لندن: بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف مظاہرہ

119

برمش یکجہتی کمیٹی یوکے کی جانب سے لندن میں ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا مظاہرے میں بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ ریپبلکن پارٹی بلوچ راجی زرمبش سمیت بلوچ عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھارکھے تھے جن پر “برمش کو انصاف دو” بلوچستان میں جنگی جرائم کا خاتمہ کرو“ سمیت دیگر نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے گھر ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر پاکستانی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز بلوچ خواتین کی ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں قتل و غارت و بلوچستان میں جاری اجتماعی سزا اور بلوچ طلبہ کے ساتھ پولیس ناانصافیوں کیخلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

مظاہرے سے بی این ایم ڈائسپورہ کمیٹی کے ڈپٹی آرگنائزر حسن دوست بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری اس بربریت اور نسل کشی جس میں آج ڈیتھ اسکواڈز کو بھی شراکت دار بنایا گیا ہے یہ درحقیقت انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے جو پاکستان پہلے ہی بنگلہ دیش میں استعمال کرچکا ہے کل کے بنگلہ دیش میں پاکستانی الشمس و البدر آج بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کے روپ میں پائے جاتے ہیں جبکہ بلوچ قوم میں موجود وہ میر جعفر اور میر صادق اگر آج یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست اور اسکے فوج کی ہمنوائی اور بلوچ نسل کشی میں براہ راست شامل ہوکر بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا کمزور کر سکتے ہیں تو یہ انکی انتہائی بچکانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ کیونکہ بلوچ قوم کا مقدر قومی آزادی سے ہی منسلک ہے۔

 

مظاہرین سے بلوچ ریپبلکن پارٹی برطانیہ زون کے صدر و مرکزی کمیٹی کے ممبر منصور بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان کی جو صورتحال ہے آج بلوچستان میں جس طرح سے بلوچ خواتین کو انتہائی غیر انسانی تشدد و ریاستی جبر کا سامنا ہے اس جبر کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

منصور بلوچ نے مزید کہا کہ جہاں تُربت و دازن میں بلوچ خواتین کو قتل کیا جاتا ہے تو وہیں دوسری جانب کوئٹہ جیسے شہر میں بلوچ طلبہ کی بے حرمتی کرکے ہماری بہنوں کے دوپٹّے کھینچ کر انہیں زبردستی پولیس تحویل میں لیا جاتا ہے منصور بلوچ نے شرکاء سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج جس طرح کی سختی اور ظلم و جبر سے بلوچ عوام دوچار ہیں انکا ہم سے تقاضہ باہمی اتحاد و اتفاق کا ہے اور ہمیں آپس میں اتحاد پیدا کرکے ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

مظاہرے میں شریک بلوچستان راجی زرمبش کے رہنما عبداللہ بلوچ نے اپنے گفتگو میں کہا پاکستانی تاریخ میں خواتین کی عصمت دری کرنا اور انہیں قتل کرنا ایک نئی بات نہیں پاکستانی ریاست سنہ 1970 میں بنگلہ دیش میں لاکھوں بنگلہ دیشی خواتین کی عصمت دری کرکے انہیں شہید کرچکی ہے۔ اور آج پاکستانی ریاستی فوج اور دیگر خفیہ اداروں کی سرپرستی میں بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کا استعمال کرکے بلوچ خواتین کے ساتھ بھی اُس گھناونے عمل کو دہرایا جارہا ہے پاکستانی ریاست اس پورے ظلم و جبر سے بلوچ قوم میں خوف پیدا کرکے انہیں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے لیکن بلوچ قومی عزم اور سوچ ان گھناؤنے عمل سے مزید پختہ ہوگی۔

عبداللہ بلوچ نے آخر میں برطانوی حکومت سمیت دیگر مہذب ممالک و عالمی اداروں سے اپیل کی کہ پاکستانی فوج و ریاست پر پابندی لگاتے ہوئے پاکستان سے تمام تر تعلقات ترک کرتے ہوئے بلوچ مسائل کا سنگینی سے نوٹس لیں۔

مظاہرہ سے بی این ایم یوکے زون کے صدر حکیم واڈیلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم یہاں برطانوی وزیر اعظم کے گھر کے باہر بحیثیت بلوچ کمیونٹی یکجاہ ہوئے ہیں یہاں موجود تمام شرکاہ نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بلوچستان کی بیٹیوں ملک ناز کلثوم ناز بی بی اور برمش کی آواز بن کر بلوچ قوم کو یہ پیغام پہچانے کی کوشش کی ہے ہم آپ کے ہمراہ کھڑے ہیں اور ریاستی غنڈہ گردی اور غیر انسانی عمل کی مزمت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی فورسز کے بلوچستان میں جاری جرائم کیخلاف عالمی برادری نوٹس لیں۔

حکیم واڈیلہ نے مزید کہا کہ میں اس مظاہرے کی توسط سے بلوچ قوم سے یہ کہنا چاہتا ہوں ہمیں ایسے تمام عناصر کے پیچیدہ عزائم کا بھی بخوبی اندازہ ہونا چاہیے جنہوں نے اپنے دور حکمرانی میں ان ڈیتھ اسکواڈز کو بلوچ سیاسی کارکنان کیخلاف بھرپور استعمال کرکے اس قدر طاقتور بنایا ہے اور آج وہی لوگ جب حکومتی نشستوں پر نہیں تو انہیں ڈیتھ اسکواڈز کے جرائم بھی نظر آتے ہیں۔