بی ایس او کی قومی پالیسی و شعوری سیاست – صمد بلوچ

89

بی ایس او کی قومی پالیسی و شعوری سیاست

تحریر: صمد بلوچ
(زونل آرگنائزر، بی ایس او کوئٹہ زون)

دی بلوچستان پوسٹ

بی ایس او کے قیام کی وجہ یقینی طور قومی اکابرین نے اس بنیاد پر رکھی کہ قومی سیاست کو ایک نرسری کے ساتھ جوان و توانا اور پرعلم بازو فراہم کی جاسکے 52 سالہ جدوجہد میں بی ایس او نے مختلف ادوار میں مشکلات کا مقابلہ کیا دشمن کے سازشی ذہنیت مظالم و درپردہ طریقے سے سازشوں میں ایک چال ہمیشہ تقسیم کاری دھڑہ بندی ہوئی ہے۔

پہلے ادوار میں سازشی زینیت قیادت پر لڑائی و نظریاتی کشکمش کے وجہ سے بی ایس او کے نام پر مختلف دھڑے بنتے رہے ہے 2006 کے سنگل بی ایس او و تقسیم کے محرکات و عوامل و نقصانات کے بعد جب بی ایس او ایک دفعہ پھر تقسیم ہوئی تو اس دور میں ظاہری تقسیم کی وجہ قیادت پر لڑائی ہی تھی لیکن اسکے بعد بی ایس او کے دو مختلف لاحقوں کے ساتھ موجود رہے لیکن آئینی طور پر موجودہ بی ایس او ہی بی ایس او کے اصل نام کے ساتھ اصلاحی پالیسی کے ساتھ اس وقت میدان عمل میں آیا جب بی ایس او کی قیادت نذیر بلوچ نے سنبھالا اور قومی سیاست کے ساتھ بی ایس او قومی شعور جدیدت و طلباء و طالبات کے علمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

نذیر بلوچ کی قیادت میں بی ایس او نے رجحانی ایشوز و سیاست میں سطحی عوامل کو بڑھانے کے بجائے شعوری طور پر دوستوں کو مضبوط کرنے کا آغاز کیا جسکے تحت بلوچستان بھر میں بی ایس او کے سیمینارز کو روایتی کلچر پر ترجیح دی تمام علاقوں میں شعوری یکجہتی کے بنیاد پر پروگرامز و سرکلنگ کا آغاز کیا گیا۔

نذیر بلوچ کے دور میں سب سے اہم قدم یہ ثابت ہوئی کہ اتنے سالوں کے جمود کے بعد دھڑے بندی کے حقیقت کو تسلیم کیا گیا اور تمام دھڑوں کو اتحاد یکجہتی کی دعوت دی گئی بی ایس او کے قومی پلیٹ فارم پر تمام بلوچ طلباء تنظیم متحد و یکجا نظر آئے ۔

یقینی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں، بی ایس او کی موجودہ پالیسی طلباء کردار کو تعلیمی اداروں کے سطح پر مضبوط کرنے کی ہے اور قومی سیاسی شعور کو مدلل انداز میں اجاگر کرنے کی نہ صرف تنقید کے سیاست میں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی ہے۔

بلوچستان کے طلباء کے ساتھ حالیہ دور میں مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جب بلوچ طلباء بغیر کسی سیاسی شناخت و تنظیمی وابستگی کے اغواء ہورہے ہے تعلیمی اداروں میں بغیر کسی تفریق کے طلباء سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔

آنلائن کلاسز جیسے مسائل پر سب بلوچ طلباء و طالبات یکساں تعلیم کے دروازے بند کئے گئے ہے ان حالات میں تمام طلباء تنظیموں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرکے ایک دوسرے کے بقاء کے نظریے کے تحت اتحاد یکجہتی کے طرف آگے بڑھنا ہوگا جب تک طلباء سیاست دھڑوں کے پوائنٹ اسکورنگ کا شکار رہے گی گرفتاریوں و قربانیوں کے باوجود مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے اسی طرح ایک دوسرے پر سبقت کی آڑ میں کمزور ہوتے رہینگے ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔