کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

61

پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء شدہ بلوچ فرزندوں کی آئین پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہ کر رہائی کی ہماری اس پر امن و جمہوری تحریک کو آج 4017 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ انتہائی سادہ تھا اور اب بھی وہی مطالبہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان یا اسکی خفیہ ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ بلوچ سمیت پاکستان کی کوئی بھی شہری کوئی ایسی اقدام میں ملوث ہے جو آئین پاکستان کے خلاف ہے تو عدالتوں کے ذریعے اسے گرفتار کرکے اسے آئین پاکستان و عدالتوں کے ذریعے جو بھی سزا دی جائے ہمیں من و عن قبول ہے۔

ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میڈیا نمائںدوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں اور آرمی شہریوں کو اغواء کرکے از خود آئین پاکستان کو اپنے فوجی بوٹوں تلے روند رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ زمین کی جبری الحاق سے لیکر آج تک بلوچ فرزندوں کی نسل کشی جاری ہے۔ ستر کے عشرے میں ہزاروں مری، مینگل بلوچ آرمی نے اغواء کیے تھے آج پچاس سال بعد بھی حکومت پاکستان یہ تک نہیں بتارہی ہے کہ انہیں کہاں اور کونسے اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ سن 2000 سے بلوچوں کی جبری اغواء کا ایک نیا لہر شروع ہوچکا ہے کہ آج تک 54500 سے زائد بلوچوں کو اغوا کیا جاچکا ہے اور بیسیوں ہزاروں کی مسخ شدہ لاشیں ہمیں ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علی اصغر بنگلزئی 20 سال سے غائب ہیں۔ ڈاکٹر دین جان، زاکر جان سمیت ہزاروں بلوچ دس سال سے زائد عرصہ بیت گئے کہ آرمی کے ہاتھوں اغوا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اس وقت کہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں آپ سے مخاطب ہوں، جمیل احمد ولد حاجی عبدالغنی سرپرہ کے جبری اغواء کو پانچ سال اور رمضان بلوچ کے پاکستانی ایجنسیوں و آرمی کے ہاتھوں جبری اغواء کو دس سال مکمل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمیل احمد ولد حاجی عبدالغنی سرپرہ کو پچیس جولائی دوہزار پندرہ کو کوئٹہ کے علاقے گرین ٹاون سے آرمی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اغواء کیا کہ آج تک اسکی کوئی خبر نہیں ہے۔ جامعہ بلوچستان سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جمیل احمد سرپرہ گورنر بلوچستان کے پی آر او تعینات تھے۔ جمیل احمد سرپرہ کے والد بھی دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرح اپنے بیٹے کی راہ تکتے وفات پا گئے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ‏مشکے سے تعلق رکھنے والا محمد رمضان جو 25 جولائی 2010 میں گوادر اپنے روزگار کے سلسلے میں جارہا تھے کہ راستے میں اوتھل چیک پوسٹ پر فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے رمضان کو مسافر بس سے اتار کر شدید تشدد کرتے ہوئے اغوا کیا۔ جس کا عینی شاہد اس کا بیٹا علی حیدر ہے۔ علی حیدر دو ہزار تیرہ میں کوئٹہ تا کراچی اور اسلام آباد 3000 کلومیٹر کے قریب لانگ مارچ میں بھی ہمارے ساتھ رہے کہ جو ہمارے تحریک کے کم عمر ترین ساتھی تھے۔

ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہماری پاکستانی اداروں سے انصاف کی امید مکمل دم تھوڑ چکی ہے کیونکہ تمام ادارے حتیٰ کہ پارلیمنٹ فوج کے باجگزار و تابع ہیں۔ ہماری عالمی انسانی حقوق و انصاف کے اداروں سے درد مندانہ اپیل ہے کہ اپنی مفادات سے بالا تر ہوکر اپنے منشور کے تحت عمل کرکے بلوچ نسلی صفایا کو روکھنے میں اپنا کردار اداکریں۔