بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کے پیچھے مقتدر قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ زبیر بلوچ

60

آن لائن کلاسز کے نام پر استعصال کیا جارہا ہے طلباء اتحاد حکومتی غلط پالیسیوں کے سامنے دیوار بن کے کھڑی ہوگی ۔ چیرمین بی ایس او پجار

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آن لائن کلاسز کا نام ہی طبقات کی نشاندہی کرتا ہے غریب کے بچے سے کتاب چھین کر جہالت اور اندھیروں میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہیں آن کلاسز سے صرف اور صرف ایلیٹ کلاس ہی فیض یاب ہوسکے گا اور اس حوالے سے ایک دفعہ پھر لیپ ٹاپ اسکیم اور فری انٹرنیٹ کے نام پہ طلبہ و طالبات کو جھانسہ دیا جارہا ہے عجیب منطق ہے کرونا بازار میں نہیں یونیورسٹی میں موجود ہے، بازار میں شام تک رش اور چہل پہل ہے جبکہ شام کے بعد کرونا بازار پہنچ جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ہر ایک اسکیم کو رد کرکے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں حکومتی ناکامی کی وجہ ان کی غلط پالیسیاں ہے اور طلباء کے اتحاد سے ان استعصالی اور استعماری قوتوں کے پالسیوں کو ناکام بنا کر حکومت کو گھٹنے ٹھیکنے پہ مجبور کرینگے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے ہراسمنٹ اسکینڈل میں ملوث افراد کو بچانے اور پھر سے یونیورسٹی کے اندر سرگرم کرنے کے لیے سفارش اور پریشر ڈیولپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ثبوت اور گواہوں اور برآمد شدہ خفیہ کیمروں کے بعد بھی ان افراد کو محفوظ راستہ دینا یہاں کے لوگوں کی تذلیل سمجھتے ہیں ان افراد کے لیے بلوچستان کے عوام کے دلوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں اور اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ خود عدالت میں پیش ہو تحقیقاتی اداروں کو تفصیلات بتائیں اور ایڈمن بلاک کے ان تمام کارستانیاں لوگوں کو بتائیں یہ سب کس کے کہنے پر ہوا اور اس میں کون کون ملوث تھے۔

زبیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے طلباء کے ساتھ ملکر آن لائن کلاسز کے خلاف سخت گیر احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں غریب سے تعلیم کا حق چھینے اور جہالت میں دھکیلنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے طلباء اتحاد حکومت کو اس کے غلط پالیسیوں پہ گھٹنے ٹھیکنے پہ مجبور کریگی۔