیاز اپنے لہو کی سوغات پیش کر رہے ہیں۔

اس کے دائیں جانب سیاسی پارٹیاں ہوں‘ بلوچ بیورو کریسی ہو‘ لکھنے والے ہوں‘ ٹیچرز ہوں‘ سارے دنیا دار بن چکے ہیں خود غرضی کا وائرس کام کر رہا ہے موقع پرستی عام ہو چکی ہے۔

بلوچ کوڈ آف کنڈکٹ اور بلوچ اقدار پر ضربیں لگا ئی جا رہی ہیں ان کو فرسودگی اور جہالت کا نام دیا جا رہا ہے پر چی والے سردار بن رہے ہیں نرسنگ اردلی میر معتبر بن کر لوگوں کے فیصلے کر رہے ہیں پیسے کی اس دوڑ نے بہت سارے مجرمانہ جھتوں کی شکل بھی اختیار کر رکھی ہے سبھی کو پیسہ چاہیئے شہرت چاہیے۔

یہ بونے‘ یہ دکاندار‘ یہ دنیا دار پاور کو جان گئے ہیں پاور میں شراکت داری تو کجا وہ اسے چھونے کی حسرت لئے اپنے ہی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

موت کا کاروبار ہو رہا ہے اور اس کا کاروبار میں ”سیاسی لوگ“ بھی شامل ہیں وہ اس موت کو تقریروں میں ڈھال کر اپنے بنگلوں‘ بینک بیلنس میں اضافہ کر رہے ہیں۔

نواب صاحب …… آپ کا ایک خواب سنگل بلوچ پارٹی کا بھی تھا …… لیکن اب اس کا تذکرہ نہیں ہوتا طاقتور لوگوں کی جانب سے چھچھوڑی ہوئی ہڈی پر یہ لوگ لر رہے ہیں ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس ہڈی پر پہلا حق میرا ہے …… مزاحمت کو مذاق کا نام دیا گیا ہے …… مزاحمت کرنے والوں کو مہم جو‘ بے وقوف‘ جذباتیت کا نام دیا جا رہا ہے لیکن احمقوں کی جنت میں رہنے والے یہ بونے یہ بات جاننے سے قاصر ہین کہ جنگ اور مزاحمت تو جاری ہے البتہ اس کی شکلیں تو جاری ہے …… البتہ اس کی شکلیں بدل گئی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی جائیں گی لیکن نہ مزاحمت ختم ہو گی نہ جنگ کا انت نظر آ رہا ہے۔
مزاحمت کے اپنے ہزاروں روپ ہیں جو مزاحمت کر رہے ہیں‘ سو کر رہے ہین ان کی مزاحمت مختلف اشکال میں بکھری پڑی ہے۔

ایک کش مکش ہے …… ہر کوئی پاور‘ شہرت‘ دولت میں زیادہ سے زیادہ کا حصہ دار بننا چاہتا ہے کیونکہ بلوچ قوم ہزاروں سال سے غربت‘ بے کسی کی چکی میں پسی چلی آ رہی ہے ان میں سے چند چالاک‘ کچھ کتابیں بغل میں دابے‘ کچھ عہدوں پر بیٹھ کر بلوچ قوم کو ایک نئی کہانی سنانا چاہتے ہیں لیکن یہ کہانی بلوچ قوم کیلئے اجنبی ہے بلوچ قوم بھلا موم بنتی کی مزاحمت کیا جانیں؟ یہ تو نئے زمانے کے نئے چلن ہیں ان کا مسئلہ تو ان کی زمین ان کی دووقت کی روٹی اور باپ دادا سے چلی آئی شناخت ہے۔

نئی کہانیاں سنانے والے ان کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زمین‘ اپنی شناخت بھول جائیں کیونکہ ترقی ہو رہی ہے سڑکیں بن رہی ہے دنیا ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے دنیا ترقی کی چھلانگیں ما رہی ہے لیکن اس کا چکا چوند ترقی کی باتیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ترقی کی بھی تو کوئی قیمت ہوتی ہے ……؟ اگر یہ ترقی مجھ سے میرے خواب‘ میری زمین‘ میری شناخت چھیننا چاہیں گے تو میں کیسے آسانی سے قبول کروں گا جانتا ہوں کہ میں کمزور ہوں …… بے کس ہوں‘ بوڑھے فلسطینی یحییٰ کی طرح کس کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ آپ کے پرکھوں کی زمین اب آپ کی نہیں رہی جس طرح بوڑھے فلسطینی یحییٰ کا صرف ایک خواب‘ جینے کی ایک امنگ‘ ہے کہ وہ واپس اپنے کھیت کلیانوں میں جائے اپنی پرانی زندگی کو لوٹ جائے اس سے زیاہد تو بلوچ نے کبھی مانگ ہی نہیں۔

نہ وہ نظریات جانتے ہیں نہ وہ سوشلزم وجودیت کے بکھیڑوں سے واقف ہیں وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ چراگاہیں صدیوں سے ہماری تھیں یہ میرا ریوڑ ہے یہ میری دنیا ہے یہ میری مٹی ہے یہ میرے لوگ ہیں یہیں کہیں میرا بچپن ہے مجھے میرے باپ دادا کے نام سے جانا اور پکارا جائے۔

لیکن بونے دکاندار ان سے اجبنی زبانوں میں بات کر رہے ہیں کچھ خالص قسم کے دکاندار چرب زبانی سے اپنی دولت بڑھا رہے ہیں وہ وزارت اعلیٰ کے خواب بھی دیکھتے ہیں ان کو پرمٹ اور ٹھیکے بھی چاہئیں۔

باقی ان کے کاسہ لیس لکھنے والے‘ جو بظاہر بلوچوں کے ہم درد ہیں لیکن وہ بلوچوں کے نہیں اپنے ہمدرد ہیں۔

نواب صاحب …… نوجوانوں کو بھٹکانے والے بھی ہماری کھال کے لوگ ہیں لیکن ان کی زبان میں رکھے گئے الفاظ ہمارے نہیں ان کے قلم کی روشنائی کا ہم سے تعلق نہیں یہ سب لوگ ایک منصوبے کے تحت یہ کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ آپ کو بھول جائیں آپ کی پیران سالی مزاحمت کو بھول جائیں آپ کے ساتھ وہ 80 یا اس سے زائد لوگوں کو بھول جائیں جو آپ کی حفاظت کرتے کرتے بے نام مارے گئے۔

آسمان سے برسنے والے سرخ دہکتے لوہے کے ٹکڑے ان کے جسموں کو‘ دلوں کو چیرتے گئے۔
بلوچ کے پاس ہے ہی کیا کچھ مزاحمت کی یاد داشتیں ایک زمین۔ ایک شناخت۔
ان چیزوں کو سمجھنے کیلئے کسی لمبے چوڑے نظریئے اور فلسفے کی ضرورت نہیں۔

آپ بلوچوں سے ان کی زمین‘ ان کا بچپن‘ ان کے خواب‘ ان کی پہچان چھیننے کی کوشش نہ کریں تو جنگ از خود ختم ہو جائیگی جو شخص اپنے ریوڑ کے ساتھ سوکھی روٹی کے ساتھ خوش رہ سکتا ہے اس کو مزاحمت اور جنگ کی کیا ضرورت۔
مزاحمت تو سیاسی جماعتوں اور دانش وروں کا کام تھا جسے وہ چھوڑ کر دکاندار بن گئے یا بقول انور ساجدی این جی اوز بن گئے۔

نواب صاحب …… ہزاروں باتیں ہیں‘ ہزاروں قصے ہیں‘ دھوکہ دہی کے …… موقع پرستی کے …… لیکن کچھ لوگ ہیں جو گمنام رہ کر اپنے باپ دادا کے آدرشوں کا پالن کر رہے ہیں عجیب سا تضاد ہے۔ ایک قوم میں دو انتہائیں۔ ایک انتہا یہ کہ قوم کے نام پر کانداری کیلئے جتنا گر سکتے ہو گر جاؤ۔ تاریخ کو جس قدر مسخ کر سکتے ہو کر دو …… ہر مزاحمت کو مہم جوئی‘ بے وقوفی کا نام دو لیکن میرا ہیرو ازم برقرار رہا لوگ ہیرو مرشد کی طرح ہماری پوجا کریں۔ ہمارا نام ہو۔ شہرت ہو‘ اشرافیہ کا حصہ بننے کی خواہش میں وہ یہ ساری اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہے دوسری انتہاء گم نام لوگوں کی ہیں جو صرف اپنے سروں کے چراغ جلا رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا سے۔ موم بتی سے نظریوں سے‘ نعروں سے‘ شہرت سے کوئی کام نہیں ان کو کوئی یاد رکھنے یا نہ رکھے ان کے مزار بنتے ہیں یا نہیں بنتے کوئی ان کے مزار پر دو پھول چڑھاتا ہے یا نہیں ان کے سامنے ان سب سے بڑھ کر مقصد اہم ہے ان دو انتہاؤں پر سوچا جائے تو سر چکرانے لگتا ہے۔

دوسری جانب بے حسی اتنی بڑھ کچی ہے کہ ہم نے بڑے بڑے المیوں کو فراموش کر دیا ہے ایک ایک دن میں سو‘ سو‘ دو سو لوگ مارے گئے وہ سب ہمارے حافظے سے نکل رہا ہے اب کسی کے مرنے پر دل کو تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ بے حسی گھر کر چکی ہے۔

اگر کسی کو یاد ہے تو اپنا درد۔ اپنی ذات‘ اس سے آگے سب کچھ خلاص ہے

نواب صاحب………… اس لئے پاگل خانے بیجنا اور مر گیا اس نے ایک کوچوان کو دیکھا جو ایک بے زبان گھوڑے پر چابک برسا رہا تھا اس سے رہا نہیں گیا اس نے گھوڑے کی گردن میں بانہیں ڈال دیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور کوچوان سے کہا اس بے زبان کو کیوں مارتے ہو۔ پھر وہ پاگل خانے پہنچا اور پھر وہی عدم ہوا۔
ہمارے ہاں بھی یہ کل کی بات ہے غلام نبی راہی جو براہوئی زبان کا ریڈیو کوئٹہ میں پرڈیوسر تھا حساس اتنے کہ ایک دن دفتر آتے میلے کچیلے کچھ بچوں کو دیکھا جو غلاظت سے اپنے لئے رزق تلاش کر کے کھا رہے تھے یہ دیکھ کر اس کو دل کا پہلا دورہ پڑا۔

نواب صاحب …… اب ایسا کچھ بھی نہیں یا مجھ جیسے کور چشم نظر نہیں آتا۔

جب 8اگست کا واقعہ ہوا یہ میں نے کھانا کھانا چھوڑ دیا …… میر نیند حرام ہو گئی ہو۔

وہ جو انسان میں ایک احساس کا دھاگہ ہوتا ہے وہ دھاگہ ٹوٹ چکا ہے شاید کچھ لوگ ہی ہیں جن کے دل میں احساس کے دھاگوں سے جڑے ہوئے ہیں جن کے احساس کا دھاگہ نہیں ٹوٹا جی ہاں نواب صاحب میں اسی معاشرے میں رہتا ہوں جہاں ہمارے دل کے احساس کے دھاگے ٹوٹ چکے ہیں اور اس پر بے حسی یہ کہ ہم ان ٹوٹے ہوئے دھاگوں کو جوڑنے کیلئے دھاگے کا سرا بھی نہیں ڈھونڈ پا رہے اور وہ سارے بونے‘ دنیا‘ دکاندار‘ دانشور‘ سیاسی این جی اوز کے لیڈر یہی چاہتے ہیں کہ احساس کے دھاگے الجھتے رہیں اور الجھتے رہیں تاکہ ان کا خرچ پانی نکلتا رہے جی ہاں۔ نواب صاحب آپ کی چودہویں برسی میرے پاس اس احساس کے دھاگے کے ٹوٹنے اور کھوجانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

بلوچ قوم کا درد بیچنے والے دکاندار‘ یہ لکھاری‘ یہ شاعر‘ ان کے احساس کے دھاگے ہیں ہی نہیں کہ ٹوٹ جائیں ان کے آنسو اس وقت نکلیں گے جب ان کے اپنے دل پر چوٹ لگے گی۔

وہ اس درد کو کیا جانیں جو حیات کی ماں کی آہ و بکا کے دوران اٹھتے ہوئے ہاتھ آسمان کو مخاطب کر رہے ہیں اس بوڑھے باپ کے اس ساری دنیا کے بڑے درد‘ کرب کو کیا جانیں‘ وہ اس درد‘ کرب کو بھی بیچ ڈالیں گے این جی کی صورت میں‘ تو کہیں موم بتیوں کی صورت میں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SOURCEڈیلی انتخاب
SHARE
Previous articleکوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کیلئے احتجاج
Next articleنواب بگٹی کی کہانی ان کی زبانی – انور ساجدی
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔