سورج کا شہر (سفر نامہ) | قسط 24 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

27

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
آئی آگ مانگنے، گھر کی مالکن بن بیٹھی!

انیسویں صدی کے اوائل تک اومان کا سلطان بحرین، گوادر و چاہ بہار کے سواحل، سکوترا کا جزیرہ، کیور یا ماریا جزائر، زنجیبار، اور، ”سب صحارائی“ افریقی سواحل پر بادشاہی کرتا تھا۔

اور یہ جو آپ کو افریقہ میں بلوچ نظر آتے ہیں، یہ بھی اسی زمانے کی بد بختی کی علامتیں ہیں۔ انہی اومانی سلطانوں اور ان کے والیوں نے چار سو سال قبل گھیر گھار کر انہیں افریقہ میں اپنی سلطت کی توسیع کے لیے وہاں ہانک دیا تھا۔ پہلے پہل تو ان کے ہاتھوں پرتگالی حملہ آوروں کو مروا دیا، پھر مزروئی بغاوت کو کچلوا دیا، اور پھر علاقے میں اپنے محلات اور اہم مقامات کی حفاظت پر انہی بلوچوں کو مامور کر دیا۔ ایسے لوگوں کی تاریخ نہیں لکھی جاتی مگر پھر بھی ممباسا میں فورٹ جیزس کا ان کا محاصرہ اور وہاں سے پرتگالیوں کو مشرقی افریقہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال باہر کرنے کا احسان تو پورے افریقہ کے باشندوں کو نہیں بھولتا۔

بلوچ ساحل کے یہ لوگ 1840 ء کی دہائی تک ممباسا، دارالسلام، زنجیبار اور پمبا میں فوجی چھاؤنیوں میں فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے مقامی عربوں اور سوا ہیلیوں میں شادیاں کیں اور ان کے معاشرے میں گھل مل گئے۔ اور پھر ان کے خاندانوں کے اور لوگ بھی وہاں آنے جانے اور رہنے لگے۔ اور پھر انہوں نے کانگو میں، جوگو اور بونیا میں، بستیاں بسائیں، یوگنڈا میں سروتی، اروآ، اور کمپالا میں آبادیاں بنائیں۔ اور تنزانیہ میں ارنگا، ٹابورا، ایمبیا اور روجیوا میں محلے آباد کیے۔ ممباسا میں تو وہ تجارت اور ملازمت کرنے لگے اور یوگنڈا اور تنزانیہ کی زرخیز زمینوں پر جا بسنے والے بلوچ، فارمنگ اور تجارت میں لگ گئے۔ تجارتی مہارت اور بہترین بزنس مین ثابت ہونے پر انہیں پورے افریقہ میں عزت و توقیر نصیب ہوئی۔ دارالسلام کے بلوچوں نے بھی ممباسا کے بلوچوں کی طرح شہری لائف سٹائل اپنایا۔ یہی کچھ نیروبی والے بلوچوں نے کیا۔ پھر بلوچی زبان نے ایسٹ افریقہ کی سواھلی زبان کو جگہ دی اور بلوچی روایتی تہذیبی قدروں نے بھی پسپائی اسختیار کی۔ مگر اس کے باجود بلوچستان کے بلوچوں کی طرح انہیں اپنی شناخت سے پیار تھا اور پیار ہے۔ اپنے بچوں کے بلوچ نام رکھنا، اپنی زبان کی حفاظت کے لیے کوشش کرنا، شادی بیاہ کے بلوچ رسوم کی حفاظت کرنا۔

ہم اُس زمانے کے گوادر کی بات کر رہے تھے۔ ڈاکٹر اسماعیل، مشہور مصنف محمد علی خان کے حوالے سے مسقط کے تحت گوادر کی حالت یوں بتاتا ہے۔ ”اس زمانے میں یہاں دو سو دکانیں تھیں۔ ہر دکان پر تین روپے (ہندوستانی) محصول ادا کرنا پڑتا تھا۔ ایک دکان کا سالانہ کرایا 32 روپے تھا۔ یہاں کے مکانات گچ، پتھروں اور مٹی سے بنائے جاتے تھے اور انہیں کھجور کی شاخوں سے ڈھانپا جاتا تھا۔ یہاں اندرون مکران کے علاقے سے آنے والے تجارتی قافلے کھجوریں، تیل، کھالیں اور اون لاتے تھے۔ گوادر کے باشندے ماہی گیری کے پیشے سے منسلک تھے، اس لیے یہ اپنی مچھلی ان پر بیچتے تھے۔“(2)

انگریز نے پہلے پہل تو گوادر بندرگاہ مسقط کے بادشاہ سے خریدنے یا پٹے پر لینے کی ٹرائی ماری۔ مگر اُس نے نہ دیا۔ البتہ انگریزوں کو ممبئی اور کراچی کے درمیان سمندری راہ گزر اور پھر وہاں سے گوادر تک ٹیلی گراف کی تاریں بچھانے کی اجازت دے دی۔ امام مسقط سید سالم نے انگریزوں کو ایک قطعہ اراضی گرجے اور قبرستان کی تعمیر کے لیے دے دیا۔ انگریزوں نے یہاں ٹیلی گراف کا مرکز قائم کیا اور مشرق میں بمبئی اور مغرب میں بصرہ سے آنے والے بحری جہازوں کے لیے لائٹ ہاؤس تعمیر کیے۔

19ویں صدی کے دوسرے نصف میں برطانیہ نے خلیج فارس میں باقاعدہ ایک شپنگ لائن کھول دی جو مکران کے ساحلی قصبوں کو ایک طرف خلیج فارس کے ملکوں کے ساتھ ملاتی تھی تو دوسری طرف ہندوستان کے ساحلی شہروں سے انہیں جوڑتی تھی۔ ”برٹش انڈیا سٹیم نیو یگیشن کمپنی“ کے سٹیمر اورماڑہ، پسنی اور گوادر کے بلوچ ساحلی شہروں پر ایک ہفتہ چھوڑ کر اگلے ہفتے آتی تھیں۔(3)

اس بلا کے آنے سے ہمارے ماہی گیر، تاجر اور قزاق سب کی کمریں ٹوٹ گئیں۔ اتنی بڑی ٹیکنالوجی کا مقابلہ ہم ڈھاڈری بندوق والے کیا کر پاتے؟۔ لہٰذا بلوچ کی طویل مسافتی کشتی رانی، زوال پذیر ہوئی۔ مگر انڈیا، سری لنکا، بحرہِ احمر کے ساحلوں چین اور ایران، عراق اور مشرقی افریقہ کے ممالک تک بلوچ سمندری تجارت بہت عرصہ بعد تک بھی بہر حال جاری رہی۔

زمین اور سرزمین کی اہمیت کا اندازہ سمندر کے اندر دور جاکر ہوسکتا ہے۔ سمندر بہت خوف ناک مقام ہوتا ہے۔ دنیا میں اسی کا تسلط ہے۔ زمین تو اتھاہ اور مہیب سمندری دنیا میں بس ایک جزیرہ ہے۔

حوالہ جات
-1 ہاشمی، ظہور شاہ/ غوث بخش صابر ”نازک“ اکیڈمی آف لیٹرز پاکستان۔ صفحہ48
-2 دشتی، ڈاکٹر اسماعیل / محمد صادق بلوچ، ”بلوچ تاریخ اور عریب تہذیب“، صفحہ نمبر547-
-3 گزیٹر۔ مکران۔ صفحہ228


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔