حسیبہ قمبرانی آزادی کی علامت ہے – محمد خان داؤد

121

حسیبہ قمبرانی آزادی کی علامت ہے

 تحریر : محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

ہم جانتے ہیں خون کبھی سبز نہیں ہوتا
ہاں پر ہمیں معلوم ہے خون سفید ہوجاتا ہے
جب خون سفید ہوجاتا ہے تو آنکھوں پر اندھے پن کی پٹی بندھ جاتی ہے، پھر کچھ نظر نہیں آتا
ہم جانتے ہیں خون سے کبھی آبیا ری نہیں ہو تی!
ہم جانتے ہیں خون سے کھیتوں میں ہریالی نہیں آتی
پر خون سے، خون ِ ناحق سے انقلاب کے راستے کھلتے ہیں
ہم جانتے ہیں کہ خون کوئی گھاس نہیں، کوئی سبزہ نہیں کہ جسے دیکھ کر دل بہلے
پر خون تو وہ روشنی ہے جو اندھی دلوں کو منور کرتا ہے اندھی ذہنوں کو جلا بخشتی ہے!
ہمیں معلوم ہے کہ پھانسی گھاٹ پر گھاس نہیں اُگتی
پر اگر اس پھانسی گھاٹ پر کوئی سرمچار سر دے رہا ہو تو گھاس کیا، پھر پھانسی گھاٹ پر نیا سورج اُگ آتا ہے، گھاس کی طرح جو انقلاب کا پتہ دیتا ہے۔ جو آزادی کی راہ سجاتا ہے۔ جو پہاڑوں کے پیچھے ڈوب جانے والا سورج دکھاتا ہے، جو پہاڑوں کی اُوٹ سے نکلنے والا سورج پہلے ہی دکھا دیتا ہے۔

آزادی زندگی ہے اور قید موت!
میں یہاں کلثوم بلوچ کا نوحہ نہیں لکھتا، جسے برمش کے احتجاج کے طور پر قتل کردیا گیا
کلثوم بلوچ کو تب قتل کردیا گیا، جب پورا بلوچستان برمش کے لیے جاگ رہا تھا
تمپ میں کلثوم بلوچ کو قتل کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ تم کتنی برمشوں کے لیے احتجاج کرو گے؟
آج ملکناز، کل برمش!
آج چار بچوں کی ماں کلثوم اور کل کوئی اور
آج تربت کی برمش اور کل تمپ کی کلثوم!
کلثوم کا قتل جاگتے بلوچوں کی جدو جہد کو بریک لگانے کے لیے ہے کیوںکہ اب بلوچ اپنے ہاتھوں میں برمش کے بینر تھامیں یا کلثوم بلوچ کے؟ بلوچ راج اپنے ہاتھوں میں مائیک تھام کر برمش کے لیے بات کریں یا کلثوم بلوچ کے لیے؟ بلوچ شعور اپنے ہاتھ میں ملکناز کی تصویر تھامیں آگے چلیں یا کلثوم بلوچ کی؟ بلوچ دانش اپنے ہاتھوں سے برمش کے پوسٹر لکھیں یا چار بچوں کی ماں کلثوم کے؟ کچھ دیر کے لیے ہی صحیح پر بلوچ دانش سوچے گی ضرور کہ وہ کیا کرے۔ کہاں سے سفر شروع کرے؟

پھر سے اپنے ہاتھوں سے برمش کے لیے احتجاجی بینر لکھے یا بہت سی باتوں کر پسِ پشت چھوڑ کر کلثوم بلوچ کے پوسٹر تیار کرے، جسے سونے کے بندوں کے لیے اس کے کان بھی کاٹے گئے جو مجرم صفت اپنے ساتھ کلثوم بلوچ کے سونے کے بندے لے گیا، وہ اپنے خون آلود ہاتھوں سے ان بندوں کے ساتھ وہ کان بھی لے گیا، جن کانوں سے کلثوم اپنے معصوم بچوں کی پکار سنا کرتی تھی
،،ماتا!ماتا!ماتا!ماتا!ماتا!
اور روح سے ان کے پاس حاضر ہو جایا کرتی تھی۔

اب بلوچستان کی دھرتی ایک اور نئی جدوجہد کو دیکھ رہی ہے، جس میں بلوچستان اس بات کا اظہار کریگا کہ اس کی دھرتی پہ اس کی بیٹیوں کو قتل مت کرو اس کی دھرتی پہ ماؤں کو قتل مت کرو!
پر میں یہاں کلثوم بلوچ کا نوحہ نہیں لکھوں کا کلثوم بلوچ کے لیے بلوچستان سوچ رہا ہے کہ وہ کہاں سے صدا لگائے؟ وہ شال کو صدا دے کہ کلثوم کے قتل پر باہر آؤ یا وہ تربت کو کہے کہ اب پھر سے نئے بینر لکھو!
یا وہ کراچی کو کہے کہ باہر آؤ اور اب کوئی اور برمش ماں کو نہ کھوئے!
پر میں یہاں کلثوم بلوچ کا نوحہ نہیں لکھوں گا!
برمش، ملکناز، چار معصوم بچوں کا درد! اور کلثوم بلوچ کا نوحہ کسی اور دن کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں
یہاں اس بیٹی کی بات کرتے ہیں، جس نے کچھ دن پہلے اس ملک کی دیگر ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو بتایا تھا کہ اس کے بھائی احسان قمبرانی کو کیسے گم کر دیا گیا ہے۔ اس کے کزن کو کیسے اُٹھالیا گیا ہے۔

وہ حسیبہ قمبرانی جب اس نے اپنا درد بیان کیا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے!
وہ حسیبہ قمبرانی جب اس نے درد کی باتوں کو چھیڑا تو بے جان کیمرہ بھی آنسوؤں سے گیلا ہوگیا تھا!
وہ حسیبہ قمبرانی جس کی دردیلی باتیں سوشل میڈیا کی معرفت ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں تھیں
وہ حسیبہ قمبرانی جس کی سب باتیں سانول نہ تھیں
پر جس کی سب باتیں بابا فرید کی اس اک لائین میں لکھی جا سکتی ہیں کہ
،،کملی کر کے چھڈ گئے او، پئی کھک گلیاں تاں رولاں!،،
وہ حسیبہ قمبرانی جو دل سے درد بیان کر رہی تھی اور شال کی گلیاں رو رہی تھیں!
وہ حسیبہ قمبرانی جس نے کچھ لمحوں کے لیے ہی صحیح پر اس ملک کے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا
وہ حسیبہ قمبرانی جس نے جب درد کو بیان کیا تو فضولیات کو چُپ کو روزہ لگ گیا
وہ حسیبہ قمبرانی جس نے جو بھی کہا دکھ اور کرب سے کہا!
وہ حسیبہ قمبرانی جس نے درد کی رگ کو چھیڑا اور خود آنسوؤں میں ڈھل گئی
وہ حسیبہ قمبرانی جس نے درد کو زباں دی اور درد بول اُٹھا!
وہ حسیبہ قمبرانی جس کی دردیلی باتیں شال کی گلیوں سے نکلیں اور یورپ کی گلیوں تک پہنچیں
وہ حسیبہ قمبرانی جو اپنے کاندھوں پر جدائی کی صلیب لیے گھوم رہی ہے
وہ حسیبہ قمبرانی جو یسوع جیسی نہیں
پر یسوع بھی تو حسیبہ جیسا نہیں!
وہ حسیبہ جو اب درد سے آشنا ہوئی ہے تو درد ہی ہوگئی ہے!
وہ حسیبہ قمبرانی کو کئی ماہ سے اپنے بھائی کو تلاش کر رہی ہے
جو کبھی پریس کلب کے باہر،کبھی سفر میں اور کبھی اداس کیمپ میں نظر آتی ہے
اس دردوں کی ماری حسیبہ قمبرانی کے لیے پے رول پہ رکھے سوشلی دانشور ایسی پوسٹیں رکھ رہے ہیں کہ اس نے خود کشی کر لی ہے۔ حسیبہ قمبرانی ایک درد ہے اور کیا درد بھی کبھی مرتا ہے
اسی درد کے لیے لطیف نے کہا تھا کہ
،،سب مر جا تے ہیں
درد تم کیوں نہیں مرتے؟!!،،

حسیبہ قمبرانی اپنے بھائیوں کی جدائی میں ایک درد بن چکی ہے، وہ اپنے بھائیوں کو تلاش رہی ہے اور بہت جلد اسے بھائی مل جائیں گے۔ پر پے رول پہ رکھے سوشلی دانشوروں کو شرم بھی نہیں آتی، ان کو شرم آئیگی بھی نہیں۔ ان کے کہنے اور پروپیگنڈہ کرنے سے حسیبہ نہیں مرے گی حسیبہ ایک انتظار ہے، درد ہے انتظار طویل تو ہو سکتا ہے ختم ہو سکتا ہے پر وہ مر نہیں سکتا
درد، سوا تو ہو سکتا ہے، ختم ہو سکتا ہے پر مر نہیں سکتا
تو سنو!
ہم جانتے ہیں خون کبھی سبز نہیں ہوتا
ہاں پر ہمیں معلوم ہے خون سفید ہوجاتا ہے،
جب خون سفید ہوجاتا ہے تو آنکھوں پر اندھے پن کی پٹی بندھ جاتی ہے پھر کچھ نظر نہیں آتا
ہم جانتے ہیں خون سے کبھی آبیا ری نہیں ہو تی!
ہم جانتے ہیں خون سے کھیتوں میں ہریالی نہیں آتی
پر خون سے، خون ِ ناحق سے انقلاب کے راستے کھلتے ہیں
ہم جانتے ہیں کہ خون کوئی گھاس نہیں، کوئی سبزہ نہیں کہ جسے دیکھ کر دل بھیلے
پر خون تو وہ روشنی ہے جو اندھی دلوں کو منور کرتا ہے اندھی ذہنوں کو جلا بخشتا ہے!
ہمیں معلوم ہے کہ پھانسی گھاٹ پر گھاس نہیں اُگتی،
پر اگر اس پھانسی گھاٹ پر کوئی سرمچار سر دے رہا ہو تو گھاس کیا پر پھانسی گھاٹ پر نیا سورج اُگ آتا ہے، گھاس کی طرح جو انقلاب کا پتہ دیتا ہے۔ جو آزادی کی راہ سجاتا ہے۔ جو پہاڑوں کے پیچھے ڈوب جانے والا سورج دکھاتا ہے، جو پہاڑوں کی اُوٹ سے نکلنے والا سورج پہلے ہی دکھا دیتا ہے۔
آزادی زندگی ہے اور قید موت!
حسیبہ قمبرانی آزادی کی علامت ہے
حسیبہ قمبرانی زندگی ہے وہ کئی موتوں کو شکست دیگی
اور مسکرائیگی جب احسان قمبرانی اس گلے لگائے گا
اور حسیبہ کے کانوں میں ایسی صدا سنائی دیگی کہ
،،تو تائین پھتا،
سارا تھک لھی ویا
منھنجے نین جا!،،
میری صدائیں تم تک پہنچے
سارے درد دور ہوئے
میرے نینوں کے!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔